پاکستان کے مسائل کا حل: ہارڈ سٹیٹ؟

09:39 AM, 4 Apr, 2025

دنیا میں ریاستوں کو عمومی طور پر دو بڑے نظریاتی فریم ورک میں دیکھا جاتا ہے: ہارڈ سٹیٹ (Hard State ) اور سافٹ سٹیٹ (Soft State)۔ ہارڈ سٹیٹ وہ ہوتی ہے جو اپنے قومی مفادات کی سختی سے حفاظت کرتی ہے، ملکی قوانین کی بالادستی اور یکساں و موثر اطلاق کو یقینی بناتی ہے، اپنی سرحدوں کی مؤثر نگرانی و نگہبانی کرتی ہے، اور داخلی و خارجی خطرات کا بروقت اور بھرپور قوت سے جواب دیتی ہے۔ اس کے برعکس، سافٹ سٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں کمزور اور مصلحت پسند حکمرانی، ملکی قوانین کا ناقص نفاظ، اور ضروری و بروقت فیصلہ سازی میں پس و پیش کا رویہ اپنایا جاتا ہے۔ نیز انہی عوامل کی وجہ سے وہ درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کا بھی مؤثر طور پر مقابلہ نہیں کر پاتی۔
اس وقت پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے پیش نظر پاکستان کے آرمی چیف کے ملک کو ہارڈ سٹیٹ بنانے کے بیان کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ کیا اسے اب ہارڈ سٹیٹ بننے کی ضرورت ہے؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے، تو کیا اس سے اس کی سالمیت اور بقا محفوظ ہو سکے گی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی، مستقل بیرونی سازشوں، اندرونی خلفشار و بدانتظامی، بد عنوانی اور ان سب کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی و معاشی بحرانوں کا شکار چلا آ رہا ہے۔ لہٰذا پاکستان کی جغرافیائی، سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کے طور پہ اس کا اک ہارڈ سٹیٹ بننا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔  
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہارڈ سٹیٹ بن کر پاکستان کیسے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرے گا؟ تو اس کا جواب کچھ ممالک جو تبدیلی کا یہ سفر طے چکے ہیں ان پہ تھوڑی سی ریسرچ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ راقم نے اس ضمن میں کچھ ممالک کے ایسے تجربے اور تبدیلی کا بغور جائزہ لیا تو کچھ اہم نکات سامنے آئے جن سے ایک ہارڈ سٹیٹ درج ذیل طریقوں سے پاکستان کے استحکام کو یقینی بنا سکتی ہے۔ آئیے ان کا سرسری احاطہ کرتے ہیں۔ 
 قانون کی بالادستی اس سفر میں نقطہ آغاز ہو گا۔کیونکہ ایک سخت گیر ریاست میں قانون کی خلاف ورزی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جاتا۔ کرپشن، بدعنوانی، اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت قوانین نا صرف بنائے جاتے ہیں بلکہ ان کا فوری اطلاق کرتے ہوئے مذکورہ اشخاص، محکموں اور سرکاری و نیم سرکاری تنظیموں کے خلاف بلا رو رعائت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے، جس سے عوام میں اعتماد بحال ہوتا ہے اور ریاست مزید مستحکم ہوتی ہے۔ پاکستان، گورنس کے مسائل کے 
ساتھ ساتھ فرقہ واریت، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی جیسے مسائل کا شکار بھی چلا آ رہا ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ صرف ایک ہارڈ سٹیٹ ہی ملکی سالمیت کے خلاف سرگرم ایسے عناصر کو سختی سے کچل بھی سکتی ہے اور وطن عزیز میں یک نکاتی ایجنڈے یعنی قومی یکجہتی کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ اسی طرح جہاں اندرونی خطرات سے موثر طریقے سے نمٹا جا سکتا ہے وہیں پاکستان کو سالہا سال سے اپنی سرحدوں پہ بھارت، افغانستان اور دیگر خطوں سے مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یقینا" ایک مضبوط اور فیصلہ کن ریاست ہی بروقت اور مشکل فیصلے کر سکتی ہے جس سے بیرونی خطرات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک ہارڈ سٹیٹ معیشت کو درپیش مسائل پہ قابو پاتے ہوئے اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار اور منافع بخش ماحول فراہم کر سکتی ہے، جس سے معیشت تنزلی سے نکل کر ترقی کی راہ پہ گامزن ہو سکتی ہے۔ 
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں ایسی مثال یا مثالیں موجود ہیں جہاں سوفٹ سے ہارڈ سٹیٹ بن کر ممالک نے اپنی سالمیت اور ترقی کو یقینی بنایا ہو۔ تو اس کا جواب مثبت ملتا ہے۔ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جنہوں نے ہارڈ سٹیٹ کا ماڈل اپنا کر خود کو نا صرف داخلی اور خارجی خطرات سے بچایا ہے بلکہ ترقی کرتے ہوئے دنیا میں اپنا اعلیٰ مقام بھی بنایا ہے۔ 
ایسے ممالک میں سرفہرست پاکستان کا ہمسایہ اور دوست ملک چین ہے۔ اور اس ضمن میں بہترین مثال ہے، جہاں ریاست نے سخت قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے نہ صرف داخلی استحکام قائم کیا بلکہ تیزی سے ترقی بھی کی۔ کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی میں چین نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی، علیحدگی پسند تحریکوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، اور اپنی معیشت کو مستحکم اور مضبوط کیا۔ چین کی حکومت نے سنکیانگ، تبت اور ہانگ کانگ میں کسی بھی قسم کی اینٹی سٹیٹ یا علیحدگی پسند سرگرمیوں کو سختی سے کچل کر قومی یکجہتی کو بھی یقینی بنایا۔ سنگاپور اسی طرح کی ایک اور مثال ہے جہاں سخت قوانین، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس اور سخت حکومتی نظم و ضبط نے اس چھوٹے سے ملک کو دنیا کے کامیاب ترین ممالک میں شامل کر دیا۔ لی کوان یو کی قیادت میں سنگاپور نے سخت حکومتی کنٹرول کے ذریعے سیاسی اور معاشی استحکام حاصل کیا۔
یہ بات بھی اہم اور غور طلب ہے کہ اگر پاکستان کو ایک ہارڈ سٹیٹ بننا ہے تو اسے بڑے فیصلے کرنے ہوں گے موثر و جامع اصلاحات کرنی ہوں گی۔ جن میں سر فہرست سیاسی عدم استحکام اور دوسرے حکومتی اداروں کی جانب سے حکومتی امور میں غیر ضروری مداخلت کو ختم کر کے حکومتی نظام کو مؤثر اور فعال بنانا ہوگا۔ قانون کی بالادستی اور یکساں اطلاق کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات لانی ہوں گی جن سے ایک آزاد اور خود مختار عدلیہ وجود میں آئے جو انصاف کا ترازو پکڑے کمزور و طاقتور کو ایک ہی پلڑے میں تولے اور ملکی سلامتی کے خلاف متحرک عناصر کو کچلنے میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ دیگر اصلاحات کی طرح ملکی سیکیورٹی اداروں جن میں پولیس، افواج اور ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں شامل ہیں ان سب کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں تاکہ یہ مل کر ہر قسم کے اندرونی و بیرانی خطرات سے مؤثر طور پر نمٹ سکیں۔ یہ بات بھی اب روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وطن عزیز کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بدعنوانی کے کلچر کا فروغ ہے۔ کرپشن کلچر ملک و قوم کی جڑوں میں بیٹھ چکا ہے۔ اس کے خلاف سخت قوانین بنا کر ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جانا بھی ضروری ہو چکا ہے۔ کیونکہ ترقی ہمیشہ کرپشن سے پاک معاشرے ہی کرتے ہیں۔ اور چین اس ضمن میں آج کے دور کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جس نے کرپشن کے خلاف انتہاء اقدامات کرتے ہوئے کرپٹ عناصر کو نشان عبرت بنایا۔ نتیجتاً ہر شخص اور ہر محکمہ نا صرف فعال ہوا بلکہ ملکی ترقی کے سفر میں اپنا حصہ ڈال کر ہم سفر بنا۔ شہروں، صوبوں میں مقابلے کی فضا قائم ہوتے ہیں علاقائی و قومی ترقی کی دوڑ شروع ہو گئی جس سے چین آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ 
وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اگر پاکستان نے سخت اور فیصلہ کن حکمت عملی اختیار کی، تو وہ نہ صرف اندرونی انتشار اور بیرونی خطرات سے محفوظ رہ سکے گا بلکہ جلد ایک مستحکم معیشت اور ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے گا۔ یقینا" پاکستان کے لیے ہارڈ سٹیٹ بننے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا، اس میں کئی مشکلات بھی آئینگی۔ لیکن موجودہ حالات دیکھتے ہوئے یہ تبدیلی اس کی بقا کے لیے ناگزیر نظر آتی ہے۔ چین، روس، سنگاپور و دیگر کئی ممالک کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ سخت حکومتی کنٹرول، قانون کی بالادستی اور قومی مفادات کے تحفظ کی پالیسیوں کے ذریعے ایک ریاست نہ صرف محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ بے مثال ترقی بھی کر سکتی ہے۔ لہٰذا اب پاکستان کو بھی اپنے قومی وجود کو برقرار رکھنے اور اسے اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ بنانے، اپنی اگلی نسلوں کو بہترین مستقبل فراہم کرنے اور اسے دنیا کے عظیم ممالک میں سے ایک بنانے کے لئے ہارڈ سٹیٹ بننے میں عملی اقدام اٹھانے ہوں گے۔

مزیدخبریں