افغان طالبان کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی بے نقاب: پاکستان دشمنی کا نیا 'فنڈنگ ماڈل' منظرِ عام پر

12:39 PM, 4 Apr, 2026

کابل/ مانیٹرنگ ڈیسک: افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ایک اور خطرناک اور گھناؤنا منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ افغان میڈیا ویب سائٹ "آماج نیوز" کے مطابق، شمالی افغانستان میں 'فتنہ الخوارج' (کالعدم ٹی ٹی پی) کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی مہم کو سرکاری سطح پر تیز کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم نے شمالی افغانستان کے مقامی باشندوں پر 'فتنہ الخوارج' کی مالی معاونت کے لیے شدید دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ دہشت گردی کے اس منصوبے کے لیے فنڈنگ مہم اب کابل کے زیرِ اثر علاقوں میں گھر گھر تک پھیل چکی ہے، جہاں غریب افغان شہریوں سے زبردستی رقوم بٹوری جا رہی ہیں۔ ان جمع شدہ فنڈز کا واحد مقصد پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کرنا، اسلحہ کی خریداری اور شرپسندوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا ہے۔
عالمی برادری سے دہشت گردی کے خلاف کیے گئے وعدوں کے برعکس، طالبان رجیم کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ     شمالی افغانستان اب باقاعدہ فتنہ الخوارج کا محفوظ ٹھکانہ اور تربیتی مرکز بن چکا ہے۔    افغان سرزمین کو دانستہ طور پر پاکستان میں معصوم شہریوں کے خون بہانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ "آماج نیوز" کے یہ انکشافات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملے محض اتفاق نہیں بلکہ سرحد پار سے منظم مالی اور عسکری معاونت کا نتیجہ ہیں

مزیدخبریں