لاہور :پاکستان کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس کی بڑی وجہ بھارت کی طرف سے بغیر اطلاع کے اچانک پانی چھوڑنا ہے۔ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس سے کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
پیر محل کے علاقے میں ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفوراں بند کو دو مقامات سے بارودی مواد سے توڑا گیا تاکہ پانی کا دباؤ کم کیا جا سکے۔ اس وقت ہیڈ سدھنائی پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 73 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے، اور خانیوال کے کم از کم 25 دیہات میں پانی داخل ہو چکا ہے۔
دریائے ستلج میں بھی پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی 2 لاکھ 69 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بہاولنگر میں ماڑی میاں صاحب کے قریب بند ٹوٹنے سے پانی رہائشی علاقوں اور کھیتوں میں داخل ہو چکا ہے، جس سے فصلیں اور مال مویشی متاثر ہوئے ہیں۔
ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 99 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملتان سے آج 8 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا گزرنے کی توقع ہے۔ انتظامیہ نے پہلے سے کارروائی کرتے ہوئے چار لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
دریائے چناب کے مختلف بیراجوں پر صورتحال:
ہیڈ مرالہ: 2 لاکھ 39 ہزار کیوسک
خانکی بیراج: 1 لاکھ 66 ہزار کیوسک
ہیڈ قادرآباد: 1 لاکھ 28 ہزار کیوسک
راوی پر بھی پانی کی سطح بلند
ہیڈ سلیمانکی: 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک
بلوکی: 1 لاکھ 25 ہزار کیوسک
امدادی کارروائیاں جاری
متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں، امدادی ادارے اور فوج امداد فراہم کر رہی ہیں۔ خیمہ بستیاں قائم کی جا چکی ہیں اور لوگوں کو خوراک اور طبی سہولیات دی جا رہی ہیں۔
انتظامیہ کی اپیل ہے کہ لوگ افواہوں سے بچیں، سرکاری اعلانات پر عمل کریں، اور خطرناک علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں۔ سیلابی ریلا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، احتیاط ہی حفاظت ہے۔