آج نظرسے ایک ویڈیو گزری جس میں کئی جرمن پولیس اہلکار اور ایک سکول ٹیچر ایک مسلم خاندان کی بچی کو زبردستی اپنے ساتھ لے کرجا رہے تھے۔معصوم بچی کی شدیدچیخ و پکارکے باوجود بچی کے ماں باپ اور دیگر افراد بے بسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ معاملے کی چھان بین سے پتہ چلا ایک سکول نے شکایت کی کہ بچی کے والدین بچی کوسکھا رہے ہیں کہ اسلام میں ہم جنس پرستی حرام ہے جو کہ جرمن قوانین کے خلاف ہے۔ لہٰذا بچی کو اس کی فیملی سے الگ کر کے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رکھا جائے گا۔ تاکہ جرمن قوانین کے مطابق اس کی ذہن سازی کی جاسکے۔ جرمن خبری ادارے ڈی ڈبلیو پر 2018 میں ایک خبر شائع کی گئی تھی جس کاعنوان تھا ’’مسلم شدت پسند بچے جرمنی کے لئے شدید خطرہ ‘‘ اس وقت کے جرمنی کے داخلی سلامتی سے متعلق خفیہ ادارے بی ایف وی (ادارہ برائے تحفظ آئین) کے سربراہ ہانس گیورگ ماسین کے مطابق شدت پسند مسلم گھرانوں میں پرورش پانے والے بچے جرمن معاشرے کے لیے خطرات کا باعث ہیں۔ جن کی نگرانی کا عمل ضروری ہے۔ مغربی دنیانے اسلام اورمسلمانوں کا تعارف شدت پسندی سے جوڑرکھا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی من مانی انسانی حقوق کی تشریحات جس میں مادر پدر آزادی کا مقصد انسانوں کو خواہشات کا غلام بنا کر خود غرضی اور انفرادیت پسندی کی طرف دھکیلنا ہے۔ تاکہ کسی بھی قسم کی ایسی اجتماعیت کو بننے سے روکاجائے جو سرمایہ داریت کے لئے خطرہ بن سکے۔ مغربی کیپی ٹلسٹ محققین کواس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ حقیقی اسلام سرمایہ داری کی ضدہے۔ ایسے میں دنیا میں مسلم شدت پسندی، انتہا پسند، بربریت، دہشت گرد وغیر ہ جیسی اصطلاحات پرکئی دہائیوں سے کام ہو رہا ہے۔ اس تصویر میں حقیقت کے رنگ بھرنے کے لئے مسلم ممالک میں آلہ کار حکومتوں کے ذریعے فرقہ واریت کے نام پرجہاداورمغرب کی پراکسی جنگوں کو اسلامی جہاد کا عنوان دے کر مغربی میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کی خوفناک تصویر پیش کی گئی ہے۔ دوسری جانب خود کو جمہوریت، انسانی آزادی، حقوق کاتحفظ اور معاشی ترقی کی جنت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ انھیں اس کے دو فوری فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا فائدہ یہ کہ ان مغربی ممالک کے شہری اپنے استحصالی نظام کوہی غنیمت سمجھتے ہیں۔ دوسرا مسلم ممالک میں موجود معاشی تنگی اور سیاسی بے امنی سے گھبرائے معتدل افراد خاص طور پرنوجوان ملک سے بھاگ کر ان ممالک میں جاکرسستی لیبر کے طور پر اپنی بدنی اور ذہنی صلاحیتیں پیش کرتے ہیں۔ لیکن ملک چھوڑنے والوں کے لئے اس کے ممکنہ نتائج کس قدر خوفناک ہیں اس کااندازہ ہی نہیں لگایا جاتا۔ پاکستان میں لوگ مغربی دنیا سے متعلق جس رومانویت کو شکار رہتے ہیں۔ اپنا اور اپنے خاندان کامستقبل یورپ امریکہ میں ڈھونڈتے ہیں انھیں چاہئے کہ وہ ذرا آنکھیںکھولیں۔ اب ڈیجیٹل دنیا نے اس رومانویت کی قلعی کھول دی ہے۔ پچھلے دنوں میرے بچپن کے دوست اور شعبہ ابلاغیا ت کے پروفیسر ڈاکٹر اکرم سومرو صاحب کے گھر پر ایک پرتکلف کھانے پر فکری نشست کا اہتمام تھا۔ دینی تناظر میں قومی سوچ اور باشعور طبقات کی ذمہ داریوں پر بات ہو رہی تھی تو ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک امریکہ سے آئے دوست کاواقعہ سنایاکہ وہ صاحب بتا رہے تھے کہ ایک دن ان کے بڑے بچے کی ناک پرہلکی سی خراش آگئی۔ تو اگلے ہی دن سکول انتظامیہ گھر آگئی کہ اس بچے کو چوٹ کیسے لگی ہے؟ حالانکہ بچہ بتا چکا تھا کہ چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلتے ہوئے ناک پر رگڑ لگ گئی تھی۔ لیکن اس کی باقاعدہ تحقیق کی گئی کہ کہیں ماں باپ نے توکچھ نہیں کہا۔ اس کا ایک پہلو تویہ تھا کہ واہ بھئی کتنا ذمہ دار نظام ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بچے کے والد فخریہ بتا بھی رہے تھے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ آپ کی اولاد آپ کی نہیں ہے۔وہ اس ملک کے نظام، آئین اور قانون کی پابند ہے جسے وہ انسانی حقوق کے نام پرکبھی بھی چھین کر لے جاسکتے ہیں۔ آپ مسلمان ہونے کے باوجود اپنے بچے کو دین کی اخلاقی،سیاسی و معاشی تصور اور عبادات کے نتائج واثرات سے روشناس نہیں کرا سکتے۔ کیونکہ یہ اس ملک کے سرمایہ دارنہ نظام سے متصادم ہے۔ شاید آپ کو جزو ی طور پر عبادات کی رسوم ادا کرنے کی اجازت تودے دی جائے لیکن اس کے حقیقی نتائج پرذہن وکردار سازی کی اجازت قطعاًنہیں ملے گی۔ پوری مغربی دنیا اور جہاں جہاں سرمایہ داریت کے اثرات بذریعہ نظام منتقل ہو رہے ہیں اس کا نتیجہ دہریت کی صورت میں نکل رہاہے۔ سوچیں کہ جولوگ ذرا سی معاشی آسودگی یا تحفظ کی خاطر پاکستان چھوڑ کر یورپ،امریکہ، کینیڈا کی راہ لیتے ہیں ۔ انھیں اس کی قیمت کیا چکانی پڑتی ہے۔ سب سے پہلے اجنبی معاشرے میں آ پ کی شناخت ختم جاتی ہے۔ دہائیوں کے سفر کے بعد بھی آپ اس پرائے دیس کے لئے تارکین وطن، کالے یا براؤن جیسے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ تیسرے درجے کے شہری۔ امریکہ جو دنیا بھر میں خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن سمجھتا ہے پچھلے تین سوبرس میں امریکہ میں موجود سیاہ فاموں کو حقوق دے سکا ہے نہ تحفظ۔ امریکہ میں سفید فام تحریکیں اور حالیہ سٹیزن شپ پالیسی اس کی غمازہیں۔ فرانس میں آج بھی نوآبادیاتی مہاجرین کے علاقے الگ ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر افراد معیشت کے نچلے درجے سے منسلک ہیں۔ یہی حال برطانیہ میں موجود پاکستانیوں کا ہے۔ میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں اور ان کے واقعات بھی سن چکاہوں کہ پاکستان میں ایک مناسب زندگی چھوڑکر
برطانیہ گئے۔ اب وہاں سخت معاشی جدوجہد،تنگ گھروں اور اجنبی ماحول میں کسی شناخت کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ آنیوالی نسلوں کو ایک ایسے نظام کے سپردکر رہے ہیں جوانھیں عملی طورپردہریہ بنارہا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو بادی النظر میں ایسا لگتاہے کہ ریاست نے ایسی پالیسی ترتیب دے رکھی ہے کہ عام پاکستانی نظام سے مایوس ہو کر ملک چھوڑ دے۔ پاکستان کا اکثریتی طبقہ معاشی وسائل سے محروم ہے۔ناہموارمذہبی، سماجی اور سیاسی رویئے نوجوانوں کو متنفر کرر ہے ہیں۔ایسے میں لوگ پاکستان چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ا س کافائدہ بھی ریاست کو ریمیٹنس کی صورت میں مل رہا ہے۔لیکن یہ کسی طرح بھی اس باصلاحیت نوجوان کا متبادل نہیں ہے جو ملک چھوڑ کر چلاگیا۔ اس کی حفاظت اور اطمینان ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے وطن اور دین سے ہے۔ لہٰذا اپنے ملک میں حقیقی اسلامی جمہوریت، معاشی حقوق قائم کرنے اور سماجی انصاف کے لئے آوازبلند کرنے والے اگر ملک چھوڑ دیں گے تو یہاں صر ف مظلوم طبقات اور ظالم اشرافیہ ہی بچ جائیں گے۔ اس لئے دیار غیر میں معمولی معاشی ترقی کے سراب کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اپنے وطن کو سنواریں اور ایک معزززندگی بسر کرنے کی جدو جہد اپنے ملک میں ہی کریں۔
ملک چھوڑ کر نہ جائیں!
09:13 AM, 3 Sep, 2025