4اپریل… بھٹو کی پھانسی کے آخری لمحات (پہلا حصہ)

09:43 AM, 4 Apr, 2025

پیارے پڑھنے والو… آج 4 اپریل ہے اور آج پاکستان کے سابق وزیر اعظم آج ذوالفقار علی بھٹو کی 46ویں برسی ہے۔ بھٹو کی سیاست سے لے کر پھانسی گھاٹ تک ایک طویل تاریخ ہے جو نصف صدی سے زائد مدت پر محیط ہے۔ میرے سامنے کرنل رفیع الدین کی کتاب ’’بھٹو کے ساتھ 323دن‘‘ پڑی ہوئی ہے۔ کرنل رفیع الدین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اڈیالہ جیل راولپنڈی سے کوٹ لکھپت جیل تک 323دن گزارے اور وہ بھٹو کی آخری زندگی کے 323دنوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ روز اوّل سے لے کر پھانسی کی صبح تک کیا ہوا، یہ ایک بہت بڑی تاریخ ہے۔ اس کتاب کا اہم باب بھٹو کے آخری لمحات جب جیلر نے بھٹو کو بتایا کہ آپ کو آج صبح پھانسی دینا ہے۔ اس وقت لے کر پھانسی گھاٹ تک اور پھر جب تارا مسیح نے 2بجے جیل کے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر یعنی قانون کے مطابق پھانسی کے قانون کے مطابق 5بجے فجر کا وقت ہے مگر بھٹو کو رات کے پچھلے پہر یعنی 2بجے پھانسی دیدی گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک فوجی ڈکٹیٹر نے سکھ کا سانس لیا تو دوسری طرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک المناک باب رقم ہو گیا۔ 4اپریل 1979ء کو ایک سیاسی گھرانے کو ختم کرنے کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔ 
آج کے اس المناک دن کے حوالے سے کرنل رفیع کی کتاب کا آخری باب یہاں رقم کرنا چاہتا ہوں تا کہ بھٹو پر کیسے گزرے۔ آیئے اس کتاب کا ایک اہم باب تاریخ کے حوالے کر دیں۔ پھانسی کی رات کے یہ بیتے لمحات پڑھتے چلیں۔ 
آخر کار حکام نے دو اپریل 1979ء کی شام آخری فیصلہ کیا کہ بھٹو صاحب کو 3 اور 4اپریل 1979ء کی درمیانی رات 2بجے پھانسی دیدی جائے۔ جیل کی کتاب قوانین (Jail Manual)کے مطابق پھانسی کا وقت صبح سویرے ہوتا ہے، لیکن حکومت نے بھٹو صاحب کی پھانسی کا وقت رات کو مقرر کیا جس کی وجہ مجھے معلوم نہ ہو سکی۔ 
بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی بھٹو صاحب کے ساتھ آخری ملاقات ! 
بھٹو صاحب کی پھانسی کا آخری فیصلہ ہو جانے پر 3اپریل 1979ء صبح سویرے بھٹو خواتین کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں ملاقات کی اطلاع کر دی گئی تھی۔ ان کو لانے والی گاڑی جیل میں 11بجکر 15منٹ پر داخل ہوئی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ انہیں گیٹ سے سیکورٹی وارڈ تک لے گیا، اس دوران انہوں نے چودھری یا محمد سے پوچھا کہ یہ ملاقات کس سلسلے میں ہے۔ اس نے نہیں بتایا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ بیگم بھٹو اور محترمہ بے نظیر نے بھٹو صاحب کے ساتھ ملاقات ساڑھے 11بجے شروع کی۔ 
مجھے بتایا گیا کہ قانون کے مطابق بھٹو صاحب سیل کے اندر ہیں اور باہر سے لو ہے والے جھے پتا لگ رہا بیگم نصرت بھٹو کے لئے سیل کے دروازے کے ساتھ باہر کرین لگادی گئی جب کہ محترمہ بے نظیر بھٹوئیل کے جنگلے کے باہر دالان کے فرش پر بیٹھ گئیں اور باپ بیٹی کے درمیان میل کے آہنی گیٹ کی سلاخیں حائل رہیں۔ یہ ملاقات بعد دو پہر دو بجے تک جاری رہی۔ ملاقات شروع ہونے کے چند لمحوں بعد بھٹو صاحب نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ کیا یہ خری ملاقات ہے؟ جس کا اس نے ہاں میں جواب دیا۔ بھٹو صاحب نے پھر پوچھا کہ ان کے باقی رشتہ داروں کی ملاقات کا کیا ہوگا۔ چودھری یار محمد نے انہیں بتایا کہ خواتین کی ملاقات کے بعد ان کو ان سے ملا دیا جائے گا۔ بھٹو صاحب نے مس بے نظیر کو ایک طرف ہونے کو کہا اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو اشارے سے اپنے بالکل نزدیک بلایا اور پوچھا کہ واقعی یہ آخری ملاقات ہے۔ انہوں نے جواب میں بتایا کہ ہاں یہ درست ہے۔ پھر مسٹر بھٹو نے پوچھا کہ آخری فیصلے کا کیا ہوا۔ اس پر یار محمد نے جواب دیا کہ وہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ پھر بھٹو صاحب نے پوچھا کہ کسی وقت ؟ انہوں نے جواب دیا معمول کے مطابق یعنی صبح ساڑھے پانچ بجے۔ واپسی پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے مجھے بتایا کہ بھٹو صاحب نے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ کہا کہ بس سب ختم (Thats All)  اور اس نے جواب دیا : جی جناب۔ 
میری لمحہ بھر خاموشی پر دوبارہ کہا، رفیع یہ کیا ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے؟ میں نے جواب دیا: جناب میں نے کبھی آپ کے ساتھ مذاق کیا ہے؟ 
انہوں نے فوراً کہا تمہارا کیا مطلب ہے؟ پھر دہرایا تمہارا کیا مطلب ہے؟ میں نے جواب دیا: جناب آخری حکم مل گیا ہے، آج آپ کو پھانسی دی جارہی ہے۔ 
مسٹر بھٹو میں پہلی مرتبہ میں نے وحشت کے آثار دیکھے۔ انہوں نے اونچی آواز میں اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے کہا بس ختم ؟ بس ختم۔ 
میں نے جواب میں کہا: جی جناب۔ 
بھٹو صاحب کی آنکھیں وحشت اور اندرونی گھبراہٹ سے جیسے پھٹ گئی ہوں۔ ان کے چہرے پر پیلاہٹ اور خشکی آگئی جو میں نے پہلے بھی نہ دیکھی تھی۔ میں اس حالت کو صحیح بیان نہیں کرسکتا کہ حالت صحیح ہے۔
انہوں نے کہا: کس وقت ؟ پھر کہا: کس وقت اور پھر کہاں آج؟ میں نے اپنے ہاتھوں کی سات انگلیاں ان کے سامنے کیں جیسے ایک جمپ ماسٹر پیر جمپ سے پہلے ہاتھوں سے وقت بتاتا ہے۔ 
انہوں نے کہا: سات دن بعد۔ 
میں نے ان کے نزدیک ہو کر سر گوشی میں بتایا : جناب گھنٹے۔ 
چند لمحوں کے وقفے کے بعد انہوں نے کہا: رفیع بس! میں نے اپنے سر کو ہلاتے ہوئے ہاں کا اشارہ کیا۔ 
رات بارہ بجنے میں ایک منٹ کم میں، جیل سپرنٹنڈنٹ جیل ڈاکٹر اور مجسٹریٹ کو لے کر سیکورٹی وارڈ کے سیل میں داخل ہوا۔ بھٹو صاحب سیل میں گرے پر شمال جنوب میں پہلو سے لیٹے ہوئے تھے اور ان کا منہ سیل کے دروازے کی طرف تھا۔ جب سیل کا تالا کھولا جا رہا تھا تو چودھری یا رمحمد اور جیل ڈاکٹر نے دیکھا کہ بھٹو صاحب نے اپنی ایک آنکھ کھول کر ہم سب کو دیکھا اورپھر آنکھ بند کرلی۔ میں نے اور چودھری یار محمد نے اندر داخل ہوتے ہی بار بار بھٹو صاحب کا نام لے کر پکارا مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے جیل ڈاکٹر صغیر حسین شاہ صاحب سے کہا کہ وہ بھیس سٹیتھوسکوپ سے۔ صاحب کو چیک کریں۔ڈاکٹر نے ان کے سینے کا معائنہ کیا اور ان کی آنکھ کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور میرے کان میں بتایا کہ بھٹو صاحب ٹھیک ہیں۔ میں نے بھٹو صاحب کو پھر آواز دی مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے ان پر جھک کر ان کے کند ھے کو ہلایا اور ان کو پھر پکارا مگر کوئی جواب نہ آیا۔ میں نے ڈاکٹر سے پھر کہا کہ ان کو چیک کریں۔ ڈاکٹر نے ایک بار پھر ان کی نبض اور چھاتی کا معائنہ کیا اور اٹھ کر میرے کان میں سرگوشی کے ساتھ بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ رات ایک بجکر دس منٹ پر بھٹو صاحب خود اْٹھ بیٹھے۔ مسٹر قریشی نے انہیں بتایا کہ نہانے کے لئے گرم پانی موجود ہے مگر بھٹو صاحب نے جواب دیا کہ اب وہ نہانا نہیں چاہتے۔        (جاری ہے)

مزیدخبریں