سیلاب … حقائق یہ ہیں!

09:14 AM, 3 Sep, 2025

وطنِ عزیز کے دو صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ان دنوں طوفانی بارشوں اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کا سامنا ہے۔ اس قدرتی آفت سے سیکڑوں افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں سیکڑوں دیہات زیرآب جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور مویشی سیلابی پانی کی نذر ہو چکے ہیں۔ یہ سیلاب قدرتی آفت ہے یا اس کے پس پردہ کچھ اور عوامل کارفرما ہیں ۔اس پر کچھ لکھنے سے قبل آپ کو بتاتا چلوں کہ مئی اور جون کی جھلسا دینے والی گرمی میں اس خطۂ ارض کے کروڑوں لوگ بڑی امید بڑی نظروں سے روزانہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس وقت برسنے والے بادلوں کا بڑی بے چینی سے انتظار کیا جا تا ہے لیکن وہ غالباً ابھی تک خلیجوں اور سمندر میں اپنی تشکیل کے مرحلے پر ہیں۔ مون سون کے آغاز پر اس موسم سے بڑی توقعات وابستہ ہوتی ہیں اور بہت کچھ داؤ پر بھی لگا ہوتا ہے۔یاد رکھیں اس خطہ کے کروڑوں دیہی عوام کی قسمت مون سون سے وابستہ ہے‘ کافی اور بروقت بارش سے کاشتکاروں کو اور پھر ان کے ذریعے سے پوری قوم کو فائدہ پہنچنا ہے۔ اس وقت بارشوں کیلئے دعائیں مانگی جاتی ہیں لیکن بارش صرف نعمت نہیں ہوتی‘ زیادہ بارش سے زمین زرخیز ضرور ہو جاتی ہے لیکن حد سے زیادہ بارشوں سے سیلاب بھی آتے ہیں‘ جان ومال کا ضیاع‘ فصلیں غرقاب ‘ جھونپڑے اور کچے مکانات تباہ جبکہ قیمتی املاک اور مویشی بہہ جاتے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں 1988ء کو آنیوالے سیلاب کی تباہ کاریوں سے ملک کا بڑا حصہ متاثر ہوا تھا۔ اس کے بعد بھی ہر سال ملک کے کسی نہ کسی حصے میں کم یا زیادہ شدت کا سیلاب آتا ہے۔ دراصل جب حد سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں تو زمین نمی سے پوری طرح تر ہو جاتی ہے اور مزید پانی کو جذب نہیں کرتی چنانچہ جب مزید بارش ہوتی ہے تو سیلابی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں مون سون کے موسم میں پورے سال کی تقریباً 85 فیصد بارش ہوتی ہے۔ اسی مناسبت سے دریائوں میں پانی کا بہاؤ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ جب پانی کا بہاؤ دریا کی 
قدرتی گنجائش سے بڑھ جائے تو خاص طور پردریا کے موڑ یا نشیبی علاقوں میں اس کا پانی کناروں سے بہہ نکلتا ہے جو اردگرد کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ سیلاب آنے کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ گلیشیئرز کا پگھلنا بھی ہے۔ گلیشیئرز شمالی علاقہ جات میں تازہ پانی کے ذخائر ہیں جو برف کی صورت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس خطہ میں زمین کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے تو ان گلیشیئرز نے بھی پگھلنا شروع کر دیا ہے جن کے سنگین نتائج ہم نے خیبرپختونخوا  میں دیکھے ہیں۔
صوبہ پنجاب کی حدود میں بہنے والے تین بڑے دریائوں ستلج، راوی اور چناب کے اندر حالیہ دنوں میں پانی کا بہت زیادہ بہائو دیکھا جا رہا ہے۔ دریائے راوی جو بھارت سے پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے اور سندھ طاس معاہدہ (1960ئ) کے تحت اس کا پانی بھارت استعمال کرتا ہے۔بھارت نے اس دریا پر چھوٹے بڑے کئی ڈیمز بنا رکھے ہیں تاکہ اس کا پانی پاکستان کی حدود میں کم از کم داخل ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ دریائے راوی سالہا سال سے خشک رہنے کے باعث ایک نالہ کی صور ت اختیار کر چکا تھا اور لوگوں نے دریا کے اندر بھی تعمیرات کر رکھی تھیں ‘ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اب یہاں کبھی پانی آسکتا ہے۔ لیکن اس برس جب اس خطہ میں حد سے زیادہ بارشیں ہوئیں توبھارتی ڈیمز پانی سے بھر گئے تو انہوں نے ڈیمز کے سپل ویز کھول دیئے۔ پانی نے اپنی قدرتی گزرگاہوں میں بہنا شروع کردیا اور بہتے بہتے پاکستانی حدود میں داخل ہو گیا۔یہ دریا جسڑ کے مقام سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور شاہدرہ، بلوکی ، سدھنائی سے ہوتا ہوا تریموں کے مقام پر دریائے چناب سے جا ملتا ہے ۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ (لاہور) کے مقام پر اڑھائی لاکھ کیوسک تک پانی کے بہائو کی گنجائش موجود ہے اور یہاں سے دو لاکھ بیس ہزار کیوسک پانی گزرا ‘جو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی کیفیت تھی ۔ اس سے اردگرد کے دیہات اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ شاہدرہ سمیت لاہور کی بڑی آبادی اس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہی ۔
سیلاب اتنی تباہی کیوں مچاتے ہیں اور کیا اس سے بچائو ممکن ہے؟ درحقیقت دریاؤں کے اردگرد علاقوں میں موجود جنگلات اور درختوں کو بے تحاشا کاٹنے ‘ نباتات کو ختم کیے جانے نیز آبادی میں اضافے کے باعث توازن بگڑ گیا ہے‘ یہ سیلاب کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ جنگلات اور سبزہ زار خطے زیادہ بارش کے دنوں میں پانی کے بہاؤ کی شدت کو کم کرنے کا کام کرتے ہیں‘ وہ پانی کی بڑی مقدار اور اس کے بہاؤ کی تیزی کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیںمٹی کے کٹاؤ کو روکنے میں بھی ان سے مدد ملتی ہے۔ جنگلات کاٹ لیے جانے کے باعث موسم برسات میں ان علاقوں میں پانی کا بہاؤ تیز اور مٹی کے کٹاؤ میں اضافہ ہو گیا ہے ۔آبی ماہرین کے مطابق سیلاب کے ذریعے جو فالتو پانی نقصان پہنچاتا ہے اسے ذخیروں کی تعمیر کے ذریعے محفوظ اور آبپاشی نیز بجلی کی پیداوار کیلئے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔تاہم سیلاب کی صورت میں پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے ہماری سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم 70 سال سے اس بات پر لڑ رہے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بننا چاہیے یا نہیں؟ ہم اور ہمارا پڑوسی ملک (انڈیا) اکٹھے ہی آزاد ہوئے تھے لیکن انڈیا اب تک چھوٹے بڑے 4300 ڈیم بنا چکا اور ہم نے ابھی تک 150 ڈیم بنائے ہیں۔ خدارا! اس ملک کے ساتھ مزید کھلواڑ مت کریں اور اپنے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اس پر سنجیدگی سے کام کریں۔جنگلات لگانے ‘مٹی کے تحفظ اور زمین کے انتظام وغیرہ سیلاب کی روک تھام کے پروگرام کا اہم حصہ ہیں۔ اگر ہم مٹی کا تحفظ کریں گے تو پانی کے بہاؤ کی رفتار سست ہو جائے گی اور سیلاب کے اثرات کافی کم ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہر میدانی دریا پر اضافی بیراج تعمیر کیے جائیں جبکہ پہلے سے موجود بیراجوں کی سٹوریج کیپسٹی میں اضافہ سے سیلاب کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں