ہماری ٹافی دے دو

08:58 AM, 4 Oct, 2025

ذلیل ہونا تو کوئی بھارت سے سیکھے۔ یہ عزت پانے کی جگہ پر بھی ذلتیں سمیٹنے کے ہنر میں یدِطولیٰ رکھتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران دنیا نے اسے دو بار ہمارے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھ لیا ہے۔ پہلی بار بھارت کو مئی میں اس وقت بدترین ذلت کا سامنا کرنا پڑا جب پاکستان نے اس کے تین جدید ترین رافیل طیارے مار گرائے۔ بھارت پر اس ذلت کے اثرات اب تک جاری ہیں۔
دوسری باربھارت نے اپنی تذلیل کا انتظام گزشتہ ماہ ہونے والے ایشیا کپ میں بہ طریق احسن کیا۔ اسے ٹورنامنٹ میں تین بار پاکستان کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے پاکستان کے ہاتھوں جنگ میں ملنے والی ہزیمت کا بدلہ یوں لیا کہ بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ہی نہیں ملایا۔ بھارت کا یہ رویہ پوری دنیا نے دیکھا۔ یوں بھارت نے خود پوری دنیا کو یاد دہانی کرا دی کہ پاکستان کے ہاتھوں ہماری درگت بن چکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہاتھ ملانے سے بھارت کی جو تھوڑی بہت عزت رہ سکتی تھی، ہاتھ نہ ملا کر اس نے خود ہی خاک میں ملا دی۔
دوسری بار کی اسی ذلت کی دوسری قسط اس وقت سامنے آئی جب اس نے ایشیا کپ کا فائنل میچ جیتا لیکن بھارتی ٹیم ٹورنامنٹ کی ٹرافی وصول کرنے ہی نہیں آئی کیونکہ یہ ٹرافی جس شخصیت کے ہاتھوں ملنا تھی، اس کا تعلق پاکستان سے تھا۔ یہ طے تھا کہ فائنل کی ٹرافی ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی دیں گے اور بھارت بھی یہ بات بخوبی جانتا تھا۔ بھارتی ٹیم کا خیال ہو گا کہ جب وہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کرے گی تو کسی اور کے ذریعے اسے دے دی جائے گی لیکن محسن نقوی نے اس موقع پر بہت دانش مندانہ فیصلہ کیا کہ ٹرافی اے سی سی کے صدر دفتر میں رکھوا دی۔ یوں بھارتی ٹیم ٹرافی لیے بغیر اپنے ملک واپس چلی گئی۔ 
کھیلوں کی تاریخ میں ایسا شاید پہلی بار ہی ہوا ہو کہ کسی ٹیم نے اپنی ٹرافی صرف اس لیے وصول نہیں کی کہ وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھوں مل رہی تھی جس کا تعلق دشمن ملک سے تھا اور اس ملک نے چند ماہ قبل ہی ٹرافی وصول کرنے والی ٹیم کے ملک کو جنگ میں عبرت ناک شکست دی تھی۔ گویا یہاں بھی بھارت نے خاموشی سے ٹرافی وصول کر کے اپنی عزت بچانے کی بجائے، ٹرافی وصول نہ کر کے پوری دنیا کے سامنے اپنے عزت کو نیلام کیا۔
سیانے کہتے ہیں اگر آدمی کی کہیں عزت بنی ہو تو اسی بنی رہنے دینا چاہیے، گنوانا نہیں چاہیے لیکن شاید بھارت کے پاس ایسا کوئی سیانا موجود ہی نہیں یا پھر بھارت خود کو سب سیانوں سے زیادہ سیانا سمجھتا ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ سیانا کوا ہمیشہ غلاظت ہی کھاتا ہے۔ 
محسن نقوی نے بھارتی ٹیم کی گری ہوئی حرکت کو بہت شان دار طریقے سے پاکستان کے حق میں استعمال کیا ہے۔ بھارتی ٹیم کی ہٹ دھرمی کے باوجود اگر اسے خاموشی کے ساتھ ٹرافی تھما دی جاتی تو بھارتی خباثت دنیا پر کیسے عیاں ہوتی چنانچہ محسن نقوی نے بھارتی ٹیم کی جانب سے ٹرافی وصول نہ کیے جانے پر اسے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر دفتر میں رکھوا دیا۔ بھارتی ٹیم اور اس کے ذمہ داران نے اب یوں ٹرافی دے دو کی رٹ لگا رکھی ہے جیسے چھوٹے بچے رو رو کر کسی سے اپنی چھنی ہوئی ٹافی واپس مانگتے ہیں۔
جب بھی کوئی دو فریق مقابلہ کرتے ہیں تو ان میں سے ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار یقینی ہوتی ہے لیکن یہ ہارجیت صرف ظاہری ہوتی ہے۔ اصل ہار جیت وہ ہوتی ہے جو فریقین کے اخلاقی رویے میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر دونوں فریق اچھے رویے کا مظاہرہ کریں تو جیتنے والے کی فتح تو ہے ہی، ہارنے والے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ہار کر بھی جیت گیا لیکن اگر جیتنے والا بد اخلاقی کا مظاہرہ کرے تو وہ جیت کر بھی ہار جاتا ہے البتہ ہارنے والے کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ تو پہلے ہی ہارا ہوا ہوتا ہے۔ ایشیا کپ کے دوران پاکستان کے خلاف تینوں میچوں اور ٹرافی لینے کے موقع پر اپنی روایتی بداخلاقی کا مظاہرہ کر کے بھارت تینوں میچ اور ٹرافی جیت کر بھی ہار گیا ہے۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے لیکن بھارت میدان جنگ میں اپنی شکست کا حساب برابر کرنے کے لیے سیاست کو کھیل کے میدان تک لے آیا۔ یوں تو دنیا بھر میں کھیل کو سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ کام ہمیشہ غیر محسوس طریقے سے کیا جاتا ہے، بھارت کی طرح محسوس نہیں کرایا جاتا۔ طاقت ور ملک کھیل کے میدان میں زیادہ سے زیادہ کھلاڑی بھیج کر اور تمغے جیت کر اپنی برتری کا اظہار کرتے ہیں جیسے آج کل اولمپکس میں امریکہ اور چین بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر رہتے ہیں جبکہ جاپان، آسٹریلیا اور برطانیہ جیسے ممالک بھی زیادہ سے زیادہ میڈلز کی دوڑ میں شامل رہتے ہیں۔ یہ ہے کھیل کے ذریعے سیاست کرنے کا درست طریقہ جبکہ بھارت کا طریقہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ یہ بلیک میلنگ اور بداخلاقی کے ذریعے کھیلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے جس کا ایک ہی علاج ہے کہ اسے کھیلوں کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ ایشیا کپ کے میچوں میں حریف ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے اور ٹرافی وصول نہ کرنے جیسے رویئے کے پیش نظر کم از کم ایشیئن کرکٹ کونسل کو تو بھارت کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر ہی دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ٹورنامنٹ کی ٹرافی بھی کسی صورت نہیں دینی چاہیے تاکہ یہ ہمیشہ بچوں کی طرح "ہماری ٹافی دے دو" کا راگ الاپ الاپ کر روتا رہے۔

مزیدخبریں