شمالی بھارت میں طوفانی بارشیں، سیلابی صورتحال، لاکھوں لوگ متاثر

02:11 PM, 3 Sep, 2025

نئی دہلی : بھارت کی کئی شمالی ریاستیں ان دنوں شدید مون سون بارشوں کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے اگلے سات دنوں تک مزید تیز بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے متعدد علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

پنجاب کے 12 اضلاع میں بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ گلیاں، سڑکیں اور گھر پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ ڈھائی لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں، جب کہ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ دریائے راوی، ستلج اور بیاس میں پانی کی سطح خطرناک حد سے بھی اوپر جا چکی ہے۔

پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کو حکومت نے "آفت زدہ علاقہ" قرار دے دیا ہے۔ بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر حادثات میں 320 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ امدادی ٹیمیں مشکلات کے باوجود ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دہلی میں بھی صورتحال کافی خراب ہے۔ دریائے یمنا کی سطح بڑھنے سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ حکومت نے اسکول اور دفاتر بند کر دیے ہیں، اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں۔

اتراکھنڈ، اترپردیش، ہریانہ اور چندی گڑھ میں بھی شدید بارشوں سے عام زندگی متاثر ہو چکی ہے۔ گروگرام میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی ہے، جب کہ سکھنا جھیل کے فلڈ گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔

فوج، NDRF اور مقامی انتظامیہ مل کر متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ خیمے، کھانے پینے کا سامان اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں کے قریب نہ جائیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

مزیدخبریں