گور پیا کوئی ہور

09:22 AM, 5 Apr, 2025


بلھے شاہ نے کہا تھا
بلھے شاہ اساں مرنا نا ہیں
گور پیا کوئی ہور
 جسم فانی ہے جبکہ روح کو فنا نہیں۔ انسان تو اپنے کردار، کام، فکر اور روح کے حوالے سے زندہ رہتا ہے دیکھا جائے تو 46 سال قبل ذوالفقار علی بھٹو نہیں مرا تھا بلکہ گور ضیا الحق کا مقدر بنی تھی، بھٹو تو آج بھی زندہ ہے۔ 4 اپریل 1979 کا دن ہے صبح 10 بجے کی خبروں میں پہلی خبر نشر ہوئی کہ سابق وزیر اعظم کو آج صبح پھانسی دے دی گئی۔ گویا ایک شخصیت، ایک سیاسی رہنما، ایک عہد، ایک سحر، ایک نغمہ، ایک انسٹی ٹیوشن، ایک تحریک، ایک سفر، ایک منزل کو سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پورے ملک میں صف ماتم بچھ گئی۔ 5 جولائی کے بعد قوم نیزے کی انی پر ٹنگی رہی بھٹو صاحب کا مقدمہ تقریباً بیس ماہ ملکی عدالتوں میں زیر سماعت رہا، اعلیٰ عدلیہ اور عدالت عظمیٰ کے کٹہرے، راہداریاں، دروازے اور عقوبت خانوں کی بیر کیں بھٹو کا آخری دیدار کرتی رہیں۔ بھٹو صاحب کو نواب محمد احمد خاں کے اندھے قتل میں ملوث کیا گیا تھا۔ نواب محمد احمد خاں انگریز کے زمانے میں آنریری مجسٹریٹ تھے۔ شادمان چوک پر دہائیوں بعد نا معلوم قاتلوں کے ہاتھوں اندھے قتل میں موت کے گھاٹ اتر نے والا یہی نواب محمد خان قصوری تھا۔ یہ شخص بھی کیا نصیب لے کر آیا تھا جب با اختیار تھا تو ہندوستان کے سپوت، آزادی کے متوالے اور کرانتی کاری بھگت سنگھ کو سزائے موت دے گیا۔ جب خود مرا تو پاسبان پاکستان قائد عوام، پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ، ایٹمی ٹیکنالوجی کے معمار، تیسری دنیا کے رہنما، اسلامی کانفرنس کے چیئرمین، کروڑوں دلوں کی دھڑکن اور پاکستان کے رہنما کا سر لے لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو پر چلنے والے مقدمے کی حقیقت اب کسی سے چھپی نہیں رہی۔ بھٹو صاحب جانتے تھے کہ انصاف نہیں ہو گا جبھی تو سپریم کورٹ میں انہوں نے ایک سندھی سوالی کا واقعہ سنایا تھا کہ ایک وڈیرے کے پاس کوئی سوالی گیا، سوال کرنے پر وڈیرے نے کہا کہ میرا اصول ہے میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوں جتنے بال ہاتھ آتے ہیں اتنی اشرفیاں دے دیا کرتا ہوں، ضرورت مند سوالی نے کہا کہ سرکار آپ ہاتھ پھیریں ہم قسمت آزماتے ہیں، وڈیرے نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو کوئی بال ہاتھ نہ آیا جس پر سوالی کو خالی ہاتھ لوٹ جانے کا کہا گیا تو سوالی نے کہا کہ ”می لارڈ“ یہ ہاتھ بھی آپ کا تھا اور داڑھی بھی آپ کی ایک دفعہ مجھے ہاتھ پھیرنے دیں اگر کوئی بال بچ گیا تو بات کریں۔ اس حکایت سے ان کی مراد تھی کہ انتظامیہ، عدلیہ اور تمام طاقتیں تو دست قاتل (ضیا الحق کے ہاتھ میں) میں ہیں۔ لہٰذا ان کو انصاف نہیں مل سکتا۔ آج حالات مختلف ہیں آج فیصلہ زندہ ضمیر آزاد اور خود مختار عدلیہ نے کیا ہے جو ایک پلے بوائے آمر کے ساتھ بھی ٹکرا چکی ہے۔
بے شک بھٹو صاحب کے قتل کیلئے عدالت کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ بھٹو صاحب کو بھی زندگی کی امید نہ تھی لیکن وہ سمجھتے تھے کہ ان کو سوئیکارنو کی طرح یا پھر کسی بھی طرح قتل کیا جائے گا مگر اندھی طاقت نے عدالت کے ذریعے قتل کا طریقہ کار چنا۔ در اصل عدالتی طریقہ کار اختیار کر کے ان کو موت کے گھاٹ اتارنا، ایک پیغام تھا اس ملک کے باقی لوگوں کے لیے کہ اداروں پر یقین نہ رکھنا امریکی سامراج، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور اس وقت ملکی اسٹیبلشمنٹ تمام اداروں اور مذہبی ٹھیکیداروں میں گراس روٹ تک سرایت کر چکی ہے۔ بھٹو صاحب کی بے گناہی اور مقبولیت کی انتہا ہے کہ ان کے خاندان سے وابستہ شخص جو کردار کشی کیلئے کمزور سے کمزور میڈیا گروپ کا بھی ہدف ہے، جس کا شمار پاکستان کے چند ناپسند کیے جانے والے مقتدر لوگوں میں ہوا، آج صدر پاکستان ہے۔ اس کے ترجمان کی زبان سے نکلا ہوا نام وزیر اعظم پاکستان ہے۔ یہ بھٹو کی بے گناہی اور مقبولیت ہی ہے کہ ان کی پارٹی کو ان کے بعد چوتھی مرتبہ اقتدار کیلئے منتخب کیا گیا اور ہر مرتبہ اقتدار سے روکا گیا جبکہ ان کی بنائی ہوئی سیاسی پارٹی آج بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ قدرت نے اپنی نشانیاں دکھانے میں کسر نہیں چھوڑی۔ بھٹو 
صاحب کو شہید کرنے کے بعد کسی کو ان کا چہرہ تک دیکھنے نہ دیا گیا قدرت کا انصاف دیکھیں کہ ان کے قاتل اور اس کے رفقا کار کے جنازوں میں ہزاروں لوگ تھے مگر کوئی چہرہ موجود نہ تھا۔ مولوی مشتاق کی میت کا جو حشر ہوا وہ عبرت کی ایک الگ داستان ہے۔ بھٹو صاحب کے غداروں اور مخالفوں میں جو ان کے قتل میں شامل تھے بہت جیئے ہونگے مگر عزت نہ پا سکے جبکہ بھٹو صاحب کے مقدمہ کی نئے سرے سے سماعت صدارتی ریفرنس کے ذریعے ہوئی۔ یہ ریفرنس وطن عزیز کے غریب، پسے ہوئے طبقات اور جمہوریت پسندوں کی جیت تھا۔ احمد رضا قصوری کا سپریم کورٹ کے دروازے پر منہ کالا ہوا تو لوگوں نے ایک دوسرے مبارکبادیں دیں۔ ریفرنس کے حوالے سے چند لوگوں کے عجب تاثرات دیکھے، اس حوالے سے منفی تبصرے گئے کہ جی پھر فلاں مقدمہ بھی کھلے گا، فلاں بات بھی سامنے لائی جائے گی۔ وہ یہ سمجھے کہ شاید عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ بھٹو کو سزائے موت غلط ہوئی ہے تو وہ زندہ ہو جائیں گے اور اقتدار سنبھال لیں گے۔ یہ ریفرنس تو ایک مقدمہ پر آزاد ماحول میں با ضمیر عدلیہ کی نظر ثانی تھی تا کہ تاریخ میں ایک معتبر ادارہ سرخرو ہو سکے اور آئندہ طالع آزماو¿ں کو یقین آ جائے کہ یزیدیت کبھی دلوں اور اصولوں کو فتح نہیں کر پاتی۔ بھٹو مخالفین کے رد عمل سے احساس ہوا کہ بھٹو صاحب پیپلز پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی ان کی وجہ سے زندہ ہے اور بھٹو صاحب اپنے لافانی اور کرشماتی کردار کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین کی وجہ سے زندہ ہیں۔ تاریخ ایسے مواقع ہر کسی کو نہیں دیا کرتی۔ سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ سولی پر لٹکے اس مجاہد کی روح کے ساتھ انصاف کر کے کروڑوں زندہ انسانوں کی روح کے سکون کا اہتمام کرتی۔ جن معاشروں میں انصاف نہ ہو وہاں چین اور اطمینان کبھی نہیں ہو پاتا۔ دیکھنے کو تو 4 اپریل 1979 کے دن بھٹو کو مار دیا گیا لیکن در حقیقت اس روز لحد میں ضیا الحق اترا تھا۔ دوسری طرف مقدمہ کے مدعی کے چہرے پر سیاہی مل دی جاتی ہے۔ پاکستانی عوام کا بھٹو تو امر ہو گیا تھا۔ آج 4 دہائیاں بعد اسی سپریم کورٹ کا فل بنچ ذوالفقار علی بھٹو کو بے گناہ قرار دیتا ہے اور اسی ایوان صدر سے جہاں سے موت کا پروانہ جاری ہوا تھا، نشان پاکستان ملتا ہے اور زندگی کسے کہتے ہیں۔ بقول شاعر نوید
پھول تو مسل دیا ہے تم نے
خوشبو کو بھی قید کرنا تھا

مزیدخبریں