ٹرمپ غزہ امن پلان: جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

08:57 AM, 4 Oct, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عقیدے کے اعتبار سے صہیونی عیسائی ہیں۔ وہ تیسرے ہیکل کی تعمیر اور اسرائیلیوں کے عالمی غلبے کو مانتے ہیں۔ بائبل مقدس یا عہدنامہ قدیم کے مطابق یہواہ یعنی خدا بنی اسرائیل کو ایک دفعہ پھر اکٹھا کرے گا اور ان پر ایسے ہی اپنی نعمتوں کی بارش کرے گا جیسے حضرت سلیمان علیہ اسلام کے دور میں ہوا کرتی تھی۔ ہیکل بنی اسرائیل کی روحانیت کا مرکز و محور تھا۔ صہیونی تحریک اس وعدہ خداوندی کو عملی شکل دینے کی جدو جہد میں مصروف ہے۔ جدید صہیونیت کے بانی تھیوڈو ھرزل نے 1897ءمیں ”یہودی ریاست“ کا نظریہ صہیونی کانگریس میں پیش کیا۔ اس کتاب میں پیش کردہ نظریے کو عملی شکل دینے کیلئے پوری دنیا کے یہودیوں کو آمادہ کیا گیا۔ اسی تحریک کی کاوشوں کے نتیجے میں 1917ءمیں برطانیہ عظمیٰ کے وزیر خارجہ لارڈ بالفور (آرتھر جیمز بالفور) نے ممبر برٹش پارلیمنٹ اور برطانوی یہودیوں میں اعلیٰ مقام کے حامل لائینول والٹر روتھس چائلڈ کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت یہودی صہیونی ریاست کے مطالبے کو ہمدردی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ یہ خط بالفور ڈکلیئریشن کے نام سے مشہور ہوا اور 1948ءمیں یہودی صہیونی ریاست اسرائیل کے قیام کی بنیاد بنا۔ وہ دن اور آج کا دن، صہیونی ریاست کی جغرافیائی سرحدیں پھیلتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ اکتوبر 2023ءسے غزہ میں صہیونی ریاست نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ اڑھائی لاکھ سے زائد مرد، عورتیں اور بچے ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ 21 لاکھ سے زائد فلسطینی اپنے آبائی گھروں سے نکالے جا چکے ہیں۔ غزہ میں 80 فیصد سے زائد رہائشی و کمرشل عمارتیں پیوند خاک ہو چکی ہیں۔ عالمی عدالت اسرائیلی وزیراعظم کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے چکی ہے۔ غزہ عملاً ناقابل رہائش ہو چکا ہے۔ اس پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی، خون ریزی کے خاتمے، فلسطینیوں کو امداد کی بلا روک فراہمی اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نکالنے کا خاتمہ کرنے کے 4 نقاطی پروگرام کو لے کر آٹھ مسلمان ممالک سے رابطہ کیا۔ پاکستان، سعودی عرب، یو اے ای، ترکیہ، اردن، قطر، انڈونیشیا اور مصر کی قیادت سے بات چیت کی اور ایک 21 نقاطی امن منصوبہ تیار کیا۔ اس کی تیاری کے وقت مسلم ممالک کی قیادتوں کو کہا گیا کہ اسے پوشیدہ رکھنا ہے۔ ہم نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے امن قائم ہوا چاہتا ہے کے اعلان بھی کر دیئے۔ ہمارے وزیراعظم اور نائب وزیراعظم پہلے ہی ٹرمپ پلان پر آمادگی ظاہر کر چکے تھے لیکن منصوبے کی تفصیلات سامنے آئیں تو ہماری امیدوں اور خوشیوں پر اوس پڑ گئی۔ کہا گیا یہ وہ پلان نہیں ہے، جس پر ہم نے آمادگی ظاہر کی تھی۔ اسے پلان کہیں یا معاہدہ اس میں دس فریقین ہیں۔ امریکی صدر، اسرائیلی وزیراعظم اور آٹھ عربی و عجمی مسلمان ریاستیں۔ معاہدے میں حماس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 72/48 گھنٹوں میں اسرائیل کے زندہ و مردہ قیدی رہا کرے۔ ہتھیار پھینکے اور اگر غزہ سے نکلنا چاہے تو اسے محفوظ راستہ دیا جائے گا۔ بڑی حیران کن بات ہے کہ حماس ہی اس قضیے میں اصلی فریق ہے اور معاہدہ یا پلان تشکیل دیتے وقت اس سے مشاورت ہی نہیں کی گئی۔ 80ءکی دہائی میں بھی جنیوا امن معاہدے کی شکل میں ایسا ہی منصوبہ بنایا گیا تھا۔ سوویت یونین نے 1979ءمیں افغانستان پر فوج کشی کی۔ افغان مجاہدین کی شاندار جدوجہد آزادی کے نتیجے میں اشتراکی افواج کو شکست ہوئی۔ جنیوا میں پاکستان، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان افغان امن معاہدہ کیا گیا، جس طرح ٹرمپ امن معاہدے میں اصل فریق حماس کو شامل نہیں کیا گیا، ایسے ہی جنیوا امن معاہدے میں اصل فریق افغان مجاہدین کو شامل نہیں کیا گیا تھا، نتیجہ کیا نکلا؟ اشتراکی افواج کی واپسی کے بعد بھی افغانستان میں امن نہیں ہو سکا۔ ٹرمپ امن معاہدہ بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے کہ اس میں جنگ کا حقیقی فریق حماس کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔ معاہدے کی 20 شقیں ہیں، آزاد فلسطینی ریاست کا کہیں ذکر نہیں، دو ریاستی حل کے بارے میں بھی کچھ نہیں لکھا۔ معاہدے کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ حماس اسرائیل کے زندہ یا مردہ قیدی اس کے حوالے کر کے ہتھیار ڈالے اور چپ کر کے غزہ سے نکل جائے۔ کہاں جائے، اس کا کہیں ذکر نہیں۔ حماس کے جنگجوﺅں کو کون سا اسلامی ملک قبول کرے گا پھر سوال یہ ہے کہ وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر کیوں غریب الوطن ہوں۔ احوال واقعی تو یہ ہے کہ آزاد دنیا کے ساتھ واحد زمینی راستہ ”رفاہ پاس“ ہے جو غزہ کو مصر سے ملاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مصر نے تو اس راستے کے ذریعے فلسطینیوں تک امداد بھی اسرائیلی حکام کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچنے دی۔ عرب حکمران، حماس کو پسند نہیں کرتے۔ ویسے تو 23 عرب ممالک کے حکمران اپنے 450 ملین عوام کو بھی پسند نہیں کرتے۔ انہیں ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں عوام ان کے خلاف اٹھ نہ کھڑے ہوں۔ عرب حکمرانوں کا اقتدار جبر اور قہر کی بنیادوں پر کھڑا ہے، اس لیے انہوں نے غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ تابع داری اختیار کر رکھی ہے کہ وہ ان کے اقتدارکی محافظ ہوں لیکن عملاً ایسا نہیں ہے۔ سعودی عرب نے شاہ فیصل شہید کے دور میں تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا تو انہیں شہید کر دیا گیا۔ محمد بن سلمان نے ذرا بہادری دکھانے کی ٹھانی تو یاد ہے ٹرمپ نے کیا کہا تھا کہ سعودیوں کا اقتدار تو ہفتہ دو ہفتہ کے اندر اندر ختم کیا جا سکتا ہے۔ قطر پر حالیہ اسرائیلی حملے کو ہی دیکھ لیں۔ امریکی فوجی قطر 
میں بیٹھے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ یہاں ہے۔ امریکی قطر کی سالمیت کے ذمہ دار ہیں لیکن اسرائیلی نے یہاں موجود حماس قیادت کو ہلاک کرنے کی کاوش کی۔ یہ قیادت امریکی امن تجاویز پر صلاح مشورے کے لیے یہاں جمع تھی کہ اسرائیلی حملہ آور ہو گیا۔ امریکی قطری سالمیت کا تحفظ نہیں کر سکے۔ قطر کا جدید ترین امریکی دفاعی سسٹم دھرے کا دھرا رہ گیا۔ خطے میں امریکہ اگر کسی کے ساتھ فکری، نظری اور عملی طور پر سنجیدگی کے ساتھ کھڑا ہے تو وہ اسرائیل ہے۔ اسرائیل کا دفاع، امریکی ذمہ داری ہے جو وہ بڑی ذمہ داری کے ساتھ نبھا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو مذہبی جوش و خروش کے ساتھ اسرائیلی صہیونی قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔ عظیم اسرائیل کے قیام، تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر اور یہودی مسیحا کی آمد کے ساتھ یہودیوں کے عالمی غلبے کے لیے مذہبی جذبے کے ساتھ اسرائیل کی معاونت، ٹرمپ کے فرائض میں شامل نظر آ رہی ہے۔ ٹرمپ بیان کردہ اسرائیلی اہداف کے حصول کی راہ میں آخری رکاوٹ حماس کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ عرب حکمران بھی اس کام میں ٹرمپ کے معاون بنے ہوئے ہیں لیکن حماس کسی صورت بھی ہتھیار نہیں ڈالے گی، آخری حماس مجاہد تک۔

مزیدخبریں