خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ افغانستان کے 32کلو میٹر پر قبضہ کے بعد مزید علاقوں پر افواج پاکستان کے قبضہ کی خبریں مل رہی ہیں اور ہر قدم پر کامیابیاں پاکستان کے قدم چوم رہی ہیں اور دشمنوںکی خواہشات کے بر خلاف ملک میں دہشت گردی کی شرح بھی ” صفر “ ہو چکی ہے ۔ پاکستان کی جانب سے جب بھی فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن شروع کرنے کی بات کی گئی تو ان کے سرپرستوں کی جانب سے مخالفت کی گئی ۔ 2014میں جب آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تو یاد کریں کہ حکومت پاکستان کو کیا کیا دھمکیاں نہیں دی گئیں ۔ اس وقت کہا گیا کہ ایسا کرنے کی کوشش بھی نہ کرنا ورنہ پاکستان میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی ۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ان کی تمام دھمکیاں اسی طرح غلط ثابت ہوں گی کہ جیسا کہ ان سے پہلے ان کی باتیں غلط ثابت ہوتی رہی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہماری باتیں اس وقت بھی سچ ثابت ہوئیں اور اس آپریشن کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کا دائرہ کار سمٹنے لگا ورنہ تو 2010-2011 میں یہ حال تھا کہ ایک ہی دن میں ملک کے مختلف شہروں میں کئی کئی دہشت گردی کی وارداتیں ہوتیں اور پھر یاد ہو گا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انھوں نے تعلیمی اداروں پر خود کش حملوں کی وارننگ بھی جاری کر دی اور اس وقت ہمارے بچے زیر تعلیم تھے اور ہمیں پتا ہے کہ اس تمام عرصہ میں ہمارے اوپر کیا بیتی کہ جب تک بچے واپس گھر نہیں آ جاتے تھے اس وقت تک جان اٹکی رہتی تھی اور محرم اور ربیع الاول کے مقدس ایام میں یہ حال تھا کہ ہر آدمی یہ بات کہنے لگ گیا تھا کہ پاکستان کی نسبت کسی غیر مسلم کافر ملک کی مسجد میں نماز پڑھنا زیادہ محفوظ ہے ۔ آپریشن ضرب عضب اور پھر آپریشن رد الفساد کے بعد پاکستان میں دہشت گردی ختم ہو گئی تھی لیکن پھر 2021میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہزاروں دہشت گردوں کہ جن میں سزائے موت کے مجرم بھی شامل تھے انھیں معافی دلا کر رہا کیا گیا اور صرف یہی نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں افغانستان سے دہشت گردوں کو پاکستان میں لا کر بسایا گیا ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کی معیشت کی راہ میں بارودی سرنگیں بچھا کر گئے تھے کہ جس سے پاکستان کی معیشت اس حد تک کمزور ہو گئی کہ دیوالیہ ہونے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے لیکن بارودی سرنگیں صرف معاشی میدان میں ہی نہیں بچھائی گئیں بلکہ کسی بھی ملک کی معیشت کی ترقی اور کامیابی کے لئے شرط اول امن و امان کی بہتر حالت کو سبو تاژ کرنے کے لئے امن و امان کی راہ میں بھی بارودی سرنگیں بچھائی گئی ۔ معاملہ یہاں بھی نہیں رکا بلکہ اس کے بعد امن بحال کرنے کی ہر کوشش کی راہ میں بھی روڑے اٹکائے گئے اور بڑی بے شرمی کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف ہر کارروائی کی مخالفت کی گئی ۔
ایک بیانیہ یہ بنایا گیا کہ مذاکرات کئے جائیں تو پاکستان نے فتنہ الخوارج کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے اور اتمام حجت کے لئے درجن سے زائد بار اپنے وفود مذاکرات کے لئے افغانستان بھیجے اور پھر قطر اور ترکیہ میں بھی مذاکرات کے کئی دور ہوئے ۔ اس کے بعد جب آپریشن شروع کیا گیا تو پھر افواج پاکستان کی کارروائیوں نے ان کی چیخوں کو آسمان تک پہنچا دیا۔ پاکستان نے ان کی فوجی چھاﺅنیوں کو تباہ کیا اور 40سے زیادہ پر قبضہ کر لیا اور ساتھ میں32کلومیٹر علاقہ پر کنٹرول حاصل کر کے وہاں پاکستانی پرچم لہرا دیا۔ اب پاکستان کی طرف سے نہیں بلکہ افغانستان کے اندر سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ مزید بہت بڑے رقبے پر پاکستان کا قبضہ ہو چکا ہے اور اسی لئے کچھ دن پہلے افغان رجیم نے عرب ملکوں کو بیچ میں ڈال کر ایک بار پھر مذاکرات کے لئے ترلے منتیں شروع کر دیں ۔ پاکستان کا مقصد ہمیشہ امن کی بحالی رہا ہے اور پھر عرب ممالک سے پاکستان کے جس طرح کے برادرانہ تعلقات ہیں تو پاکستان نے ایک بار پھر مذاکرات شروع کر دیئے ہیں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ ان مذاکرات کی نوعیت اب آپریشن سے پہلے والی نہیں ہے کہ جس میں طالبان ہر بات سے انکاری تھے بلکہ اب پاکستان ایک واضح برتری کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے اور اس بار فتنہ الخوارج کے پاس لینے کے لئے کچھ نہیں بلکہ دینے کے لئے بہت کچھ ہے اور پاکستان اسے حاصل کرے گا ۔
فتنہ الخوارج کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان نے پاکستان پر حملے کا جو وقت طے کیا تھا وہ بڑا معنی خیز تھا اس لئے کہ فتنہ الخوارج کے سرپرست اعلیٰ مودی خلیج کی جنگ سے پہلے اسرائیل کا دورہ کر کے آئے تھے اور انھیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر کس وقت حملہ کریں گے اور ان کے خیال میں ایران کا انجام بھی عراق اور لیبیا جیسا ہونا تھا اور اس میں چند دن سے زیادہ نہیں لگنے تھے ۔ ظاہر ہے کہ ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے اور خود پاکستان اس خطہ کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے اہم ترین ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے تو پاکستان کےلئے یہ ایک انتہائی کٹھن وقت ہو گا تو ایسے میں پاکستان پر وار کرنے سے پاکستان خدا نخواستہ جھک جائے گا لیکن خدا کا شکر ہے کہ نہ پاکستان جھکا اور نہ ایران کے متعلق ان کی امیدیں پوری ہوئیںاور خدائے پاک کے فضل سے ہر گذرتے دن کے ساتھ اقوام عالم میں پاکستان کی عزت اور وقار میںاضافہ ہوتا جا رہا ہے اور دشمنوں کا منہ کالا ہو رہا ہے۔
فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن
09:08 AM, 4 Apr, 2026