چوپال سجی ہوئی تھی، سب براجمان تھے،۔چوپال میں آج تو چاچا خیرو بھی تھے، ان کے بارے میں سب کہتے تھے کہ وہ گیدڑ بھبکیاں بہت دیتے ہیں اور چپ کرنے کا نام نہیں لیتے ہیں۔نتھو اور پھتو نے کہا واہ جی واہ آج تو چاچا خیرو بھی موجود ہیں، سنائیں چاچا خیرو آج کیسے ادھر کا رخ کیا۔۔چاچا خیرو بولے۔۔میں تو شکار پور میںشکار کرکے لوٹا ہوں۔۔میں نے وہاں پر بڑے بڑے شکاریوں کی چھٹی کرادی۔۔ اس پر سب ہنسنے لگے۔۔ چاچا جی بھلا وہ کیسے۔۔ اس پر وہ بولے۔۔ بچو ۔۔ میں جیسے ہی ایک ٹولے کے ساتھ گیا۔۔شیر کی دھاڑ سن کر سب بھاگ گئے۔۔۔ میں بچ گیا۔۔۔ اور بندوق تان۔۔ گولی سیدھی۔۔۔ شیر کے کھوپڑی میں۔۔ سب حیران ہوئے اور بولے۔۔ چاچا خیرو۔۔ پھر پھر۔۔۔ بس پھر کیا تھا۔۔۔ میری آنکھ کھل گئی اور میں لاٹھی سے بچوں کوڈراتا ہوا یہاں آگیا۔۔۔ ان کی بات سن کر سب ہنسنے لگے۔۔۔ نتھو اور پھتو نے کہاکہ چاچا جی کوئی اور واقعہ سناﺅ۔۔۔۔چاچا خیرو بولے۔۔ بچو۔۔۔ 'ایک وقت تھا جب میں نے اکیلے دس بندوں کو بھگایا تھا، اب تو میں بوڑھا ہو گیا ہوں ورنہ۔۔۔© سب دوبارہ ہنسنے لگے۔۔۔ اس دوران چپ احتراماً سائیں بھی آگئے۔۔۔ سب احتراماً کھڑے ہو گئے۔۔۔ چپ سائیں اپنی جگہ پر بیٹھ گئے اور کچھ دیر کے بعد گویا ہوئے۔۔بتاﺅ بچو سب کیسے ہو؟۔۔ نتھو اور پھتو بولے۔۔۔سائیں جی سب ٹھیک ہیں پر چاچا خیرو کی گیدڑ بھبکی سے بس ڈر لگتا ہے۔
چاچا خیرو بولے۔۔۔سائیں جی ان کو بتائیں خیرو۔۔۔کس بلا کا نام ہے۔۔ نتھو بولا ہائیں بھلا۔۔۔ ہم تو آپ کو بھلا چنگا ا نسا ن سمجھتے تھے۔۔۔ اس پر سب زور زور سے ہنسنے لگے۔۔۔چپ سائیں بولے۔۔ نتھو اور پھتو میں بھی چاچاخیرو کو کافی عرصہ سے جانتا ہوں۔۔ خیرو چا چا ۔۔۔جان کی امان پاﺅ ں توبولوں۔۔ خیرو چاچا بولے۔۔ سائیں جی۔۔آج تو آپ کی حس مزاح اور حس لطافت عروج پر ہے دل کھول کر بولیں۔۔ خیرو برا نہیں منائے گا ۔۔۔چپ سائیں نے کہا کہ شکر ہے۔۔۔بھائیو اوردوستو!ایک دفعہ چاچا خیرو کے گھر کے باہر کچھ شرارتی لڑکے شور مچا رہے تھے۔ چاچا گھر سے غصے میں باہر نکلے اور گرج کر بولے۔۔اگر میں نے اپنا گنڈاسا نکال لیا تو یہاں لاشوں کے ڈھیر لگ جائیں گے! ۔۔۔ بھاگ جاﺅ سارے۔۔۔ دوستو!ایک لڑکا شرارتی تھا بولا ''چاچا جی! نکال لائیں گنڈاسا، ہم بھی تو دیکھیں!''چاچا خیرو نے فوراً لہجہ بدلا اور بولے۔۔۔بیٹا! تمہارے نصیب اچھے ہیں کہ میں نے محلے داروں کو زبان دی ہے کہ اب خون خرابہ نہیں کروں گا۔ ورنہ تم دیکھتے کہ خیرو کس بلا کا نام ہے!۔
چپ سائیں تھوڑی دیر کے بعد بعد سنجیدہ ہوئے اور بولے۔۔۔ میرے بچو ں، بھائیو اور دوستو! ۔۔۔ چاچا خیرو جیسے لوگ تو ہر جگہ پر ہیں۔۔ چاچا خیرو کا کردار دراصل ہماری معاشرتی زندگی کا ایک حصہ ہے جو ان لوگوں کی عکاسی کرتا ہے جو طاقت نہ ہونے کے باوجود صرف زبان کے زور پر اپنا رعب قائم رکھنا چاہتے ہیں۔دوستو!یاد رکھو چاچا خیرو جسمانی یا مالی طور پر کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اس کمزوری کو چھپانے کے لیے وہ ”جارحانہ دفاع“ کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کی منطق ہے ”اتنا شور مچا¶ کہ سامنے والا خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ جائے اور کمزوری حریف پر حاوی ہو جائے“۔
چاچا خیرو برا تو نہیں لگ رہا۔۔۔ کہیں لٹھ اٹھا کر مجھے ہی نہیں مارنے لگ جائیں۔۔ اور مجھے بھی دھمکی نہ دینا شروع کردیں۔۔ اس پر چاچا خیرو نے کہا۔۔۔ نہ نہ سائیں جی۔۔ آپ تو ہمارے یار غار ہیں۔۔۔چپ سائیں بولے۔۔ خیرو جی۔۔۔ میں اپنی خیرمناﺅں۔۔۔یار۔۔۔ مجھے بھی یہ کہیں گے کہ آپ کا مشہور مقولہ یعنی 'وہ تو بیچ میں اللہ کا خوف آ گیا ورنہ میں اسے کچا چبا جاتا۔۔۔۔ سب کی ہنسی ایسی چھوٹی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ویسے دوستو آج کل ایک ملک کے سربرا ہ یعنی ”قائد“ بھی صبح اور شام آتے ہیں کچھ نہ کچھ پیغام دے ڈالتے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ابھی تباہی آئی لیکن۔ سب کچھ اوپر نیچے ہوگیا ۔۔یہ بھبکیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی۔۔ وہ بھی دل ہی دل میں سوچ رہے ہیںکہ کوئی تو ان کو بھی روک لے اور ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد بھی جلد بر آئے ورنہ۔۔۔ چپ سائیں چپ کرگئے۔
نتھو بولا۔۔۔ سائیں جی آج سے میں بھی ایسے ہی رہوں گا تاکہ لوگ مجھ سے ڈریں اور خوف کھائیں۔۔۔ اور ۔۔ حالانکہ میں نے کس سے لڑنا اور دھمکی تو دور کی بات۔۔۔۔ ہم تو کسی کو جھڑک بھی نہیںسکتے۔۔پھتو بولا۔۔۔نتھو یار تمہیں تو چاچا خیرو سے تربیت لینی چاہئے جیسے وہ کرتے ہیں۔۔۔یعنی۔۔۔ ”میرا ظرف مجھے اجازت نہیں دیتا، ورنہ...‘اور۔۔۔ ”تم جیسے چوزوں پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے، ورنہ...“،،۔ یہ باتیں سن کرسب ہنسنے لگ گئے۔۔۔ چا چا خیرو بھی آج تو جی کھول کر ہنس رہے تھے اور ہنستے ہی جارہے تھے۔۔۔
چپ سائیں دوبارہ بولے۔۔۔ بھائیو اور دوستو! ۔۔۔ اب کچھ سنجیدہ بات کرتا ہوں۔۔۔چاچا خیرو کی گیدڑ بھبکی دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان جب عمل کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے، تو وہ زبان کو ہتھیار بنا لیتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی میدان میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ صرف فضا میں لفظوں کے گولے داغ کر ختم کر دی جاتی ہے۔ یہ وہ گرج ہے جس کے مقدر میں کبھی برسنا نہیں ہوتا۔
خیر۔۔۔صاحبو!چاچا خیرو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب کسی انسان کے قول (بات) اور فعل (عمل) کے درمیان خلیج بڑھتی ہے، تو وہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ معاشرے میں معتبر وہی ہے جس کی خاموشی اس کی گفتگو سے زیادہ بااثر ہو۔ اگر آپ کے پاس طاقت ہے، تو اسے دکھانے کی ضرورت نہیں، اور اگر نہیں ہے، تو جھوٹا رعب آپ کو صرف تماشا بنائے گا۔
حقیقت ہے کہ ہم جب کسی کو ڈراتے ہیں تو دراصل ہم خود ڈرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک متوازن اور اصلاح یافتہ شخصیت وہ ہے جو اپنی کمزوری کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ دوسروں کو مرعوب کرنے کی جھوٹی کوشش کرنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی اصلاح کرے اور سچائی کا راستہ اختیار کرے۔چاچا خیرو کی مثال ہمارے لیے ایسی ہے کہ ©©”الفاظ کی گھن گرج سے کسی کا قد اونچا نہیں ہوتا، قد ہمیشہ سچائی، بردباری اور وقت پر درست عمل کرنے سے بڑھتا ہے۔ ہمیں کھوکھلے پن سے نکل کر کردار کی پختگی کی طرف آنا ہو گا۔۔۔ رہے نام اللہ کا!۔
چاچا خیرو کی گیدڑ بھبکی!
09:06 AM, 4 Apr, 2026