وجودِ خدا پر دلائل کی ضرورت!

09:13 AM, 3 Sep, 2025

 کراچی سے عمران صاحب لکھتے ہیں: سر! ایک سوال ہے۔ یہ ایک جملہ ہے، حضرت واصف علی واصفؒ کا، سمجھ میں نہیں آسکا۔ آپؒ کے فرمودات کی کتاب ’’بات سے بات‘‘ میں درج ہے: ’’اللہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا بھی اتنا ہی گمراہ ہے جتنا اللہ سے انکار کرنے والا‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم خدا کو سائنس کے دلائل کی مدد سے ثابت نہیں کر سکتے؟ ایک معروف پروفیسر صاحب اکثر اپنے لیکچرز میں خدا کی حقانیت پر سائنس کے دلائل کی مدد سے بات کرتے ہیں۔ کیا اس طرح ثابت کرنا ٹھیک نہیں؟ کیا یہ جستجو ٹھیک نہیں کہ سائنس کو علم الکلام کے طور پر استعمال کر کے وجودِ خدا پر کتاب لکھی جائے۔ اگر اس کی وضاحت کر سکیں،آپ کی بہت مہربانی ہو گی‘‘۔
عمران صاحب! اگرچہ اس موضوع پر گاہے گاہے تذکرہ ہوتا رہتا ہے ، لیکن آپ کا یہ سوال تفصیل کا تقاضا کرتا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ وجودِ خدا کے ہونے یا نہ ہونے کو اگر دلیل سے ثابت بھی کر لیا جائے تو انسان کی فکری اور عملی زندگی میں آخر کیا فرق پڑتا ہے۔ اصل مسئلہ تعلیم سے زیادہ تسلیم کا ہے۔ خدا اور بندے کا تعلق دراصل ایک غیر مشروط اطاعت کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا ہم دلائل کی مدد سے وجودِ خدا کو ثابت کر کے کسی کو اطاعت گزار بنا سکتے ہیں؟ سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور دیگر ایسی علتیں سائنس کی مدد سے ثابت ہو چکی ہیں کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ضرر رساں ہیں، لیکن یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کتنے لوگ ہیں ، جو ان علتوں سے توبہ کرتے ہیں۔ اگر دلیل سے یہ جان لیں کہ خدا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس خدا کے ہونے کا ہمیں کیا فائدہ ہو گا، جب تک ہم اس کے ساتھ مبنی بر اطاعت کوئی تعلق قائم نہ کر سکیں۔ بالفرض خدا کا ہونا دلائل سے ثابت ہو جاتا ہے، اب یہ کیسے معلوم ہو گا کہ خدا کن باتوں سے راضی ہوتا ہے اور کن سے ناراض؟ آپ یقیناً کہیں گے کہ یہ باتیں ہمیں پیغمبرؐ کی ذات بتائے گی۔ اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیغمبرؐ کو مانے بغیر کوئی بامعنی تعلق قائم نہیں ہو سکتا۔ وہ جاننا کس کام کا، جو ماننے میں نہ آئے۔
عقلی دلائل کی عمر انتہائی محدود ہوتی ہے۔ جب عقل ترقی کرتی ہے تو پہلے سے قبول کیے ہوئے دلائل کو ردّ کر دیتی ہے۔ دلیل اور پھر کاؤنٹر دلیل کا سفر کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ اس عالمِ امکان میں ہر دلیل کے جواب میں ایک دلیل موجود ہے۔ ماننے والوں کی اپنی دلیل ہے اور نہ ماننے والوں کے ہاں اپنی دلیل موجود ہے۔ جس سائنس کے ذریعے کوئی بھولا پنچھی اپنے طور پر خدا کو ثابت کر رہا ہے، اسی سائنس کی مدد سے دہریہ خدا کو رد کر رہا ہے۔
ایک دینی سکالر کے شایانِ شان نہیں کہ وہ وجودِ خدا ثابت کرنے کے لیے سائنس کا سہارا لے۔ سائنس اس کا شعبہ ہی نہیں۔ اس کے پاس سائنس کا علم مانگے تانگے کا ہے۔ اگر کوئی سائنسدان اس قسم کی بات کرے تو اسے شائد جچتی بھی ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب کے سائنسدان خدا کے بارے میں لاعلم نظر آئے ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ سے بڑا علم ِ فلکیات کا سائنسدان بھلا کون ہو گا، وہ یہ اعلان کر کے مرا ہے کہ خدا کو وجود نہیں ہے۔ سائنس کی بات لوگ سائنسدانوں سے سننا پسند کرتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ایک سچا سائنسدان کبھی اس موضوع پربات نہیں کرے گا، بلکہ وہ یہ کہہ دے گا کہ یہ اس کا شعبہ نہیں، وجودِ خدا کے بارے میں اہلِ مذہب سے پوچھا جائے۔ سائنس فطرت کا مطالعہ کرتی ہے، خدا فطرت نہیں، فاطر ہے…  ورائے فطرت ہے۔ سائنس اگر وجودِ خدا پر حتمی دلیل ہوتی تو ناسا میں بیٹھے ہوئے سائنسدان اب تک واشگاف کلمہ پڑھ چکے ہوتے۔
سوال یہ ہے کہ کون کہہ رہا ہے؟… خدا کو مانو! کن شخصیات کا مدعائے حیات خدا کا تعارف ہے؟ ظاہر ہے، یہ صرف اور صرف پیغمبروں کا کارِ منصب ہے، وہ مخلوق کو خدا کی طرف بلاتے ہیں، خدا کے اوامر و نواہی کی تعلیم دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کن باتوں سے خدا راضی ہوتا ہے اور کن سے ناراض… ! پیغمبروں کی بات کا انکار کرنے والوں نے خدا کا انکار نہیں کیا، انہوں نے پیغمبروں کا انکار کیا ہے۔ پیغمبروں کی زندگی میں انہیں نہ ماننے والے بھی خدا کو ماننے تھے، لیکن وہ اپنی الگ دلیل سے مانتے تھے۔ خدا کا مطلق انکار کرنے والے لوگ تو معدودے چند ہی ہوں گے۔
پیغمبروں نے اپنی ذات کے ذریعے خدا کی ذات منوائی ہے۔ خدا کو عقلی دلائل سے ماننے والا دراصل خاموشی سے پیغمبر کی ذات کا انکار کر جاتا ہے… وہ خدا کو پیغمبر کے کہنے پر نہیں مان رہا ، بلکہ اپنی عقل اور دلیل کی بنیاد پر مان رہا ہے۔ اگر اس کی عقل میں خلل آ گیا تو اس کا ماننا کدھر جائے گا، اگر اس کی دلیل میں کوئی رخنہ آ گیا تو اُس کا خدا بھی رخصت ہو جائے گا۔ اپنی عقل اور دلیل کی بنیاد پر خدا کو ثابت کرنے والا دراصل پیغمبر کی ذات کو بائی پاس کر رہا ہے۔ عقل اور دلیل صفات کی دنیا تک محدود رہے گی، اور خدا ایک ذات ہے… اپنے وجود میں قائم… اپنی ذات میں خود حمید! اُس کی ذات، صفات کی وجہ سے قائم نہیں، بلکہ اس کی صفات کا ظہور اس کی ذات سے صادر ہو رہا ہے۔
خدا کا تقاضا ہے کہ اسے اُس کے پیغمبرؐ کی معرفت جانا اور پہچانا جائے۔ الحاد اپنی اصل میں خدا کا انکار نہیں، بلکہ اپنے کسی خود ساختہ خدا کا اعلان ہے۔ ملحدین کے سامنے اگر وجودِ خدا ثابت بھی کر دیا جائے تو وہ کہتے ہیں: ’’ہاں! یہ ہو سکتا ہے، خدا کے ہونے امکان موجود ہے، لیکن خدا کو ہماری زندگیوں سے کیا سروکار… وہ اپنا کام کرے، ہم اپنا کام کر رہے ہیں! ایسا غیر شخصی خدا کسی سائنسدان یا فلسفی کا تو ہو سکتا ہے، ایمان والوں کا نہیں! ایمان والوں کا خدا شخصی خدا ہے جو اپنے پیغمبرؐ  کے ذریعے ان سے کلام کرتا ہے، حیات بعد ممات قائم کرتا ہے اور انہیں زندگی میں طاقت اور اختیار دے کر اْن سے سوال کرتا ہے … آیا وہ شاکرین میں سے ہیں یا کافرین میں سے۔ کافر خدا کا انکار کرنے والے کو نہیں کہتے، بلکہ پیغمبرِ خدا کا انکار کرنے والوں کو کافر کہتے ہیں۔ کائنات پہلا انکار توحید مطلق کو سجدے سے انکار نہ تھا، بلکہ رسالتِ آدمؑ کا انکار تھا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ہم اسی کی بات مانتے ہیں، جس کی ذات کو مانتے۔ پیغمبرﷺ کی ذاتِ گرامی کو اگرکوئی دل و جان اور زبان سے تسلیم کر لیتا ہے تو وہ کفر سے نکل کر ایمان میں داخل ہو جاتا ہے۔ اگر فقط دلائل سے خدا کا ماننا کافی ہوتا، تو وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی بعثت کا سلسلہ قائم نہ کرتا۔ جو شخص پیغمبرؐ کی وجہ سے اللہ کو مانتا ہے، دراصل وہی ماننے والا کہلائے گا، وہی صاحبِ ایمان کہلائے گا، وہی کفر اور شرک سے پاک ہو جائے گا، بصورتِ دیگر ہم دیکھتے ہیں کہ ذاتِ خدا کا اقرار کرنے والی کتنی ہی قومیں ہیں جو کفر اور شرک کا شکار ہیں۔ ذاتِ محمدیؐ کا اقرار کرنے والا ہی ذاتِ خدا کا اقرار کرتا ہے۔ دلائل کی دنیا میں رہنے والا صفات کی دنیا تک محدود رہتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اللہ الکریم کا ایک قول ہے: جس نے اسے صفات سے پہچانا، اس نے شرک کیا۔ مراد یہ ہے کہ جس نے پیغمبرؐ کی ذات کو نظر انداز کرتے ہوئے عقلی دلائل کی بنیاد پر خدا کو مانا، وہ موحد نہیں، مشرک ہے… اس نے اپنی تفہیم کو شریک ِ کار کر لیا ہے۔ شرک سے بچانے والی ذات صرف پیغمبرِؐ خدا کی ذات ہے۔
فانی دنیا، باقی ذات کو کیسے ثابت کر سکتی ہے۔ کشف المحجوب میں درج ہے کہ معرفتِ توحید، فنا اور بقا میں تمیز کرنا ہے… اور یہ بھی واضح درج ہے کہ ایمان جو معرفت کا ایک ابتدائی درجہ ہے، جب ایمان کی طرف راہ پانے کے لیے کوئی عقلی دلیل حجت نہیں بن سکتی تو معرفت کے لیے عقلی دلائل کیسے حجت ہو سکتے ہیں۔
عقلی دلائل تسلیم کرنے سے ایمان نصیب نہیں ہوتا، بلکہ ایمان باللہ دراصل ایمان بالرسالتؐ ہے۔ ایمان خارج میں دلائل کی شکست کا نام ہے۔
اُس ذات کے ہونے کے دلائل پہ بحث ہے؟
سرکارؐ کی صورت میں ہے برہان میسر

مزیدخبریں