ڈونلڈ ٹرمپ ایک غیر روایتی سیاسی لیڈر ہیں، وہ ایسا ثابت بھی کر چکے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ کسی امریکی صدر نے دوسری ٹرم میں ہار جانے کے بعد تیسری مرتبہ الیکشن لڑ کر کم بیک کیا ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کر دکھایا۔ وہ تیسری دفعہ الیکشن لڑ کر دوسری مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔ وہ عمومی و جاری ٹرینڈز کے خلاف بالکل منفرد اور مشکل بیانیہ بنا کر الیکشن جیتے ہیں۔ امریکی سوسائٹی میں، امریکی معاشرے میں نسل پرستی پائی جاتی ہے۔ رنگ کی بنیاد پر امریکی معاشرے میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ ان تضادات کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے، اس کی وجوہات بھی ہیں۔ امریکہ ریڈ انڈین کی سرزمین تھی، گوروں نے ان کی سرزمین پر قبضہ کیا، انہیں غلام بنایا، حکمرانی قائم کی پھر یہ حکمرانی عالمی سطح پر چھا گئی۔ امریکہ عالمی طاقت بن گیا لیکن اسے عالمی قوت گوروں نے نہیں بلکہ پوری دنیا سے سمٹ کر آنے والی ذہانت و محنت نے بنایا۔ یہ امریکی آئین کی طاقت ہے کہ یہاں رنگ و نسل اور مذہب وغیرہ جیسے تعصبات سے بالاتر ہو کر حکومت اپنے شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرتی ہے۔ اپنے شہریوں، یہاں آنے والوں کو کام کرنے اور آگے بڑھنے کے برابر مواقع مہیا کرتی ہے۔ یہاں پوری دنیا سے کوئی بھی فرد آ کر اپنی قسمت بنا سکتا ہے۔ اسی امکان کے تحت پوری دنیا سے ذہین و محنت کش افراد امریکہ آتے اور اس کی تعمیر و ترقی کا باعث بنتے رہے۔ 4 جولائی 1776 میں 13 ریاستوں پر مشتمل یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ قائم ہوئی اور پھر 250 سال میں یہ عالمی قیادت کے منصب جلیلہ پر فائز ہو گئی۔ دوسری جنگ عظیم میں یہ بات طے ہو گئی تھی کہ برطانیہ اب عالمی طاقت نہیں رہی۔ امریکہ نے جاپان پر 2 ایٹم بم گرا کر جنگ کو فیصلہ کن بنایا اور پھر آنے والے 45 سال کے دوران امریکہ و سوویت یونین کے مابین سرد جنگ جاری رہی امریکہ نے جمہوری اور سرمایہ دارانہ نظام کی حامل دنیا قیادت کی اور اشتراکیت کو شکست دی۔ 90ءکی دہائی میں سوویت یونین 15 ٹکڑوں میں تحلیل ہو گیا۔ دو طاقتی عالمی نظام الٹ پلٹ ہو گیا۔ امریکہ عالمی فاتح کے طور پر ابھرا لیکن نائن الیون نے اسے افغانستان میں 20 سال تک الجھا دیا۔ اس دوران چین عالمی تجارت پر چھا گیا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے چین دنیا کے تین براعظموں تک جا پہنچا۔ چینی مصنوعات دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہیں۔ چینی قومی پیداوار بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ گزرے سال میں چین کی مجموعی قومی پیداوار 19.53 ٹریلین ڈالر جبکہ امریکہ کی 30.34 ٹریلین ڈالر تھی۔ چین ہر لمحہ اس فرق کو کم کرتا چلا جا رہا ہے اور اب وہ وقت دور نہیں جب یہ فرق نہ صرف ختم ہو جائے گا بلکہ چین، امریکی برتری کا خاتمہ کر چکا ہو گا۔ امریکہ نے اپنے آپ کو عالمی چودھری رکھنے کیلئے دنیا کو جنگوں میں دھکیلا، علاقائی تنازعات کو ہوا دی تا کہ اس کا اسلحہ بکتا اور اس کی معیشت کا پہیہ چلتا رہے۔ چین نے اس کے برعکس دنیا میں ایک وکھری ٹائپ کا ماڈل پیش کیا ہے اس کا ماڈل بھی اپنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرنے کی ذمہ داری بھی چین نے خود اٹھا رکھی ہے۔ چین کا یہ ماڈل تعمیر اور ترقی پر مشتمل ہے اور یہ تیزی سے قبولیت عام حاصل کر رہا ہے۔ چین کی مجموعی برآمدات کا حجم 2024ءمیں 5980 ارب ڈالر رہا اس میں 50 فیصد برآمدات بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے جڑے ممالک کو کی گئیں۔ چین ایک معاشی دیو کے طور پر ابھر چکا، عالمی تجارت پر اس کی برتری قائم ہو چکی ہے۔ گزرے سال میں چین نے تجارت میں 9921 ارب ڈالر کا سرپلس کمایا یعنی اس کی بین الاقوامی تجارت اس کے حق میں رہی جبکہ امریکہ نے اسی عرصے کے دوران 3005 ارب ڈالر کی اشیاءو خدمات برآمد کیں گویا چین کی برآمدات سے نصف چین یہ فرق بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنی پیداواری صلاحیت بڑھائی ہے بلکہ معیاری اور قیمتی اشیاءکے پیداواری حجم میں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ اضافہ کیا ہے۔ جس کے باعث اس کی برآمدی آمدنی مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت تین براعظموں بشمول ایشیا، یورپ اور افریقہ میں انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی۔ سڑکیں، ریلویز اور بندرگاہیں تعمیر کیں۔ صنعتی زونز قائم کیے پھر پیداواری سہولیات پر سرمایہ کاری کر کے کمائی شروع کی۔ یہ ایسا ماڈل ہے جس میں فریقین
فائدہ اٹھاتے ہیں چین اپنے ساتھ جڑنے والی اقوام کو معاشی طور پر اٹھاتا ہے ترقی کا حصہ بناتا ہے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام گزری ایک صدی کے دوران اپنے برگ و بار دنیا پر آشکار کر چکے ہے۔ اس کا نتیجہ جنگیں، قحط، غربت اور بدحالی کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔ عالمی نظام حکمرانی دنیا کیلئے عذاب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ عالمی نظام تجارت اور عالمی نظام زر مخصوص اقوام کے فائدے کیلئے کام کرتا رہا ہے۔ عالمی سرمایہ داروں نے اقوام متحدہ، عالمی بینک، آئی ایم ایف، لندن و پیرس کلب اور ایسے ہی اداروں کے قیام کے ذریعے چھوٹی اور غریب اقوام کو محکوم بنانے، انہیں قرض کے پھندے میں پھنسا کر اپنی بات منوانے اور اپنا حلیف بننے پر مجبور کرنے کا کام لیتے رہے ہیں۔ گزرے سو سال کے دوران سائنس اور ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کی ہے لیکن چھوٹی اور غریب اقوام کو ان کے ثمرات حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ دنیا کی کثیر آبادی اب بھی ضروریات زندگی سے محروم ہے۔ غربت کا شکار ہے، ایجادات کے ذریعے امیر اقوام اپنا معیار زندگی بہتر سے بہترین بنا رہی ہیں۔ امراءاپنی تجوریاں بھر رہے ہیں جبکہ خلق خدا کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ چین نے اپنا ہی ایک عالمی نظام ترتیب دینے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ چین اپنے ساتھ جڑنے والی اقوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی کا بندوبست بھی کرتا ہے۔ عالمی تجارت پر چھا رہا ہے عالمی زر کی منڈی میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے جانے لگے ہیں۔ چین ڈالر کی بجائے لوکل کرنسی میں تجارت کی حوصلہ افزائی بھی کرنے لگا ہے۔ کئی ممالک میں اس نے اپنے کمرشل بینک قائم کرنا شروع کر دیئے ہیں اور اسی ملک کی کرنسی میں لین دین کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کر دی ہے۔ گلوبل سٹاک مارکیٹ میں بھی چین کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ایسی صورتحال میں امریکہ کا 100ممالک سے امریکہ کی طرف برآمدات پر اضافی ٹیکسوں کا نفاذ قابل فہم ہے۔ ان ممالک کی برآمدات پر ٹیکس لگانے کا مطلب ہے کہ ان کی اشیاءامریکہ میں مہنگی ہوں گی مثلاً پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف کا مطلب ہے کہ پاکستان جو چیز امریکہ برآمد کریگا وہ جونہی امریکہ پہنچے گی اس پر 10 فیصد فلیٹ ٹیکس +29 فیصد اضافی ٹیرف لاگو ہو جائے گا۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو 39 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ 100 ممالک کی برآمدات، امریکہ میں مہنگی اور امریکی اشیاءسستی ہوں گی۔ اس طرح امریکہ عالمی تجارت میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دیکھتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی تجارت پر خودکش حملہ
09:19 AM, 5 Apr, 2025