عیسوی سال کے دسویں مہینے اکتوبر کا آغاز ہو چکا ہے اور بکری یا دیسی سال کا چھٹا مہینہ اسوج تقریباً دو تہائی گزرچکا ہے۔ اب دو تین ہفتے یا زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ گزرے گا جب ہمارے پوٹھوہار کے بارانی علاقے میں گندم کی فصل کی بوائی مکمل ہو چکی ہو گی یا مکمل ہونے والی ہو گی۔ ان دنوں ہمارے ہاں دیہات میں گندم کی بوائی کے لیے زمینوں کی تیاری کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ ٹریکٹر مالکان کی مصروفیات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے کہ ایک طرف انہیں اپنی زمنیوں میں ہل چلا کر انہیں گندم کی بوائی کے لیے تیار کرنا ہے تو دوسری طرف وہ دوسروں کی زمینوں کو بھی معاوضے پر جو عموماً چار ہزار روپے فی گھنٹہ تک ہے وغیرہ میں بھی ہل چلانے میں لگے رہتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا ، آج سے تقریباً پچاس ساٹھ سال قبل اور اس سے پہلے کا زمانہ، جب کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے ٹریکٹر اور اسی طرح کی مشینری کا استعمال عام نہیں تھا۔ فرٹیلائزر یا زرعی کھادوں کا استعمال بھی انتہائی محدود یا نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس دور میں ربیع کی بڑی فصل گندم اور اس کے ساتھ سرسوں، چنے اور جَو وغیرہ آج کل کے مقابلے میں جلدی کاشت کیے جاتے تھے۔ عموماً وسط اکتوبر یا دیسی مہینے اسوج کے آخر تک یہ فصلیں بو دی جاتی تھیں۔ ان دنوں اکتوبر کے پہلے دو اڑھائی ہفتے بلکہ اس سے قبل ستمبر کے آخری دو اڑھائی ہفتوں سمیت مہینے ڈیڑھ مہینے کا عرصہ کسانوں کے لیے بے پناہ مصروفیت ، محنت و مشقت کا ہوا کرتا تھا۔ اُن کو کئی کئی گھنٹے کھیتوں میں ہل چلانے، انہیں ہموار کرنے اور اُن میں وَتر (نمی) کو محفوظ رکھنے کے لیے ان میں سہاگہ پھیرنے میں لگ جاتے تھے تو اس کے ساتھ انہیں کھیتوں کے مقابلتاً خشک حصوں میں ہل چلانے کے دوران اُٹھنے والی مٹی کے ذرا بڑے ڈھیلوں کو لکڑی کے بنے ہوئے موٹے دستوں سے توڑنا بھی ہوتا تھا۔
یہ سارے کام کافی مشقت طلب ہوتے ہی تھے، اس کے ساتھ مکئی کی فصل جو ہمارے ہاں اس زمانے میں کنویں کی چاہی زمینوں میں کاشت کی جاتی (اب بھی کاشت کی جاتی ہے لیکن مویشیوں کے چارے کے طور پر نہ کہ اُس دور کے مطابق اناج کے طور پر استعمال کے لیے)، اُس کی گوڈی اور اُسے باقاعدگی سے سینچنا(پانی دینا) بھی ضروری ہوتا تھا تا کہ فصل میں موٹے بھٹے (چھلیاں) لگیں۔ پھر اسی دوران خریف کی فصلوں باجرہ، جوار اور مونگ ماش کی کٹائی بھی شروع ہو جاتی ۔ ان کا سنبھالنا بھی ضروری ہوتا تھا۔ غرضیکہ کام در کام اور مشقت در مشقت کا ایسا
سلسلہ جاری رہتا جس میں ہمارے ہاں کسان گھرانوں کے مرد و زن کے ساتھ ان کے بڑے اور چھوٹے کسی نہ کسی حیثیت میں ضرور شریک ہوتے اور انہیں کوئی نہ کوئی کام سرانجام دینا پڑتا۔
میں اُس زمانے کو یاد کروں تو کئی باتیں میرے ذہن کے نہاں خانے میں اُبھرتی ہیں اور میں سوچتا ہوں کہ کھیتی باڑی اور کاشت کاری میں ٹریکٹر سمیت دیگر مشینوں، فرٹیلائزر، ترقی دادہ بیجوں، زرعی ادویات اور آبپاشی کے ذرائع کے استعمال جہاں اخراجات میں اضافہ ہوا ہے وہاں فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے ساتھ کاشتکاری کے مختلف امور کی سر انجام دہی اور تکمیل میں وقت کی بچت اور دیگر سہولیات بھی حاصل ہوئی ہیں۔ وہ زمانہ جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں ایسا تھا کہ بیلوں کی جوڑی سے کسی ایک بڑے کھیت یا کئی کھیتوں میں ہل چلانے میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے۔ اس کے علاوہ کھیتی باڑی سے جڑے کچھ دیگر کام بھی ہوتے تھے جن کے لیے الگ وقت درکار ہوتا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ والد محترم حاجی ملک محمد خان مرحوم و مغفور جو ایک سادہ کسان تھے۔ اُنہیں اِن دنوں یعنی ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں کے دوران اپنے کھیتوں میں ہل چلانے اور زمینداری کے دیگر کاموں کی سر انجام دہی کے لیے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا تھا اور اس پر مستزاد یہ کہ انہیں یہ سارے کام اکیلے ہی کرنا ہوتے کہ ہماری والدہ ماجدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ کو والد صاحب ، محترم لالہ جی نے زندگی بھی کم ہی کھیتوں میں کام کے لیے تکلیف دی ہو گی۔ بڑے بھائی محترم حاجی ملک غلام رزاق شروع سے سکول کی پڑھائی کے ساتھ کھیتی باڑی کے کاموں میں لالہ جی کا ہاتھ بٹاتے رہے لیکن میٹرک کے بعد فوج میں بھرتی ہو گئے تو ان کا ہاتھ بٹانا بھی ختم ہو گیا۔ کھیتی باڑی کے کاموں میں میرا حصہ بس ایک مہمان کردارجتنا ہی تھا کہ اگر گاﺅں میں ہوتا تو لالہ جی جو صبح منہ اندھیرے فجر کی نماز کے بعد بیل اور گائے کی جوڑی کے ساتھ کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے چلے جایا کرتے تھے ان کے لیے چائے اور کھانے کی کوئی چیز لے جاتا۔ ہماری دندی والی زمین کے کھیت گاﺅں سے تقریباً ڈیڑھ دو کلومیٹر دور ہیں۔ مَیں تیز چل کر بھی جاتا تب بھی ایلی مونیم کی کیتلی میں چائے ٹھنڈی ہو جاتی۔ لالہ جی گرم چائے پینے کے عادی تھے، وہ کھیتوں کے منڈیروں پر اکٹھی کی ہوئی خشک گھاس کو آگ لگاکر کیتلی میں چائے گرم کر لیتے اورساتھ حقے کو بھی سلگا لیتے۔ آس پاس کے کھیتوں میں ہل چلانے والے کوئی عزیز رشتہ دار وغیرہ بھی حقہ پینے کے لیے لالہ جی کے پاس آن بیٹھتے۔ میں اس دوران بیل اور گائے کی جوڑی کو ہانکتے ہوئے ہل چلانا شروع کر دیتا۔ لالہ جی مجھے روکتے ، ٹوکتے رہتے کہ تم سے ہل صحیح نہیں چل رہا ، لیکن میں پھر بھی پندرہ بیس منٹ یا کچھ زیادہ وقت ہل چلانے میں ضرور لگا لیا کرتا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہل کی ہتھی (جسے دائیں یا بائیں ہاتھ سے پکڑ کر ہل کو قابو میں رکھا جاتا تھا) کو مضبوطی سے دائیں ہاتھ میں پکڑے رکھنے کی وجہ سے میرے ہاتھ کی ہتھیلی پر ابھر تے ہوئے نشان یا مروڑیاں سی بن گئی تھیں جو کتنے سال تک موجود رہیں۔
بات کچھ دور نکل گئی میں کہنا چاہتا تھا کہ کاشتکاری ، کھیتی باڑی یا زمینداری کسی دور میں بھی آسان نہیں تھی۔ پچاس ساٹھ سال قبل اگر ہل چلانے اور کھیتی باڑی کے دیگر کاموں پر کم اخراجات اُٹھتے تھے کہ نہ ہل چلانے کے لیے ٹریکٹر ہوتے تھے ، نہ مہنگی زرعی کھادیں، فرٹیلائزر اور مہنگے بیج ہوا کرتے تھے لیکن کھیتی باڑی کے کاموں کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وقت زیادہ لگتا تھا اور پھر کھیتوں سے پیداوار بھی کم حاصل ہوتی۔اب کھیتی باڑی ، کاشتکاری یا زمینداری کے اخراجات میں حد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے لیکن کھیتی باڑی کے جدید ذرائع کے استعمال سے جہاں وقت کم لگنے لگا ہے وہاں فصلوں کی پیداوار میں بہر کیف اضافہ ہو چکا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ والد محترم لالہ جی مرحوم و مغفور دسمبر، جنوری اور فروری کی سردیوں کے تقریباً تین مہینے چھوڑ کر کھیتوں میں ہل چلاتے رہا کرتے تھے اور سات آٹھ ایکڑ بارانی زمین میں گندم کاشت کیا کرتے تھے۔ فصل تیار ہوتی، کٹتی اور گاہی جاتی تو بھوسے کے دو پھواڑے (ڈھیر) ایک بڑا اور ایک چھوٹا ضرور لگ جاتے لیکن دانے جو گھر آتے وہ پینتیس، چالیس مَن سے کم ہی ہوتے۔ اب میں اپنی بات کروں تو میں تقریباً دو ایکڑ زمین میں گندم کاشت کراتا ہوں۔ پیداوار عموماً چالیس مَنوں سے کچھ کم یا زیادہ ہو جاتی ہے لیکن اخراجات کی کوئی حد نہیں کہ سارے کام اُجرت پر کرانا ہوتے ہیں۔ ہل چلائی ٹریکٹر کے اخراجات، کھاد، بیج ، زرعی ادویات کا استعمال ، فصل کے لیے پانی کا بندوبست ، کٹائی، گاہی (تھریشنگ) کی مزدوری اور بار برداری کے اخراجات مِل ملا کر ایک لاکھ پندرہ بیس ہزار کے لگ بھگ اور پیداوار زیادہ سے زیادہ چالیس من تک جس کی کل قیمت تقریباً یہی کوئی سوا لاکھ تک ہو سکتی ہے یعنی کاشتکاری یا زمینداری سے مجھے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا بلکہ جیب سے پیسے لگتے ہیں لیکن کھیتی باڑی اور کاشتکاری سے ایک لگاﺅ ہے جو بہر کیف پورا ہو رہا ہے ۔۔اللہ جانے کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
کاشتکاری کبھی اتنی آسان تو نہ تھی....!
09:03 AM, 4 Oct, 2025