آزاد کشمیر کی صورت حال

09:03 AM, 4 Oct, 2025

کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی جو کر رہی ہے اس سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں ۔ اس لئے کہ آزاد کشمیر میں کسی بھی قسم کا تشدد یا احتجاج خود کشمیر کاز کے لئے نقصان دہ ہے ۔ احتجاج کے دوران اگر کسی بھی قسم کا تشدد یا خون ریزی ہوتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت پر آتی ہے پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس احتجاج کی تمام سیاسی جماعتیں مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ بیشتر مطالبات مئی میں پورے ہو چکے ہیں ۔ پر امن احتجاج اور وہ بھی جائز مطالبات کے لئے ہر کسی کا حق ہے لیکن جس احتجاج میں گولیاں چلنا شروع ہو جائیں ۔ جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو گولیاں مار کر شہید کیا جانے لگے ۔ جس میں عام شہریوں کی اموات ہونے لگے ۔جس میں گھیراﺅ جلاﺅ ہونے لگے تو اسے پر امن احتجاج تو کسی طور نہیں کہا جا سکتا اور کوئی ایسی تحریک جس میں اس طرح سے تشدد کا رنگ شامل ہو جائے اس سے کبھی ملک و قوم کے لئے مثبت نتائج نہیں نکلتے بلکہ ہمیشہ منفی نتائج نکلتے ہیں اور اس سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں ۔ یہ بات ہم ہوا میں نہیں کر رہے بلکہ انڈین میڈیا ، حکومت اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس احتجاج میں نہ صرف یہ کہ دلچسپی لے رہی ہیں بلکہ اس احتجاج میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے کہ اس کے پیچھے انڈین ہاتھ صاف نظر آ رہا ہے اور ہمارے کچھ نادان دوست جانے انجانے میں انڈین مفادات کی تکمیل کا باعث بن رہے ہیں ۔ حیرت ہمیں پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت پر ہو رہی ہے کہ اس کی احتجاج کی تمام کالیں ناکام ہو چکی ہیں حتیٰ کہ پاکستان کی معیشت کا پہیہ جام کرنے کے لئے بیرون ملک پاکستانیوں کو نومبر2024میں زرمبادلہ نہ بھیجنے کی جو کال دی تھی وہ بھی اس بری طرح پٹ گئی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس کال کے بعد پہلے سے تیس سے بتیس فیصد زرِ مبادلہ زیادہ بھیجنا شروع کر دیا اور گذشتہ دنوں پشاور جلسہ جو ایک طرح سے آخری امید تھی وہ بھی ناکام ہو گیا تو اب اس جماعت نے جب کسانوں کا احتجاج ہوتا ہے تو اسے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے ہے جب وکیلوں کا احتجاج ہوتا ہے تو اسے کے پیچھے کھڑی ہو جاتی ہے حتیٰ کہ لاہور میں ایک سازش کے تحت اگرنجی کالج میں ایک جھوٹا سکینڈل منظر عام پر لایا جاتا ہے تو یہ اسے بھی ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اب اپنے تمام کارڈ کھیلنے کے بعد کبھی بی ایل اے کبھی خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کی اور اب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے اور کوشش یہی ہے کہ آزاد کشمیر کی کشیدہ صورت حال کو پاکستان کے اندر تک وسعت دی جائے ۔ 
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے15بیس مطالبات ہیں ان میں سے بیشتر تو مئی میں ہی مان لئے گئے تھے اس کے علاوہ دو تین ہی قابل ذکر ہیں ۔ اختلاف کی بڑی وجہ کہ وہ کشمیری مہاجرین ہیں جو مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں ان کی12 نشستوں کو ختم کیا جائے ۔ اب یہ مطالبہ خود اپنے ہی کشمیری بھائیوں کے حق پر ڈاکہ ہے اور یہ پاکستان کے خلاف ایک بہت بڑی چال ہے کہ کشمیر میں مطالبات کے نام پر ہنگامے کرو ، ہڑتالیں کرو اور اگر حکومت یہ مطالبہ مان لیتی ہے تو پھر پاکستان میں آباد کشمیری مجاہدین سے احتجاج کرائیں۔ دوسرا اس مطالبہ کا انتہائی خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر یہ نشستیں ختم کر دی جاتی ہیں تو پاکستان سے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے تعلق ٹوٹ جائے گا تو یہ احتجاج کس کی پچ پر کھیلا جا رہا ہے اسے سمجھنا مشکل کام نہیں ہے ۔ دوسری انتہائی متنازع ڈیمانڈ کشمیر سے بیرونی فورسز کے انخلا کی ہے ۔ یہ مطالبہ کسی طور بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس شرط سے پتا چلتا ہے کہ جوائنٹ کمیٹی والوں کی نیت کیا ہے اور جو زبان بول رہے ہیں وہ کس کی ہے ۔ یہ پاکستانی فوج کو نکال کر آزاد کشمیر کا تحفظ کیسے کریں گے کہ جس کے ساتھ ہندوستان کی ساتھ لاکھ فوج ہے یعنی یہ آزاد کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر ہندوستان کو دینے کی سازش کر رہے ہیں ۔
 بجلی کی قیمتیں اور آمدن میں کشمیر کا جو حصہ ہے اس پر یقینا بات ہو سکتی ہے اور حکومت کو کشمیریوں کا جائز حق دینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے لیکن ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح یہ حالات پاکستان تک پہنچا کر وہاں بھی حالات خراب کئے جائیں تاکہ ہندوستان کی عبرت ناک شکست کا بدلہ لیا جا سکے اور پاکستان خارجہ ، داخلہ اور معاشی میدانوں میں جو کامیابیاں حاصل کر رہا ہے ان کو بریک لگائی جا سکے ۔ جب بھی اس طرح کی کوئی تحریک چلتی ہے اور اس میں جو چارٹر آف ڈیمانڈ ہوتا ہے وہ کبھی مکمل طور پر منظور نہیں ہوتا اور مذاکرات میں ہمیشہ کچھ دو اورکچھ لو کے تحت بات ہوتی ہے اور اس طرح معاملات حل کئے جاتے ہیں اور پھر ان مطالبات میں دو تین تو ایسے ہیں کہ جو صرف انتظامی حکم سے پورے نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور آئینی ترمیم کے لئے پارلیمنٹ کا فورم ہوتا ہے سڑکوں پر احتجاج سے ترمیم نہیں ہو سکتی لیکن مذاکرات میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا سو فیصد مطالبات کی منظوری پر اڑ جانا ہی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دال میں بہت کچھ کالا ہے۔ہماری محترم صدر مملکت ، جناب وزیر اعظم اور قابل احترام فیلڈ مارشل صاحب سے گذارش ہے کہ جو وطن کا وفادار ہے اسے نواز دیں اور جو نہیں اسے لتاڑ دیں۔

مزیدخبریں