شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان کونسل کا دو روزہ 25واں اجلاس چین کے شہر تیانجن میں اختتام پذیر ہو چکا ہے، اس میں سربراہان مملکت کے علاوہ وزرائے خارجہ اور بین الاقوامی امور کے ماہرین بھی شریک ہوئے۔ پاکستان سے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد شریک ہوا، ایسے وقت جب پاکستان اپنی تاریخ کے بے مثال المیے کا شکار ہے، سیلاب نے ہر طرف تباہی و بربادی پھیلا رکھی ہے۔ پاکستان کا اتنی عظیم الشان علاقائی سربراہی کانفرنس میں شریک ہونا اور وہاں اپنی بات کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ثابت ہوا ہے۔ چینی صدر اور ان کی بیگم نے شہباز شریف کا استقبال کیا۔ اس سے بھی بڑی بات، بھارتی وزیراعظم کا استقبال، چینی صدر نے اکیلے ہی کیا۔ یہ بات بہت اہم ہے اور پاکستان کی اہمیت اور احترام کو ظاہر کرتی ہے۔ شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کا آغاز 1996ء میں چین، روس، تاجکستان، کرغزستان اور قازقستان کی تنظیم شنگھائی فائیو (S-3) کے نام سے ہوا۔ مقصد علاقائی تعاون کہا گیا۔ جون 2001ء میں ازبکستان کی شمولیت کے بعد اسے ایس سی او کا نام دیا گیا۔ 2017ء میں انڈیا اور پاکستان، 2023ء میں ایران اور 2024ء میں بیلاروس کی شمولیت سے اس کے ممبران کی تعداد دس ہو گئی۔ سعودی عرب، مصر، ترکی، میانمار، سری لنکا اور کمبوڈیا سمیت اس کے 14 ڈائیلاگ پارٹر ہیں۔ ایس سی او کی فارمیشن کو دیکھیں تو دنیا کی 43 فیصد آبادی اس میں شامل ہے جبکہ دنیا کی ایک چوتھائی سے زائد معیشت، اس میں شریک ممالک میں ہے۔ چین، روس، انڈیا اور پاکستان جیسی چار ایٹمی طاقتیں ایس سی او کی فیصلہ سازی میں شامل ہوتی ہیں۔ ایس سی او کی طرز پر برازیل، روس، انڈیا، چین اور سائوتھ افریقہ پر مشتمل ایک علاقائی تنظیم برکس (Brics)2005/06 میں وجود میں آئی تھی، اس کا آغاز 2005ء میں چین، روس اور انڈیا کے سربراہان کی سینٹ پیٹرز برگ میں ہوا، جسے 2006ء میں وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں باقاعدہ تنظیم کی شکل دی گئی۔ 92ء کی دہائی میں اشتراکی سلطنت کے 15 حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد عالمی سیاست کا توازن مکمل طور پر امریکہ کے حق میں جانے لگا تھا۔ امریکہ نے تاریخ کے خاتمے اور تہذیبی تصادم کے نظریات کے تحت دنیا پر تسلط جمانے اور جغرافیہ ترتیب دینے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم اور ڈیزرٹ شیلڈ کے ذریعے اپنی فنی و دفاعی برتری کا سکہ جمانے کی کاوشیں کیں پھر 2001ء میں جب 9/11 ہو گیا تو امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کر کے افغانستان پر حملہ کر دیا پھر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش میں عراق پر بھی لشکر کشی کر دی، پھر جس طرح برطانیہ عظمیٰ اور اشتراکیت کی عظمت کا بت افغانستان میں پاش پاش ہوا تھا اسی طرح تہذیبوں کے قبرستان افغانستان میں تاریخ کے خاتمے اور تہذیبی تصادم کے نظریات غرق ہو گئے، یہاں سے امریکی شکست نے ایک نئی تاریخ رقم کرنا شروع کی۔ چین تاریخ کے اس جنکشن پر نظر آ رہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے عالمی تجارت کو ایک نیا رخ دے ڈالا ہے۔ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ نے امریکہ و اقوام مغرب کی عسکری برتری کا بت بھی پاش پاش کر دیا ہے۔ امریکہ اب واحد سپر طاقت نہیں ہے بلکہ دنیا کثیر قطبی ہونے جا رہی ہے۔ عالمی سیاست نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔ برکس اور ایس سی او اس تبدیلی کے مظاہر ہیں۔ امریکہ، روس، یوکرین جنگ میں من مانی نہیں کر سکا ہے۔ عرب، اسرائیل کے غیرانسانی رویوں سے ہی تنگ نہیں ہیں بلکہ اسرائیل کی امریکی پشت پناہی سے بھی نالاں ہیں۔ چین دھیرے دھیرے قدم بڑھا اور جما رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ عالمی اقتصادیات پر امریکی سکہ جمانے کی بھونڈی کاوشیں کر رہے ہیں۔ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بھارت کے ساتھ سینگ پھنسا چکے ہیں۔ مودی ابھی تک ٹرمپ کے آگے جھکنے پر آمادہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ مہاتیر محمد نے بھی کچھ ایسا ہی کیا تھا اور وہ عالمی لیڈر بن گیا تھا۔
بھارت خاصی حد تک سفارتی تنہائی کا شکار نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ جیسی سپرطاقت نے اسے جھڑک دیا ہے۔ 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اب امریکہ کا دوست نہیں۔ مودی سرکار شدید دبائو میں ہے۔ سفارتی سطح پر بھی اور تجارتی میدان میں بھی۔ ایک وقت تھا کہ مودی ٹرمپ کے بازو میں بازو ڈال کر اسے جلسہ گاہ میں لایا کرتے تھے۔ خود چائے بنا کر پیش کرتے۔ امریکہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات پر فخر کرتا تھا۔ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی بھی اسے دے ڈالی تھی لیکن مئی 2025ء میں 4 روزہ پاک بھارت جنگ نے سارا منظر ہی بدل ڈالا ہے۔ پاکستان نے ہندوستان کو عبرتناک شکست دے کر بھارتی عظمت و طاقت کا بت پاش پاش کر دیا ہے۔ امریکہ اسے چین کے مدمقابل کھڑا کر رہا تھا وہ تو پاکستان سے ہی پٹ گیا۔ ایسے میں امریکی پالیسی کی کمزوری بھی کھل کر سامنے آ گئی۔ رافیل بھی ناکام ہو گیا۔ اب بھارت کے لئے چین کا ساتھ انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ ایس سی او کے سربراہ اجلاس میں مودی کی شرکت اس حوالے سے پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم خطے کا سب سے بڑا ادارہ ہے جس کے ذریعے سفارت، تجارت، سیاست کے علاوہ دیگر کئی اہم امور نمٹائے جا رہے ہیں۔ بھارت اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دے سکتا ہے۔ چین ایک عظیم الشان ملک و قوم نہیں ایک دیوقامت معیشت بھی ہے، اس کی فنی و تکنیکی مہارت اپنا سکہ جما چکی ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں دنیا نے چین کی اسلحہ میں مہارت کا ہلکا سا نظارہ بھی کر لیا ہے۔ چین عالمی امن اور بقائے باہمی کے اصول کا پرچارک اور اس پر عمل پیرا ہے۔ اس نے اپنے علاقائی اور سرحدی تنازعات اسی اصول کے تحت نمٹانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ ممکن ہے کہ پاک بھارت تنازعات، بشمول مسئلہ کشمیر، سندھ طاس وغیرہم سب ایسے ہی نمٹائے جا سکیں کیونکہ ایسا ہونا نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ چین کے مفاد میں بھی ہے۔
تیانجن شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس
09:13 AM, 3 Sep, 2025