لاہور : لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
عدالت میں سماعت کے دوران شاہ ریز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر صرف الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے کارکنوں کو اکسایا، مگر کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیو فینسنگ، تفتیش، اور چالان میں شاہ ریز کا نام نہیں ہے، نہ ہی کسی تفتیشی افسر نے ان کے خلاف بیان دیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے وقت شاہ ریز چترال میں موجود تھے، اور اس کے گواہوں کے بیانِ حلفی عدالت میں جمع کرائے جا چکے ہیں۔
وکیل نے یہ بھی کہا کہ شاہ ریز کی گرفتاری ان کی والدہ علیمہ خان کی سیاسی سرگرمیوں کو دبانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے کہا کہ شاہ ریز کے دوستوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے کچھ تصاویر حاصل کی گئی ہیں، مگر ملزم کے اپنے اکاؤنٹس سے کوئی براہِ راست مواد نہیں ملا۔ سرکاری وکیل کے مطابق جمع کرائے گئے بیانِ حلفی کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جو مناسب وقت پر سنایا جائے گا۔واضح رہے کہ شاہ ریز کے خلاف مقدمہ تھانہ سرور روڈ میں درج ہے۔