اپنے بڑوں جنہیں کھیتی باڑی دل و جان سے عزیز تھی سے سُنی ہوئی ایک پنجابی کہاوت کب سے میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود چلی آ رہی ہے۔ یہ کہاوت لوک دانش کا ایک نمونہ ہے اور پچھلے بارہ چودہ دنوں جب سے وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، مجھے مسلسل یاد آ رہی ہے۔ کیا اس کہاوت کو اب بھی اسی مفہوم اور معنوں میں لیا جا سکتا ہے جس میں ہمارے بزرگ اس کو لیا کرتے تھے؟ اس کا جائزہ لینے سے قبل اس کہاوت کے الفاظ کو دیکھتے ہیں ، وہ کیا ہیں؟ پنجابی کہاوت کے الفاظ کچھ یوں ہیں "وَسے چیت ، نہ گھر مُکے نہ کھیت"۔ اُردو میں ان الفاظ کی وضاحت کچھ ایسے ہو گی۔ وَسے (وَسنا) سے مراد برسنا، بارش کا برسنا۔ چیت یا چیتر ، بکرمی سال کی قمری تقویم کا پہلا مہینہ جو14 یا 15 مارچ سے13 یا 14 اپریل تک پھیلا ہوتا ہے۔ مُکے (مُکنا) ختم ہونا۔ نہ گھر مُکے نہ کھیت ، مراد نہ گھر میں ختم ہونے میں آئے ، نہ کھیتوں میں۔ پوری کہاوت کا آسان زبان میں مطلب اور مفہوم یوں ہو گا، چیت کے مہینے میں بارش برسے تو فصل (گندم) کی اتنی پیداوار ہوگی کہ نہ کھیتوں میں ختم ہو گی نہ گھروں میں۔
آج سے پچاس ، ساٹھ برس قبل اپنے بزرگوں اور بڑوں سے اس کہاوت کو سننے کے منظر کو سامنے لاو¿ں تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ کہاوت سناتے ہوئے ان کے جُھریا ں پڑے بوڑھے چہروں پر رونق آ جاتی تھی گویا وہ خوشی کا اظہار کررہے ہوتے تھے کہ چیت کے مہینے میں جو ہلکی پھلکی بارش ہوئی یا ہو رہی ہے، اس کا فصلوں (ربیع کی فصلوں جن میں گندم سرِ فہرست ہے تو اس کے ساتھ چنے، سرسوں، تارا میرا اور توریا وغیرہ کی فصلیں بھی شامل ہیں) پر اتنا اچھا اثر پڑے گا کہ ان کے سِٹے ، خوشے اور دانے خوب موٹے ہوں گے اور فصل کی اتنی پیداوار ہو گی کہ اس کا کھیتوں اور کھلیانوں میں ہی نہیں ، گھروں میں بھی سنبھالنا مشکل ہو گا۔ بلا شُبہ چیت یا چیتر کے مہینے کی ہلکی پھلکی بارشیں ان کے لیے خوشی اور مسرت کا سامان لایا کرتی تھی تاہم کہیں نہ کہیں یہ فکر اور پریشانی بھی ضرور ہوتی تھی کہ خدا نخواستہ بارش کے ساتھ گرج چمک، آندھی طوفان اور ژالہ باری کا سماں بن گیا تو پکی پکائی فصل تباہی و بربادی کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس موسم میں جب جنوب اور جنوب مشرق سے کالی گھٹائیں اُمڈ کر آتی تھیں تو َمر د و زَن بالخصوص بڑوں اور بزرگوں کی زبانوں پر اللہ کے حضور عاجزانہ دعائیں ہوتی تھیں کہ اے رب العالمین! خیر اور سلامتی کی بارش ۔ پھر اکثر اللہ رحمان و رحیم کا کرم ہوتا تھا اور کالی گھٹائیں گرجنے، چمکنے کے بعد کسی بڑے طوفان اور ژالہ باری کے بغیر ٹل بھی جاتی تھیں۔
خیر یہ پچاس ، ساٹھ برس یا اس سے کچھ کم یا زیادہ قبل کی باتیں ہیں۔ اب جب کہ پچھلے چند عشروں سے عالمی موسمی تغیرات کی بنا پر موسمی کیفیات میں بہت کچھ تبدیلیاں رُو نما ہو چکی ہیں اور اس موسم یعنی مارچ اپریل میں جب ربیع کی فصلیں جن میں گندم اور چنوں کی فصلیں سرِ فہرست ہیں پک کر تیار ہونے والی ہوتی ہیں اتنی زیادہ اور لگاتار کئی دنوں تک جاری رہنے والی بارشیں برستی ہیں تو پھر کیا ہمارے بڑے بزرگ جو "وَسے چیت، نہ گھر مُکے، نہ کھیت" کی کہاوت سنایا کرتے تھے، موجود ہوتے تو اب بھی یہی کہاوت سناتے ، شاید ایسا ہی ہوتاکہ وہ سادہ لوح، صاف اور پاک باز لوگ تھے جو اپنے رب کی رحمت سے کم ہی مایوس ہوا کرتے تھے ، لیکن میںنہیں سمجھتا کہ میری طرح کے لوگ اب اس کہاوت کو اسی طرح خوشی سے دہرانے کو تیار ہو سکتے ہیں جس طرح بڑے بزرگ دہرایا کرتے تھے۔ آخر ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ بڑی ظاہر اور واضح ہے کہ کئی کئی دنوں تک جاری رہنے والی لگا تار اور اس مقدار میں برسنے والی بارشیں بہر کیف ربیع کی پکنے پر تیار فصلوں بالخصوص گندم اور چنوں کی فصلوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پورے ملک، بالخصوص پنجاب میں گندم کی فصل کے بارے میں یہ خبریں ہیں کہ بہت شاندار فصل ہے اور صوبہ پنجاب میں میں بائیس ، تئیس لاکھ ٹن کے لگ بھگ کی ریکارڈ پیداوار کی توقع ہے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ اڑھائی، تین ہفتے قبل جو موسمی کیفیات تھیں اور جس طرح گندم کی فصل کے لہلہاتے سڈول پودے اور اِن پر توانا اور بڑے سِٹے اور خوشے دکھائی دیتے تھے، بلا شبہ اس سے یہ امید بندھتی تھی کہ ان شاءاللہ خوب زبردست فصل ہو گی۔
میں اپنی ذات ور ذاتی مشاہدے کی بات کروں تو کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک چھوٹا سا کسان ہوں جسے اپنے آبائی پیشے کاشتکاری اور کھیتی باڑی سے رومانس کی حد تک لگاو¿ ہے۔ اگرچہ اپنے ہاتھوں سے کھیتی باڑی کا کچھ بھی کام نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی ہر سال دو اڑھائی ایکڑ زمین پر گندم کی فصل ضرور اُگاتا ہوں۔ فصل کے لیے تمام ضروری لوازمات اور تقاضے بھی پورے کرتا ہوں۔ سچی بات ہے اس پر بہت اخراجات اُٹھنے کے ساتھ کچھ دباو¿ اور کچھ پریشانی کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے کہ اللہ کرے فصل سنبھالنے سمیت تمام امور بر وقت سر انجام پا جائیں لیکن موسمی تغیرات اور اپریل کے مہینے کی بے وقت بارشوں کی وجہ سے بہر کیف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خیر یہ زمینی حقائق ہیں تو ان کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنی فصل ہو یا دوسروں کی فصل ہو ، اگر وہ خوب لہلہا رہی ہو، خوب جوبن پر ہو تو دِل بہت خوش ہوتا ہے۔ شاید اسے مبالغہ سمجھا جائے میں ہر ہفتے پنڈی سے گاو¿ں جاتا ہوں تو کھیتوں کا ضرور چکر لگاتا ہوں اور کئی کئی گھنٹوں تک کھیتوں میں وقت گزارتا ہوں ۔ وسط رمضان میں کچھ زیادہ گرمی ہو گئی تھی اور میں نے دیکھا کہ میرے گندم کے کھیت کچھ مرجھا رہے ہیں تو میں نے بڑے تردّد اور کوشش سے ان کو پانی لگانے کا بندوبست کیا۔ پانی لگانے کے ایک آدھ ہفتہ بعد کھیتوں میں جانا ہوا تو لہلہاتی فصل، گندم کے پودوں پر بڑے بڑے خوشے اور سِٹے دیکھ کر دِل ربِ کریم کے حضور شکر گزاری کے ساتھ مسرت سے نہال ہوا۔ عید کے بعد اب بارشوں کا سلسلہ شروع ہے تو کھیتوں میں فصل کچھ خراب ہوتی نظر آئی کہ جہاں فصل گھنی تھی اور زیادہ قد آور تھی وہاں وہ کچھ گِر گئی ہے۔ اس سے فصل کی پیداوار کے متاثر ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ کریم کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔خوشی اور اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ گاو¿ں کے آس پاس اور گردو نواح بالخصوص ان زمینوں میں جہاں پچھلے سال جولائی اگست کے دوران دریائے سواں میں سیلاب اور طغیانی کے نتیجے میں دریائے سواں کا پانی پھیلا رہا ہے گندم کی فصل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ دُور دُور تک گندم کے سنہری مائل لہلہاتے کھیت دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے تو امید بھی بندھتی ہے کہ وطنِ عزیز میں گندم کی پیداوار اتنی ہوگی کہ اس سے ملکی ضروریات ہی پوری نہ ہوں گی بلکہ زائد پیداوار بیرونِ ملک بر آمد بھی کی جا سکے گی۔
یہ خوش امیدی اپنی جگہ لیکن سچی بات ہے کہ دل میں کچھ وسوسے بھی پیدا ہوتے ہیں کہ اپریل کے شروع میں موسم نے جو رنگ اختیارکر رکھا ہے اور پچھلے ایک آدھ ہفتے سے وقفے وقفے سے بارشوں کا جو سلسلہ جاری ہے اور بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہوئی ہے، خاص طور پر بلوچستان میں جو طوفانی بارشیں ہوئی ہیں ان سے فصلوں اور قیمتی پھلوں کے باغات کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ اللہ کریم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں گندم کی فصل پکنے والی ہے۔ اس موقع پر تیز دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے اور بارش کا ایک قطرہ بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ پچھلے کئی برسوں بلکہ ڈیڑھ دو عشروں سے وسط اپریل سے مئی کے شروع تک اکثر بارشیں ہوتی رہی ہیں جن کی وجہ سے گندم کی فصل کو بڑے پیمانے پر نقصان ہی نہیں پہنچتا رہا بلکہ اس کی پیداوار بھی تخمینوں سے کم ہوتی رہی ہے۔ پھر پچھلے دو تین سال کے دوران حکومت بالخصوص پنجاب حکومت کی طرف سے گندم کی سرکاری سطح پر امدادی قیمت مقرر نہ کرنے اور خریداری نہ کرنے کی وجہ سے بھی گندم کے کاشتکاروں اور کسانوں کو بہت نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں ۔ اللہ کرے اس بار کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہونے پائے اور گندم کی فصل وقت پر صحیح سنبھالی جا سکے تو کہا جا سکتا ہے کہ پھر اس کہاوت "وَسے چیت ، نہ گھر مُکے نہ کھیت" کا دہرانا دل کو اچھا لگے۔
چیت کی بارشیں۔۔۔!
09:06 AM, 4 Apr, 2026