کچھ عرصہ قبل تحریر کیا تھا۔ سربراہان مملکت یا اس کی اہم شخصیات کے غیر ملکی دورے صرف ’’بر دکھاوے‘‘ کے دورے نہیں ہوتے نہ ہی ان دوروں کا مقصد اپنے فیشن یا کلچر کو دوسرے ملک تک پہنچانا مقصود ہوتا ہے بلکہ ملکوں کے مفادات کا حصول ان کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل فقط سیرسپاٹے کیلئے خوبصورت لینڈ سکیپ رکھنے والے اور خوبصورت حسینائوں کے دیس کے دورے بھی کئے جاتے تھے اور بہت عرصہ پیچھے چلے جائیں تو ایسے واقعات بھی تاریخ میں ملتے ہیں کہ ہمسایہ ملک کی کسی شہزادی کے حصول کیلئے یا اس کو بھگا لے جانے کے بعد واپسی سے انکار پر جنگیں شروع ہو گئیں جن میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ایک محبت کو پانے کیلئے ہزاروں افراد کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ ’’نیلسن آف ٹرائے‘‘ ایسی ہی ایک کہانی ہے جس پر بعدازاں ایک شاہکار فلم بھی بنائی گئی۔ ہمارے قریب ترین ہمسائے برادر اسلامی ایران کے صدر جناب مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ اور بعض دیگر اہم حکام ان کے وفد میں شامل ہیں۔ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کی اہمیت جاننے کیلئے گزشتہ دو ماہ میں خطے میں ہونے والے واقعات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ پاک بھارت سہ روزہ جنگ ہو چکی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ یکے بعد دیگرے ایران پر حملہ آور ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران پر ماہ اگست کے اختتام پر ایک اور حملے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے امریکہ کا ایک دورہ کیا جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض دیگر امریکی حکام سے ملاقات کی۔ اس دورے کے بعد پاکستان کے ائیرچیف اور بعدازاں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے بعد پاکستان کے وزیر خزانہ کا دورہ امریکہ ہوا۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اس کے بعد چین کے دورے پر گئے، انہی ایام میں بھارتی وزیر خارجہ چین جا پہنچے اور جلد ہی بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اسی عرصہ میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتین یاھو نے امریکہ کا دورہ کیا۔ متحارب ممالک کی لیڈرشپ کے ہنگامی دوروں سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حالات کی سنگینی کس درجہ کی ہے۔ ہر ملک اپنی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق اپنے دشمن اور خطے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ سب سے زیادہ خلفشار اور پریشانی میں امریکی صدر ٹرمپ نظر آتا ہے جسے پے در پے ہر محاذ پر شکست و ہزیمت کا سامنا ہے۔ وہ یوکرین وار میں اپنی اور اپنے اتحادیوں کی شکست پر بوکھلایا ہوا تھا، اس کے بعد بغل بچے کو غزہ میں شکست ہوئی۔ ایران نے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جبکہ ٹیرف وار میں بھی امریکہ اپنے ہی جال میں خود الجھ کر رہ گیا ہے۔ کبھی وہ چین پر سیکڑوں فیصد ٹیرف کی بات کرتا تھا، اس معاملے میں وہ ناک آئوٹ ہو کر اب مصالحت پر آمادہ نظر آتا ہے۔ بھارت نے اس کی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور مہنگے ترین S-35 جہاز خریدنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ فرانسیسی جہاز رافیل گرائے جانے پر خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا، اسے یقین تھا کہ اب بھارت رافیل کو بھول کر امریکی جہاز خریدنے پر مجبور ہو جائے گا جو نہ ہو سکا۔
امریکہ اور امریکی سی آئی اے مسلسل پاکستان ایران اور چین پر نظر رکھے ہوئے ہے، اسے معلوم ہوا کہ کن ایام میں ایرانی صدر پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ انہی ایام میں امریکہ کی طرف سے پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہونے کی خبر پھیلائی گئی اور امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ایک امریکی کمپنی پاکستان میں تیل کی تلاش کرے گی اور یہ وسیع ذخائر پاکستان کی قسمت بدل دیں گے۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ ذخائر اس قدر زیادہ ہیں کہ پاکستان اپنا تیل بھارت کو بھی برآمد کر سکے گا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا دراصل بھارت کے زخموں پر نمک چھڑکنا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے روس سے تیل خریدا ہے، اسے اس کی سزا بھی دی جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ بار بار پاکستان ائیرفورس کی طرف سے بھارت کے رافیل طیارے گرانے کا ذکر کر کے اسے حقیر ثابت کرتا ہے۔ رافیل طیارے گرائے جانا اب بھارت کی چھیڑ بن چکا ہے۔ اذیت پہنچا کر تسکین حاصل کرنا ایک نفسیاتی مرض ہے، ٹرمپ اس کا مریض ہے۔
ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر ہی امریکی صدر نے اعلان کر دیا کہ پاکستان امریکہ سے تیل کی بڑی مقدار امپورٹ کرے گا۔ یہ خبر
امریکی حکومت نے خود ہی غیر ملکی میڈیا کو دی پھر اسے ایک گریٹ ڈیل قرار دیا۔ پاکستان اپنی ضرورت کا فقط پندرہ فیصد تیل خود پیدا کرتا ہے۔ باقی ضروریات امپورٹ سے پوری ہوتی ہیں۔ بڑی مقدار میں آسان اور بعض اوقات ادھار پر تیل ہم سعودی عرب سے حاصل کرتے ہیں۔ امریکہ نے نہایت چابکدستی سے سعودی بزنس پر بھی ڈاکہ ڈالا ہے۔ سعودی عرب سے تیل کا جہاز تین روز میں پاکستان پہنچتا ہے۔ امریکہ سے خریدا گیا تیل تیسرے مہینے طویل سفر طے کر کے پاکستان پہنچے گا۔ اس کا کرایہ اس کی انشورنس ہمارے کس بل نکال دے گی، اس کی قیمت مارکیٹ کے مطابق ہو گی۔ ہمیں امریکہ سے اونے پونے میں تیل نہیں ملے گا۔ آئی پی پی کے بعد اس سودے میں ہمارے لئے کتنی خاک سر پر ڈالنے کیلئے نکلے گی، اس کا درست اندازہ معاہدے اور ریٹ کی تفصیلات سامنے آنے پر ہی ہو سکتا ہے لیکن ماضی میں قطر سے خریدی جانے والی ایل این جی کا ریٹ آج تک سامنے نہ آسکا، پس گمان ہے امریکی تیل کا ریٹ بھی شاید ’’ماں بیٹی‘‘ کے درمیان ہی غائب ہو جائے اور ڈھونڈے سے نہ ملے۔
چین نے پاکستان کو آنے والے ایام میں درپیش خطرات سے آگاہ کیا ہے اور امریکہ کے معاملے میں جذباتی ردعمل کی بجائے محتاط رویہ اختیار کرنے کو کہا ہے جبکہ ایرانی صدر بھی کچھ ایسا ہی مشورہ دے چکے ہونگے۔ ہمارے اپنے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ امریکہ قابل اعتبار نہیں ہے لیکن آج ہم پر ایک نئی دھن سوار ہے کہ ہم امریکہ اور چین کے ساتھ اسی طرح توازن قائم کر لیں جیسا بھارت نے عرصہ دراز تک قائم رکھا۔ وہ چین اور امریکہ دونوں سے فائدہ اٹھاتا رہا۔ توازن کے کھیل میں پڑنے سے پہلے ہمیں غور کرنا ہو گا کہ بھارت ہم سے پانچ گنا بڑا ملک بڑی مارکیٹ اور بڑی اکانومی ہے۔ ہم کس بنیاد پر توازن قائم کر سکتے ہیں، صرف قرض کی پی کر توازن قائم نہیں ہو سکتا۔ اگر خطے میں ہماری کوئی اہمیت ہے تو ہمیں اس کے زور پر امریکہ سے یہ شرط منوانی چاہئے کہ وہ پاکستان پر ایران سے پٹرول اور گیس پائپ لائن کے معاملے میں پابندیاں اٹھائے۔ سرحد کے ساتھ ایران سے اگر گیس اور پٹرول پاکستان کو مل جائے تو حقیقی معنوں میں یہ گیم چینجر ہو سکتا ہے۔ ایرانی پٹرول دس روپے لیٹر میں دستیاب ہے۔ پاکستان پہنچ کر اخراجات اور سرکار کا منافع ڈال کر یہ تیس روپے لیٹر بھی فروخت ہو تو انڈسٹری کا پہیہ چل سکتا ہے۔ عام آدمی کی ڈوبتی سانسیں بحال ہو سکتی ہیں۔ قرضوں کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ مہنگی بجلی اور مہنگا امریکی تیل ہمارا لہو نچوڑ لے گا۔ یہ تو نوشتہ دیوار ہے۔
نوشتہ دیوار
09:14 AM, 4 Aug, 2025