دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ تیل کی رسد میں کمی کے باعث تیل کی قیمت بڑھتی چلی گئی ہے۔ حالیہ جنگ 28فروری 2026ءکو شروع ہوئی تھی۔ آج بروز ہفتہ 4 اپریل جنگ کو 35 دن ہو چکے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہوشربا حد تک بڑھ چکی ہیں۔ فروری کے مہینے میں کروڈ آئل 57-60 ڈالر فی بیرل تھا جو اب 120 ڈالر فی بیرل کی طرف جاتا نظر آرہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت پر اس کے انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری برداشت کی حد 120 ڈالر فی بیرل کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔ ہم پہلے ہی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ معاشی استحکام کے لئے قرض خواہوں کے نسخے اور ٹوٹکے آزما رہے ہیں لیکن بات بن نہیں پا رہی ہے۔ معاشی معاملات میں گراوٹ پر کسی نہ کسی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن بہتری کی منزل ابھی دور ہی تھی کہ ایران، امریکہ و اسرائیل نے آن گھیرا ہے۔ ہم اس جنگ کے منفی اثرات سے سنبھلنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ تیل کی رسد کو سنبھالا دیا جا چکا ہے۔ پٹرول پمپوں پر تیل موجود ہے۔ عوام کو قطاروں میں لگنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ہے لیکن قیمت خاصی بلند ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ حکومت نے بچت پروگراموں کے ذریعے کچھ چھٹیاں کر کے، کچھ ورک فرام ہوم کا ڈول ڈال کر کچھ ادھر ادھر کر کے معاملات کو سنبھالا دینے کی کوشش کی ہے جن کے اچھے نتائج، کسی نہ کسی حد تک بہتری نظر آرہی ہے۔ عوام کی مشکلات میں کمی ہونے کے باوجود مسائل نمٹ نہیں رہے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ پورے کرنے میں پہلے ہی مشکلات کا سامنا تھا، جنگ میں انہیں دوچند کر دیا ہے۔ بلوم برگ کے ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں اور اگر ایسا ہوا تو عالمی معیشت بہت سی ناقابل اصلاح پیچیدگیوں کا شکار ہو جائے گی۔ جنگ کے ابتداءمیں ماہرین کا خیال تھا کہ تیل کی قیمت 60-80 ڈالر فی بیرل تک رہے گی لیکن یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا اور اب ماہرین کے مطابق قیمت 137 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ شارٹ ٹرم کے رجحانات دیکھتے ہوئے یہ اندازہ درست لگتا ہے۔
جنگ کے باعث معاشی معاملات میں بگاڑ کو روکنے اور اس کے اثرات محدود کرنے کے لئے دو بنیادی عوامل پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ایک رسد کو یقینی بنانا، دوسرا قیمت میں اضافے پر قابو پانا۔ دنیا نے تیل کی رسد کا بحران 1973ءمیں اس وقت دیکھا جب سعودی عرب نے مصر اور شام کی اسرائیل کے ساتھ جنگ میں تیل کی عالمی رسد میں 4.5ملین بیرل روزانہ کی بنیادوں پر کمی کا اعلان کیا۔ یہ اعلان امریکہ کی اسرائیل کو جنگ میں مدد فراہم کرنے کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا۔ دنیا نے دیکھا کہ امریکہ بھر میں پٹرول حاصل کرنے کے لئے میلوں لمبی لائنیں لگ گئیں۔ حالیہ جنگ میں 2کروڑ بیرل روزانہ کی سپلائی کم ہوئی ہے۔ اس سے بحران کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
رسد میں اس پیمانے پر کمی نے جنگ سے قبل قیمت کے حوالے سے 55 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ گیس کی قیمت میں 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یورپ میں روس، یوکرائن جنگ کے باعث پہلے ہی توانائی کا شعبہ بحران کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ جنگ کے باعث یہاں ڈیزل کا بحران بھی پیدا ہوتا نظر آرہا ہے۔ قیمت بڑھنے کے تمام اندازے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ رسد پر بھی قابو نہیں ہے اور قیمت بھی بے قابو ہوتی نظر آرہی ہے۔ جنگ کا دائرہ کار بھی کسی کے قابو میں نہیں ہے۔ فوجی ٹھکانوں پر حملوں کے بعد سویلین ٹھکانے بھی نشانہ بازی کی زد میں آرہے ہیں۔ فریقین ایک دوسرے کے پانی صاف کرنے کے پلانٹوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ گولہ بارود کے ٹھکانے پہلے ہی میزائلوں کی زد میں ہیں۔ فریقین ایک دوسرے کے گولہ بارود کے ذخیروں پر بم برسا رہے ہیں، میزائل باری کر رہے ہیں۔ جنگ جس طرح پھیل رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پینے کے پانی کو صاف کرنے والے پلانٹوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ جنگ پھیل رہی ہے، عسکری ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ سویلین ٹھکانے بھی جنگ کی بربادی کا نشانہ بننے جا رہے ہیں۔ جنگ کی خون ریزی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ جنگ کی ہلاکت خیزباں بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ جنگ کی ہولناکی بڑھ رہی ہے۔
تیل کا بحران بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہماری حکومت اس بحرانی دور میں توانائی کے ذرائع تیل و گیس کی رسد کو تو منظم کرنے میں کامیاب نظر آرہی ہے، کہیں بھی قلت نظر نہیں آرہی ہے۔ پٹرول پمپوں، گیس سٹیشنوں و دکانوں پر دستیاب ہیں۔ ایران نے پاکستان کو مہیا کیا جانے والا پٹرول و گیس ہرمز سے بلا روک ٹوک گزرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ سعودی عرب سے بھی تیل بردار جہاز پاکستان آرہے ہیں، اس لئے قلت نہیں ہے، رسد جاری ہے۔ یہ حکومت کی ایک اچھی اور قابل ستائش کامیابی ہے لیکن دوسری طرف پٹرول ،ڈیزل و گیس کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافہ عوام کے لئے ناقابل برداشت نظر آرہا ہے۔ پٹرل میں 137.23 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 184.49 روپے فی لٹر اضافہ عام شہری کی اقتصادیات پر خودکش حملے سے کم نہیں ہے۔ ہماری معیشت پہلے ہی کچھ زیادہ متوازن اور صحت مند نہیں ہے۔ صنعتی پھیلاﺅ میں کمی، معاشی نمو کی پست شرح اور بیروزگاری نے عام شہری کی قوت خرید میں سکڑاﺅ پیدا کر دیا ہے۔ ٹیکسوں کی بھرمار بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس پر مستزاد ہمارا نظام ہے۔ کمزور، بے ترتیب نظام جس کی چکی میں عام شہری پستا ہی چلا جا رہا ہے ایک ریڑھی فروش سے لے کر جنرل سٹور اور بڑے سٹور کے مالکان تک من مانی کرنے اور عوام کو لوٹنے میں آزاد نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر درست ہیں۔ دکانداروں، سپلائرز اور پیداکنندگان کی من مرضیوں نے معاملات کے بگاڑ میں شدت پیدا کی ہے۔ عام شہری کو حصول انصاف کا یقین ہی نہیں ہے۔ عام شہری کو اپنی شنوائی کے بارے میں امید بھی نہیں اور یقین بھی نہیں ہے۔ ہماری عدالتیں اور نظام انصاف مکمل طور پر ظلم و ناانصافی پر کھڑا ہے۔ نوجوان جو ہماری آبادی کا 63-67 فیصد ہیں اس نظام پر قطعاً یقین نہیں رکھتے ہیں۔ وہ یہاں اپنا حال اور مستقبل نہیں دیکھتے ہیں۔ وہ یہاں رہنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ہر کوئی جو کچھ نہ کچھ کرنا چاہتا ہے وہ بیرون ملک ہی اپنا حال اور مستقبل دیکھتا ہے۔ دن بدن کارآمد افراد کی دستیابی مشکل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ معاشی نمو میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ معیشت پر قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے اور غیر پیداواری اخراجات بھی بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔قرضوں پر طے شدہ سود و اصل زر کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔ حکومت کی ادارہ جاتی مینجمنٹ ہی نہیں معاشی مینجمنٹ بھی عامة الناس کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی ناکامیاں ، مایوسی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ایسے میں ہم بدلتے ہوئے حالات میں اپنے آپ کو کیسے ایڈجسٹ کریں گے، ذرا سوچئے۔
ایران امریکہ جنگ اور حکومتی معاشی حکمت عملی
09:07 AM, 4 Apr, 2026