ٹرائی نیشن سیریز میں پاکستان کی جیت

09:16 AM, 3 Sep, 2025

متحدہ عرب امارات میں جاری T-20 ٹرائی نیشن سیریز میں پاکستان نے افغانستان اور UAE سے پہلے دو میچز  جیت کر اپنی پوزیشن مستحکم کرلی۔ پہلے میچ میں کپتان سلیمان علی آغا اور حارث رؤف کی پرفارمنس بہترین رہی۔ دوسرے میچ میں صائم ایوب اور حسن نواز کی شاندار بیٹنگ کی بدولت کامیابی حاصل ہوئی۔ اسوقت ٹیم پاکستان کی کمزور ٹیموں کے خلاف کارکردگی ٹھیک چل رہی ہے لیکن ایشیاء کپ میں کیا یہ ٹیم سری لنکا، بنگلہ دیش اور انڈیا کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ موجودہ ٹیم میں ایک یا دو کھلاڑیوں کی پرفارمنس کی وجہ سے  جیت کاسلسلہ چل رہا ہے۔ فخرزمان اور وکٹ کیپر محمد حارث بیٹنگ میں پرفارم نہیں کررہے۔ فخرزمان کو ابھی مزید چانس دیں کیونکہ وہ ایک میچ ونر کھلاڑی ہے اور بڑے میچ میں ضرور اچھا کھیلے گا۔ وکٹ کیپر محمد حارث کو نکال کر ایک پرفیکٹ بیٹر ٹیم میں شامل کریں کیونکہ صاحبزادہ فرحان کی صورت میں بطور وکٹ کیپر آپشن ٹیم میں موجود ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اسکی وکٹ کیپنگ کی صلاحیت کیسی ہے، اسے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اکثر وبیشتر ایک اوسط درجے کا وکٹ کیپر اہم موقع پر کیچ چھوڑ کر یقینی جیت کوہار میں بدل سکتا ہے۔ ٹرائی نیشن سیریز کے فائنل سے پہلے صاحبزادہ فرحان کو بطور وکٹ کیپر بھی چیک کرلیں تاکہ ایک مستند بیٹر حسین طلعت کو ٹیم میں ایڈ کرکے ٹیم کی بیٹنگ کو مضبوط کیا جاسکے۔ افغانستان کے خلاف پہلے میچ کے آخری ڈیتھ اوورز میں پیسر شاہین آفریدی اور حارث رؤف کی خوب پٹائی ہوئی۔ افغانی ٹیل اینڈر راشد خان نے شاہین اور حارث رؤف کو آسانی سے چھکے مارے۔ تمام چھوٹی ٹیموں کے ٹیل اینڈرز ہمارے پریمیم فاسٹ باؤلرز کو چھکے ماررہے ہیں۔ ہمیں ڈیتھ اوورز میں رنز روکنے والے باؤلرز کی ضرورت ہے جو ٹیم کی ضرورت کے مطابق رنز روک کر حریف ٹیم پر پریشر بڑھائے۔ دوسرے میچ کے آخری اوورز میں بھی UAE کے آصف خان نے حسن علی اور سلیمان مرزا کی جم کردھلائی کی۔ اس سیریز میں وسیم جونیئر کو بھی چانس دیں وہ اپنی سپیڈ، یارکر اور سونگ سے بہتر پرفارم کرے گا۔ اسی طرح فہیم اشرف کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی ایک یا دو اوورز سلیمان علی آغا خود بھی کرسکتا ہے۔ ریگولر سپنر ابرار احمد کو بھی ٹیم میں کھلائیں کیونکہ شارجہ کی وکٹ سپنرز کو مدد کرتی ہے اور ابرار ایک کوالٹی سپنر ہے جو شارجہ کی سپن ٹریک وکٹ پر حریف کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ محمد نواز نے اس سیریز کے دونوں میچوں میں بہترین آلراؤنڈ پرفارمنس دی اور ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت محمد نواز ٹیم کی اہم ضرورت ہے۔ صفیان مقیم ایک اچھا ورسٹائل باؤلر ہے لیکن اس سیریز میں ابھی تک اپنی  جادوئی باؤلنگ کا کرشمہ نہیں دکھا سکا۔ دوسرے میچ میں اسکے 4 اوورز میں 44 رنز بنے جو T-20 کے حساب سے بہت زیادہ ہیں۔ صفیان مقیم بال تیز کرنے کی کوشش کررھا ہے جس سے ٹرن اور گگلی صحیح نہیں ہورہی۔ اسے چاہئے کہ لائن و لینتھ کے ساتھ بال ٹرن کرے ورنہ مڈل اننگز میں وکٹ لینے کی آپشن ختم ہو جائے گی جس سے ٹیم پر پریشر بڑھتا ہے۔ پیسر حسن علی اور سلیمان مرزا کی دوسرے میچ میں کارکردگی اوسط درجے کی رہی۔ سلیمان مرزا کو ایک اور میچ میں موقع دیں۔ اگلے میچوں میں تین پیسر کے ساتھ جائیں کیونکہ افغانستان اور UAE کی ٹیمیں سپنرز کو اچھا کھیلتی ہیں۔ میرے خیال میں دوسرے راؤنڈ کے میچوں میں فہیم اشرف کی جگہ وسیم جونیئر کو موقع ملے گا کیونکہ وسیم جونیئر باؤلنگ میں ہر لحاظ سے بہتر ہے جبکہ فہیم اشرف کی طرح آخری اوورز میں پاور ھٹنگ بھی کرسکتا ہے۔ وکٹ کیپر حارث کی جگہ حسین طلعت کو چانس دیا جائے کیونکہ محمد حارث آؤٹ آف فارم ہے اور اسکی جگہ حسین طلعت بہترین آپشن ہوگا۔ صفیان مقیم کو روٹیشن پالیسی کے تحت  ریسٹ دیکر ابرار احمد کو چانس دیا جائے تاکہ فائنل راؤنڈ کے لئے سپن اٹیک مکمل ہو۔ ویسے بھی صفیان مقیم سے بال صحیح طرح گرپ نہیں ہورہا۔ فائنل میچ میں شاہین آفریدی اور حارث رؤف ہی کھیلیں گے اور اگر راؤنڈ میچز میں وسیم جونیئر کو موقع دیا گیا اور وہ پرفارم کرگیاتو اسے فہیم اشرف کی جگہ کھلایا جاسکتا ہے۔ بیک اپ میں موجود خوشدل شاہ کی اسوقت ٹیم میں جگہ نہیں بن رہی۔ شارجہ کی وکٹ پر ٹیم پاکستان نے دونوں بار پہلے کھیل کر جیت حاصل کی۔ اب اگلے میچوں میں ہدف کے تعاقب میں دوسری اننگز بھی کھیلیں تاکہ کھلاڑیوں کو پریشر میں کھیلنے کا تجربہ حاصل ہو۔ اگر ٹیم نے متحد ہوکر بہتر کمبی نیشن کے ساتھ اچھا کھیل پیش کیا تو ٹرائی نیشن سیریز کا فائنل  پاکستان جیتے گا۔ جیت سے ٹیم کا مورال بڑھے گا اور ایشیاء کپ میں ٹیم بہتر پرفارم کرے گی۔

مزیدخبریں