اسرائیل کا صمود فلوٹیلا کی تمام کشتیوں پر قبضہ، آخری کشتی بھی اشدود منتقل

03:37 PM, 3 Oct, 2025

غزہ :اسرائیلی بحریہ نے فلسطین کے محصور علاقے غزہ کی جانب جانے والے انسانی امدادی قافلے "صمود فلوٹیلا" کی آخری کشتی پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ "مارینیٹ" نامی کشتی، جس پر پولینڈ کا جھنڈا نصب تھا، جمعہ کے روز غزہ کے ساحل سے تقریباً 42.5 ناٹیکل میل (79 کلومیٹر) کی دوری پر روکی گئی۔

بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے مطابق، کشتی پر 6 افراد سوار تھے جنہیں حراست میں لے کر کشتی کو اسرائیل کی بندرگاہ اشدود منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشتی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

امدادی قافلے کے منتظمین "گلوبل صمود فلوٹیلا" نے اپنے بیان میں اسرائیلی کارروائی کو "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام کشتیاں انسانی امداد، رضاکاروں اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے مقصد سے بھیجی گئی تھیں۔

اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ فلوٹیلا کی کشتیاں ایک ایسے علاقے کی طرف بڑھ رہی تھیں جو ایک فعال جنگی زون ہے، اور وہ اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ قانونی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہی تھیں۔

یاد رہے کہ صمود فلوٹیلا 31 اگست کو اسپین سے روانہ ہوئی تھی، اور مختلف ممالک کی 42 کشتیاں اس میں شامل ہوتی گئیں۔ اسرائیل نے ان تمام کشتیوں کو غزہ کی سمندری حدود سے کافی فاصلے پر روکا اور قبضے میں لے لیا۔

رپورٹس کے مطابق، اس کارروائی کے دوران تقریباً 450 رضاکاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

اسرائیلی اقدام کے خلاف یورپ، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں شدید احتجاج دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے۔

مزیدخبریں