لاہور : پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں ملکی نجی یونیورسٹیوں کے زیر اہتمام سیمینار "2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا اور ملک کے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔
میاں عامر محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک عوام کی طاقت اور حقوق کی بنیاد پر قائم ہوئے ہیں۔ انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سلطنتیں بادشاہوں کی ذاتی طاقت تھیں، لیکن آج کے دور میں طاقت عوام کے پاس ہے اور یہی عوامی شعور دنیا کے سیاسی و سماجی نظام کو تبدیل کر چکا ہے۔ میاں عامر نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی حقوق اور مساوات کی پاسداری ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے مگر صوبوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جو کہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ چار صوبوں کی تقسیم اب بڑھتی ہوئی آبادی اور مختلف مسائل کے پیش نظر ناکافی ہے۔ انہوں نے بھارت، چین، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کی مثال دی جہاں آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ انتظامی امور بہتر طریقے سے انجام دیے جا سکیں۔
میاں عامر محمود نے خاص طور پر بلوچستان کی محرومیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں قدرتی وسائل تو موجود ہیں لیکن وہاں کے عوام کو ان وسائل سے برابر فائدہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو علیحدگی کی تحریک کمزور ہو جائے گی اور علاقے میں امن قائم ہو گا۔
انہوں نے پاکستان کے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان 193 ممالک میں 168 ویں نمبر پر ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں صحت، تعلیم اور معیشت کے شعبے کس حد تک پس ماندہ ہیں۔ 44 فیصد بچے سٹنٹڈ گروتھ یعنی نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 25 ملین بچے سکولوں سے محروم ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
میاں عامر محمود نے نوجوانوں کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن زیادہ تر نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ملکی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو تعلیم اور ملازمت کے بہتر مواقع فراہم نہ کیے گئے تو ملک میں سماجی اور معاشی مسائل بڑھیں گے۔
انہوں نے انصاف کے نظام کی خرابی پر بھی بات کی اور کہا کہ جب تک انصاف کا نظام شفاف اور مؤثر نہیں ہوگا، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی۔ پاکستان میں عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ مقدمات کے فیصلے میں کئی سال لگ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اور عام شہری دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی لیڈرشپ کی کمی ہے اور نئے لیڈرز کو میدان میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں صوبوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں نئے صوبوں کی تشکیل سے مقامی لیڈرشپ کو مضبوطی ملی اور وہ اپنی انتظامیہ بہتر کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 33 صوبے بنائے جائیں تو ہر صوبہ اپنے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکے گا اور مقامی سطح پر بہتر گورننس ممکن ہو گی۔
انہوں نے لوکل گورنمنٹ نظام کی ناکامی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ صوبوں کو اپنے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں، جس کی وجہ سے مسائل زمین پر حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے مقامی سطح پر منتخب نمائندے اپنی گورننس بہتر بنا سکیں گے اور ترقیاتی کاموں کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں، بلکہ مسئلہ انتظامی صلاحیتوں اور گورننس کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو بجٹ کا توازن بہتر ہوگا، اخراجات کم ہوں گے اور ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف چند خاندان سیاسی طاقت رکھتے ہیں اور عام لوگ سیاست میں آگے نہیں بڑھ پاتے۔ نئے صوبے بنانے سے سیاسی نظام میں تنوع آئے گا اور نئی قیادت ابھرے گی، جو ملک کی ترقی میں کردار ادا کرے گی۔
آخر میں انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی ترقی اور بہتری کے لیے آگاہی پیدا کریں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں تاکہ پاکستان ایک خوشحال اور مستحکم ملک بن سکے۔