پٹرول، جنگ اور عام آدمی

09:05 AM, 4 Apr, 2026


سیانے کہتے ہیں بری بات مذاق بھی منہ سے نہیں نکالنی چاہیے کہ کبھی نہ کبھی پوری ہو ہی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں جب پٹرول کی قیمتیں بڑھتی تھیں تو دو قسم کے لوگ دفاع کے لیے سرگرم ہو جاتے تھے۔ ایک حکومتی رہنما جو طرح طرح کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جمع تفریق کر کے بتایا کرتے تھے کہ پاکستان اب بھی دنیا کا سب سے سستا ملک ہے۔ ان لوگوں میں شہباز گل سر فہرست ہوتے تھے جو آج کل خیر سے امریکہ میں روپوش ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ عام پی ٹی آئی کارکن تھے جو اپنے بانی کے اس حد تک دیوانے تھے کہ یہ دعویٰ کر دیا کرتے تھے کہ پٹرول پانچ سو روپے لیٹر بھی ہو جائے تو ووٹ پی ٹی آئی ہی کو دیں گے۔ یادش بخیر ان دنوں پٹرول کی قیمت 100 اور 150 روپے کے درمیان گھومتی تھی۔
عام لوگوں کو اس وقت بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بہت پریشانی ہوتی تھی اور آج بھی ہے لیکن پی ٹی آئی کے جو پُرجوش کارکن عام عوام کی پریشانی کو ذرہ برابر بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے آج جب پٹرول کی قیمت 137 روپے کے اضافے سے 321 روپے سے بڑھ کر 458 روپے لیٹر تک جا پہنچی ہے اور ڈیزل کی قیمت 500 روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے تو سب سے زیادہ چیخیں بھی انہی لوگوں کی بلند ہو رہی ہیں۔ حالانکہ پٹرول کی قیمت آج بھی ان کی اس وقت بیان کردہ قیمت سے کم و بیش چالیس روپے کم ہی ہے، البتہ ڈیزل ضرور آگے نکل گیا ہے۔ گو عام آدمی ڈیزل نہیں خریدتا لیکن چونکہ نقل و حمل کے ذرائع میں سب سے زیادہ استعمال ہونے کے باعث، اس کا مہنگائی پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے نتیجے میں اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں جس سے مہنگائی کا طوفان آتا ہے۔ آج اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے جا لگی ہیں تو یہ انہی لوگوں کے منہ سے نکلی ہوئی بدشگونیوں کا نتیجہ ہے جو کہا کرتے تھے کہ پٹرول پانچ سو کا بھی ہو گیا تو خریدیں گے۔
دوسری طرف حکومت بھی ایران امریکہ جنگ کی آڑ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر کے شاید انہی لوگوں سے انتقام لینا چاہتی ہے۔ اسے علم ہونا چاہیے کہ پوری قوم ہی پی ٹی آئی کی حامی نہیں تھی بلکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کی مخالف بھی تھی اور جب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت خاتمہ ہوا تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس پر خوشی بھی منائی تھی۔ حکومت کو پٹرول کی قیمت اگر 500 روپے کے قریب لے کر ہی جانا ہی تھی تو یہ اضافہ صرف ان لوگوں کے لیے کیا جاتا جو پی ٹی آئی اور اس کے بانی کی محبت میں پہلے سے ہی اس قیمت پر پٹرول خریدنے کے لیے تیار تھے۔ حکومت کے حالیہ اقدامات سے تو عام لوگ بھی پی ٹی آئی والوں کے ہم نوا بننے لگے ہیں۔
حکومت کا استدلال یہ ہے کہ ایران امریکہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے کیونکہ اسے عالمی منڈی سے پیٹرول مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے۔ اگر وہ قیمتیں نہیں بڑھاتی تو اسے یہ اخراجات خود برداشت کرنا پڑیں گے جس سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا۔ یہ استدلال سو فیصد درست ہے اور اس کے جواب میں عام آدمی کے پاس کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں بُری طرح پس رہا ہے وہ اتنا مہنگا پٹرول کیسے خریدے جبکہ اس کے وسائل میں بھی کچھ اضافہ نہیں ہو رہا۔ اس پر مستزاد یہ کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ استعمال کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے مگر عام آدمی کی آمدن اتنی کی اتنی ہے، اس میں ایک پائی کا بھی اضافہ نہیں ہو سکا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران مہنگائی نے اتنی بڑی چھلانگ لگائی ہے کہ عام آدمی کی آمدن گھٹ کر آدھی رہ گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے اس آمدن میں اضافے کا کوئی انتظام بھی نہیں کیا گیا۔
اگرچہ حکومت کی طرف سے موٹرسائیکل سواروں کے لیے پٹرول کی قیمت پر سو روپے کی خصوصی رعایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ریلوے کے کرائے بھی نہیں بڑھنے دیئے جبکہ پنجاب حکومت نے بھی پبلک ٹرانسپورٹ کو فری کر دیا ہے۔ یقینا ان اقدامات سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو گا لیکن یہ فائدہ شاید سب لوگوں تک نہ پہنچ سکے کیونکہ یہ فائدے صرف کرائے یا سفر تک محدود ہیں جو یقینا عام آدمی کے روزمرہ کے مجموعی اخراجات سے نمٹنے میں مددگار نہیں ہو سکتے۔ حکومت کوکچھ ایسے اقدامات بھی کرنے چاہئیں جن سے لوگ حقیقی معنوں میں ریلیف محسوس کریں۔ ایسے اقدامات جو ترقی یافتہ ملکوں میں عوام کے لیے کیے جا رہے ہیں جیسے برطانیہ نے مہنگائی کی حالیہ لہر کے پیش نظر فی گھنٹہ کم از کم اجرت میں اضافہ کر دیا ہے، اس کے علاوہ توانائی کے بلوں میں بھی کمی کی گئی ہے اور ادویہ کی قیمتوں کو بھی منجمد کیا گیا ہے۔ 
اس کے برعکس اپنے یہاں ابھی تک مہنگائی سے نمٹنے کے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے جس کے باعث لوگوں کے لیے لیے گھر کا چولہا جلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کی کفایت شعاری مہم کے تحت سرکاری گاڑیوں کا استعمال محدود کرنے اور بڑی سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین پٹرول اپنی جیب سے ڈلوانے جیسے اقدامات کا اعلان تو ضرور کیا گیا ہے لیکن ان اقدامات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے، اسے جانچنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں۔ مزید یہ کہ اس قسم کے اقدامات کا عوام الناس کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں۔ پھر جب لوگ حکومتی اعلانات کے برعکس حکمران طبقات کو اپنے طور طریقوں میں کوئی تبدیلی لاتے نہیں دیکھتے تو عام آدمی میں محرومی کا احساس اور زیادہ بڑھتا ہے۔ کچھ نظر اس طرف بھی ہونی چاہیے۔
آخر میں ایک پرانا قطعہ پیش خدمت ہے جو موجودہ صورت حال کی بھی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں لکھا گیا یہ قطعہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو، عام آدمی کی حالت نہیں بدلتی۔ عرض کیا ہے:
قیمتیں جب اشیا کی بڑھتی ہی رہیں ہر پَل
اور آمدن اپنی اِک جگہ پہ رُک جائے
ایسے میں ذرا سوچو آدمی کرے تو کیا؟
کس طرح رہے زندہ، کیا پیے وہ، کیا کھائے؟

مزیدخبریں