(گزشتہ سے پیوستہ)
سعودی عریبین ائیر لائینز السعودیہ کی جدہ تا اسلام آباد اپنی فلائٹ کا ذکر آگے بڑھاتے ہیں۔ سچی بات ہے کہ طیارے کے اندر کا ماحول بہت پُر سکون اور پرواز انتہائی ہموار تھی۔ لگتا تھا جیسے فضا میں تیرتے چلے جا رہے ہیں۔ کچھ دیر میں مسافروں کو کھانا پیش کیا گیا۔ بلا شبہ تمام اشیاءتازہ، لذیذ اور گرما گرم تھیں۔ میں نے مِیٹ (Meat) کی بجائے ویجی ٹیبل مینو کو ترجیح دی اور سیر ہو کر کھایا، اب کچھ آرام کرنے یا سو جانے کی باری تھی۔ میرے ساتھ دوسری سیٹ پر بیٹھی اہلیہ محترمہ کی تو آنکھ لگ گئی لیکن میرا زیادہ وقت جاگنے اور اپنے سامنے سکرین پر طیارے کے سفر کے رُوٹ (Journey Route) کو دیکھنے میں گزرا۔ میری سیٹ طیارے کی درمیان والی قطار میں ہونے کی وجہ سے میرے لیے اپنے دائیں یا بائیں طیارے کی کھڑکیاں (شیشوں) سے باہر کے مناظر کو دیکھنے کا کچھ موقع نہیں تھا۔ ورنہ اب جب سورج طلوع اور فضا میں دن کا اجالا پھیل چکا تھا اور میرے خیال میں طیارہ یقینا افغانستان کے پہاڑی علاقوں سے گزرتے ہوئے پاک افغان سرحد کی طرف محو پرواز تھا تو میرے لیے باہر کے مناظر دیکھنے اور انہیں اپنے دل و دماغ میں سمونے میں بڑی دلچسپی ہو سکتی تھی۔ لیکن جیسا اوپر میں نے کیا کہ طیارے کے درمیان والی چار سیٹوں میں سے ایک پر بیٹھے ہوئے میرے لیے دائیں بائیں کی طیارے کی کھڑکیوں یا شیشوں میں سے باہر دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ میں کسی حد تک بد دلی کا شکار ہو رہا تھا ، ورنہ اس سے قبل میں نے اپنے ہوائی سفروں کے دوران خواہ وہ اندرونِ ملک اسلام آباد سے کراچی، لاہور، کوئٹہ، گلگت اور سکردو کے ہوں یا بیرونِ ملک کراچی سے جدہ، سنگا پور، بنکاک اور اسلام آباد سے دبئی کے ہوں کے مجھے طیاروں کی کھڑکیوں یا شیشوں سے باہر کے مناظر دیکھتے ہوئے اللہ کریم کی طرف سے عطا کردہ اپنے مشاہدے کی صلاحیتوں یا خوبیوں کی بنا پر بہت کچھ دیکھنے، مشاہدہ کرنے اور دل و دماغ میں بٹھانے کے مواقع ملتے رہے۔
یہاں میں اپنے ایک اسی طرح کے ہوائی سفر جس کا بظاہر جدہ سے اسلام آباد کے اس ہوائی سفر سے کچھ تعلق نہیں بنتا لیکن کسی حد تک اس کا تذکرہ دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے کرنا چاہوں گا۔ یہ پچھلی صدی کے اَسی کے عشرے کے آخری برسوں (1988-89) کی بات ہے ۔ میں فیڈرل گورنمنٹ کینٹ اینڈ گیریژن ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کے زیرِ
انتظام ایف جی سر سید سیکنڈری سکول دی مال راولپنڈی میں بطورِ سینئر ٹیچر (TGT (SG)) تعینات تھا۔ پاکستان اسلامیہ ہائی سکول کالج العین متحدہ عرب امارات میں ٹیچرز کی ضرورت تھی، جس کے لیے میں نے انٹرویو دیا اور میری سلیکشن ہو گئی۔ اگلے چند ماہ وزارتِ تعلیم حکومت پاکستان کی طرف سے ضابطے کی کارروائیوں اور ویزے کے حصول میں لگ گئے۔ ویزہ آ گیا پھر بھی میں شش و پنج اور تذبذب کا شکار تھا کہ جاﺅں یا نہ جاﺅں۔ سچی بات ہے اپنے گھر، اہلِ خانہ بالخصوص اپنے محترم والدین (جو بقید حیات تھے) اور اپنے بیٹوں سعد عثمان ملک جس کی عمر کوئی اڑھائی پونے تین برس تھی اور حارث بلال جو ابھی چھ سات ماہ کا تھا کو چھوڑ کر میرا جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ خیر جیسے تیسے جانے کا پروگرام بن گیا۔ 2 نومبر 1989ءکو پی آئی اے کی اسلام آباد لندن پرواز کے ذریعے دبئی روانگی کی تاریخ ٹھہری۔ اس دور میں پی آئی اے ابھی اس بد حالی اور کسمپرسی کا شکار نہیں ہوئی تھی اور اس کی اسلام آباد براستہ دبئی، لندن کے لیے روزانہ ایک پرواز یا ہفتے میں کم از کم پانچ پروازیں چلا کرتی تھیں۔ ان پروازوں میں اس دور کے سب سے بڑے طیارے بوئنگ 747 استعمال ہوا کرتے تھے۔ اسلام آباد سے لندن کی پرواز کا وقت صبح سوا دس بجے یا اس کے لگ بھگ تھا۔ مقررہ تاریخ یعنی 2 نومبر 1989ءغالباً منگل کا دن تھا میں اپنے عزیز و اقارب اور احباب کے ہمراہ دبئی روانگی کے لیے چکلالہ ائیر پورٹ پر پہنچا۔ پی آئی اے کے بوئنگ 747 طیارے نے مقررہ وقت صبح سوا دس بجے براستہ دبئی لندن جانے کی پرواز بھری تو اس میں میرپور، چک سواری اور آزاد کشمیر کے دوسرے دیہات و قصبات سے تعلق رکھنے والے بہت سے ادھیڑ عمر کے مرد حضرات اور خواتین اور بچے اور جوان لڑکے لڑکیاں بڑی تعداد میں سوار تھے اور اپنی مقامی زبان میں خوب باتیں وغیرہ کر رہے تھے۔ میں ان سے الگ تھلگ طیارے کی کھڑکی یا شیشے سے متصل سیٹ پر اپنے خیالوں میں گم سم اداس بیٹھا ہوا تھا۔ طیارہ چکلالہ ائیر پورٹ سے جانب مغرب مری روڈ اور سیٹلائٹ ٹاﺅن کے اوپر سے گزرتے ہوئے بلندی پکڑ رہا تھا اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ کاش یہ واپس چک لالہ ائیر پورٹ پر لینڈ کر جائے اور میں اس سے اُتر کر بھاگ کر اپنے بچوں کے پاس اپنے گھر پہنچ جاﺅں۔ اب کچھ ایسا ممکن نہیں تھا کہ طیارے نے اپنی منزلِ مقصود کی طرف آگے ہی جانا تھا۔ دن کا وقت تھا، دھوپ نکلی ہوئی تھی اور طیارہ دبئی کی طرف محو پرواز صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان وغیرہ کے کٹے پھٹے نیم پہاڑی علاقوں اور اس کے بعد سطح مرتفع بلوچستان کے خشک، بنجر اور بے آب و گیاہ علاقوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ میں طیارے کی کھڑکی کے ساتھ بیٹھے نیچے کے مناظر کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ کہیں پہاڑ، کہیں وادیاں، کہیں پہاڑی ندی نالوں کی خشک گزر گاہیں، کہیں چھوٹا موٹا ندی نالہ اور دریا اور کچھ سر سبز و شاداب قطعات اور ایک دوسرے سے فاصلوں پر آباد کچھ چھوٹی موٹی بستیاں اور آبادیاں ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے سے گزرتی رہیں۔ میرے آس پاس دیسی لباس میں ملبوس لندن جانے والے نیم خواندہ کشمیری مرد اور عورتیں اور بنی سنوریں نوجوان لڑکیاں ایک دوسرے سے خوب گپیں لگانے اور ہنسی مذاق کرنے میں مصروف تھیں تو بچے خوب ہلہ گلہ اور شور شرابہ کر رہے تھے لیکن سچی بات ہے میں ان سے بے نیاز اپنے ہی خیالوں میں گم سم طیارے کی کھڑکی کے ساتھ آنکھیں لگائے باہر کے مناظر دیکھنے میں محو رہا۔ طیارہ غالباً جنوبی افغانستان کے پہاڑی علاقوں اور قندھار شہر کے نواح کی فضاﺅں میں آگے بڑھتا خلیج فارس کے اوپر سے گزرتا ہوا چار گھنٹوں کی پرواز کے بعد دبئی ائیر پورٹ پر جا اترا تو میرے دل کی اداسی میں اور بھی اضافہ ہو چکا تھا۔
دبئی ائیر پورٹ پر کوئی خاص رَش نہیں تھا۔ اس دور میں بائیو میٹرک کے معاملات نہیں ہوا کرتے تھے۔ کچھ ہی دیر میں میرے پاسپورٹ پر داخلے (Entrance) کی مُہر لگ گئی اور میں ائیر پورٹ کے باہر منتظر پاکستان اسلامیہ ہائی سکول و کالج العین کے ایک سینئر استاد جو اپنی گاڑی پر مجھے العین لے جانے کے لیے آئے ہوئے تھے کے ساتھ اُن کی گاڑی پر بیٹھ کر العین کے لیے روانہ ہو گیا۔ العین میں اگلے دو ماہ میں نے کیسے گزارے اور پھر پاکستان اسلامیہ ہائی سکول و کالج العین اس استعفیٰ دے کے واپس پاکستان آ گیا، اس کی تفصیل کا بیاں محل نہیں ہے، واپس جدہ سے اسلام آباد کے اپنے سفر کی طرف آتے ہیں۔
جدہ سے اسلام آباد کے لیے سعودیہ کی اس فلائٹ کا مقررہ وقت 5 گھنٹے 10 منٹ تھا لیکن ابھی کوئی پونے پانچ گھنٹے گزرے ہوں گے کہ طیارہ اسلام آباد ائیر پورٹ کی فضاﺅں میں پہنچ گیا اور مسافروں سے کہا گیا کہ وہ سیٹ بیلٹ باندھ لیں، کچھ ہی دیر میں ہم اسلام آباد انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں۔ طیارے کی فضا میں بلندی کم ہو چکی تھی اور چند منٹوں میں اُس کے پہیوں نے رَن وے کو چھوہا اور ایک جھٹکے کے ساتھ وہ اپنی مقررہ جگہ پرآ کر رُک گیا۔ (جاری ہے)۔
جدہ سے اسلام آباد۔۔۔!
09:21 AM, 5 Apr, 2025