بھٹو کی 47 ویں برسی: "روٹی، کپڑا اور مکان" کے نعرے کی گونج اب ہر ضلع میں

12:18 PM, 4 Apr, 2026

لاڑکانہ/کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، سابق وزیراعظم اور دنیائے اسلام کے عظیم لیڈر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی آج اس عہد کے ساتھ منائی جا رہی ہے کہ ان کا مشن ہر حال میں جاری رہے گا۔ اس بار قیادت نے ایک بڑا سیاسی رخ اختیار کرتے ہوئے مرکزی جلسے کے اخراجات بچا کر برسی کو براہِ راست عوام کی دہلیز تک پہنچا دیا ہے۔
 کفایت شعاری پالیسی کے تحت گڑھی خدا بخش میں بڑا اسٹیج تو نہیں سجا، لیکن اس کے بدلے ملک کے ہر چھوٹے بڑے ضلع میں دعائیہ تقاریب نے ایک نئی سیاسی لہر پیدا کر دی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کارکنوں کو اپنے اپنے حلقوں میں متحرک کرنا ہے۔مزارِ شہدا پر آج فضا سوگوار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کی موجودگی میں قرآن خوانی کا سلسلہ جاری ہے۔ قیادت کی جانب سے پیغام دیا گیا ہے کہ اصل طاقت بڑے اجتماعات میں نہیں بلکہ نظریے کی پختگی میں ہے۔
 صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں ذوالفقار علی بھٹو کو "جدید پاکستان کا معمار" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عام آدمی کو زبان دی اور اسے ریاست کے فیصلوں میں شریک کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی برسی محض ایک وفات کی یادگار نہیں بلکہ پی پی پی کے لیے ایک سیاسی ری چارج کا دن ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ "جلسہ نہ کرنے" کا فیصلہ دراصل ایک "سیاسی میچورٹی" ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پی پی پی معاشی بحران میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ آج کی تقاریب میں 1973 کے آئین، ایٹمی پروگرام کی بنیاد اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ جیسے کارناموں کو خصوصی طور پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں