پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی جاری، سیلابی ریلے تباہی کے مناظر بکھیر رہے ہیں

12:09 PM, 3 Sep, 2025

لاہور : پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی برقرار ہے اور سیلابی پانی ہر طرف تباہی کی داستانیں رقم کر رہا ہے۔ دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث پیر محل کے قریب ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفوراں بند کو دو جگہوں پر بارودی مواد سے اڑا دیا گیا ہے۔

اس بند کے کھلنے کے بعد پانی قریبی آبادیوں کی جانب چھوڑ دیا گیا ہے، جس سے ہزاروں ایکڑ زرعی زمین پانی میں ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر حرکت میں آ چکی ہیں اور مقامی لوگوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بند اڑانے کا فیصلہ شہریوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور تمام متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حالات بہتر ہوتے ہی مزید اقدامات اور عوام کو معلومات فراہم کی جائیں گی۔

دریائے چناب کا سیلابی پانی ملتان ڈویژن میں داخل ہو چکا ہے، جہاں اس نے کئی بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ملتان شہر کے فلڈ بند پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو برداشت کرنے کی حدوں پر پہنچ چکے ہیں، خاص طور پر اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح میں تین سے چار فٹ کا اضافہ ہوا ہے، جس سے کئی گھروں کو نقصان پہنچا اور لوگ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

ہیڈ محمد والا روڈ کو بند کر کے وہاں بارودی مواد نصب کیا گیا ہے تاکہ پانی کو ایک خاص سمت میں موڑ کر ملتان شہر کو بڑا نقصان پہنچنے سے بچایا جا سکے۔

سیلابی پانی نے ملتان کے دیہی علاقوں میں شدید تباہی مچائی ہے جہاں فصلیں، مکانات اور زمینیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ کئی دیہات مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں اور امدادی ٹیمیں محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

دریائے چناب میں پانی کی سطح ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک تک پہنچ چکی ہے اور خانیوال کے کئی دیہات بھی سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ دریائے ستلج میں بھی پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے، جس کے باعث ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی ہے، جہاں کئی گھر زیرِ آب آ چکے ہیں اور لوگ خیمہ بستیوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ فر وال نالہ ڈیک میں بھی پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے اب تک 881 افراد جاں بحق اور 1176 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں پنجاب میں 223 افراد اپنی جان سے گئے ہیں جبکہ 648 زخمی ہوئے ہیں۔

مزیدخبریں