قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو

09:20 AM, 5 Apr, 2025


5 جولائی 1977 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ہٹا کر ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے ساتھ ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی تمام قیادت کو گرفتار کر کے یا تو جیل بھیج دیا گیا یا نظر بند کر دیا گیا۔ اب ایک طرف بھٹو جیسی قد آور شخصیت تھی تو دوسری طرف جنرل ضیا اور اس جیسے تنگ نظر بونوں کی جماعت تھی۔ ان کے لیے ملک و قوم کے مفاد سے کہیں زیادہ اہمیت اس بات کی تھی کہ ان کا اقتدار محفوظ رہے اور اقتدار کی حفاظت اور طوالت کے لیے ضروری تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کا چراغ گل کر دیا جائے کیونکہ اے این پی کے قائد ولی خان نے کہا تھا کہ قبر ایک ہے اور مردے دو ہیں۔ اس قتل کے مقدمے کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ 11 نومبر 1974 کو احمد رضا قصوری جو کہ رکن قومی اسمبلی تھے، وہ اپنی فیملی کے ساتھ شادی کی ایک تقریب سے فارغ ہونے کے بعد گھر واپس آ رہے تھے۔ آدھی رات کے وقت شادمان کالونی لاہور میں اچانک کچھ نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کی موت واقع ہو گی۔ اس قتل کی ایف آئی آر اسی وقت اچھرہ تھانے میں درج کرا دی گئی تھی۔ اس ایف آئی آر میں احمد رضا قصوری نے اپنے والد کے قتل میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو نامزد کیا تھا۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد حکومت نے جسٹس شفیع الرحمن کو جوڈیشل انکوائری کے لیے نامزد کیا۔ جسٹس شفیع الرحمن کے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پارٹی سے نظریاتی اختلافات تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی رپورٹ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بے گناہ قرار دیا تھا اور اس طرح یہ معاملہ اسی وقت طے ہو گیا تھا مگر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جان کی دشمن اس وقت کی فوجی جنتا نے 24 ستمبر 1977 کو قتل کے اس جھوٹے مقدمے کو دوبارہ کھول دیا۔
جنرل ضیاءنے اس جوڈیشل انکوائری کا ریکارڈ تمام متعلقہ دفاتر سے غائب کرا دیا حتیٰ کہ عبدالستار نجم جو کہ اس وقت شائد اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل تھے ان کی ملک سے غیر حاضری کے دوران ان کے گھر چھاپے کے دوران اس جوڈیشل انکوائری کا جو ریکارڈ تھا وہ بھی چرا کر غائب کر دیا گیا۔ عبدالستار نجم جنرل ضیاءکے دورِ آمریت میں ان کے فسطائی ہتھکنڈوں کی وجہ سے ملک سے باہر چلے گئے تھے اور 1986 میں محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی وطن واپسی میں ان کے ساتھ ہی واپس آئے تھے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو 5 جولائی 1977 کو ان کی حکومت کے غیر آئینی خاتمے کے ساتھ ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور بعد میں 28 جولائی 1977 کو انہیں رہا کیا گیا۔ 3 ستمبر 1977 کو انہیں ان کے گھر 70۔ کلفٹن کراچی سے قتل کے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ 13 ستمبر 1977 کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس کے ایم صمدانی نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ضمانت پر رہا کر دیا۔ جسٹس صمدانی نے اپنے حکم میں واضح طور پر لکھا کہ اس کیس میں ذوالفقار علی بھٹوکو نامزد کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ضمانت پر رہا کرنا جنرل ضیا کی نظر میں ایک سنگین جرم تھا لہٰذا اس جرم کی پاداش میںجسٹس صمدانی کا تبادلہ سندھ ہائیکورٹ میں کر دیا گیا۔ اسی کے ساتھ عدالتی محاذ پر ایک اور بڑی تبدیلی ہوئی کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یعقوب علی خان کو وقت سے پہلے 22 ستمبر کو زبردستی ریٹائرڈ کر دیا گیا اور ان کی جگہ جنرل ضیا کے کاسہ لیس انوار الحق کو چیف جسٹس آف پاکستان بنا دیا گیا۔ بالآخر ایک ناکردہ گناہ کی پاداش میں انہیں پہلے لاہور ہائیکورٹ سے اور بعد ازاں انوار الحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ سے سزائے موت کے حکم کے بعد 3 اور 4 اپریل 1979، (7 جمادی الاول 1399 ہجری بروز بدھ) کی درمیانی رات دو بجے جیل قوانین کے خلاف شہید ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
جس دھج سے کوئی مقتل گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے
 اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
پھانسی کے فوراً بعد ان کے جسد خاکی کو C-130 کے ذریعے صبح سات بجے جیکب آباد اور پھر وہاں سے ایک ہیلی کاپٹر پر گڑھی خدا بخش نوڈیرو لے جا کر دفن کر دیا گیا۔ اسلام کے ٹھیکیداروں کو اسلامی روایات کا اتنا بھی احساس نہ تھا کہ کم از کم جس بیٹی اور بیوی کو بغیر کسی جرم کے پابند سلاسل رکھا ہوا ہے اس موقع پر کم از کم انہیں آخری دیدار کا موقع تو دے دیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
بھٹو صاحب کی پھانسی کی سب سے پہلے خبر آل انڈیا ریڈیو نے 4 اپریل 1979 کو صبح سات بجے سنائی۔ سولہ اپریل 1979 کو امریکی جریدے نیوز ویک نے لکھا تھا ”زیڈ اے بی کو پھانسی دے کر مار ڈالا گیا لیکن آنے والے دنوں میں بھٹو کے نظریات کو ختم کر دینا ناممکن ہو گا“۔ وقت نے یہ پیشن گوئی سچ ثابت کر دکھائی۔ اس پیشن گوئی کے سچ ہونے کا اس سے بڑا اور ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ بھٹو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کی شہادت کے بعد تین مرتبہ عوام نے ان کی پارٹی اور ان کے نظریات پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں حکمرانی کا حق دیا، دیگر گمنام ہو چکے۔ ان کی موت کا حکم سنانے والے نسیم حسن شاہ خود اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کو پھانسی لگانے کا حکم غلط تھا اور اب تو سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو غلط قرار دے دیا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا کر پاکستان کے معاشرے میں جو نفرتوں کے بیج بوئے گئے تھے پاکستان کے عوام اس کی سزا اب تک بھگت رہے ہیں۔

مزیدخبریں