غزہ پر کالم لکھنے کے لئے قلم اٹھایا تو بہت سے موضوعات ذہن میں گردش کرنے لگے۔غزہ کے کئی مناظر آنکھوں کے سامنے آ گئے خوراک اور ادویات لے کرگلوبل صمود فلوٹیلا کی غزہ کی جانب روانگی اسرائیلی فوج کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا ‘اہلیان غزہ کی بے سروسامان ہجرت اور تباہی کے رُلا دینے والے مناظر‘اسرائیل کی وحشت ناک بمباری سے غزہ کی تباہ ہونے والی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے کھانا چنتے ہوئے بے حال ‘کمزور اور لاغر بچے‘خوراک کے حصول کے لیئے ہاتھوں میں خالی دیگچیاں اٹھائے غزہ کے مرد‘ خواتین اور بچے‘ وہ با حجاب خواتین بھی نظروں کے سامنے آگئیں جو بے دست و پا غزہ سے ہجرت کر کے نامعلوم مقام کی جانب رواں دواں ہیں۔ اتنے کٹھن حالات میں بھی انہوں نے حیا کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔سر پر اسکارف لیئے اور عبایا پہنے یہ خواتین دنیا بھر کی مسلمان خواتین کے لیئے حیا کا عملی نمونہ پیش کر رہی ہیں کہ حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں ہمیں اپنے دین پر قائم رہنا ہے ۔پاکستان کے ان بے حس مسلمانوں پر بھی لکھنے کا دل کرتا ہے جن کی تقریبات اور گھر کی دعوتوں کے مرغن کھانے اسرائیلی اور امریکی مشروبات کے بغیر حلق سے نہیں اترتے۔جن کے گھر کے فرش‘بیت الخلا‘ برتن اور کپڑے بھی غیر ملکی صابن سے دھلتے ہیں۔جن کے بچوں کے ہاتھ میں ان ممالک کے چپس ‘ آئس کریم اور چاکلیٹس ہوتی ہیں جو غزہ کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لئے انسانیت کی تذلیل کرنے کی ہر حد پار کر چکے ہیں۔ان اسٹور مالکان پر بھی لکھنے کا دل کرتا ہے جن کے اسٹور اسرائیلی اور اسرائیل کے حواری اور سرپرست امریکی اور برطانوی مصنوعات سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے بے حس لوگ ان ممالک کی مصنوعات خرید کر ان کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں۔وہ ہمارے ہی پیسوں سے اسلحہ خرید کر غزہ کے مسلمانوں پر برسا رہے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج اکتوبر 2023ء سے امریکہ اور مغرب کی پشت پناہی کے ساتھ غزہ پر نسل کشی کی جنگ مسلط کر رکھی ہے ۔غزہ کے مسلمانوں پر عرصہ ٔ حیات انتہائی تنگ کر دیا ہے۔غزہ میں اس وقت صورتحال سنگین ہے‘غزہ جل رہا ہے ‘لہو میں نہا رہا ہے ‘ہر طرف دھماکے اور دھوئیں کے بلند بادل آسمان کی طرف اٹھ رہے ہیں‘ شہر کا بنیادی ڈھانچہ ختم ہو گیا ہے۔غزہ میں جاری خون ریزی اور تباہ کاری نے لاکھوں بے گناہ افراد کو متاثر کیا ہے، خاص طور پر بچے جو کسی جرم کے بغیر زخم کھا رہے ہیں۔شدید بمباری دیکھنے کے بعد وہ خوفزدہ ہو گئے ہیں۔
انبیا ؑکی سر زمین فلسطین میں غزہ کی پٹی کے اصل وارثوں کو ان کی زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔غزہ میں ان کے پاس رہنے کے لیئے کوئی چھت باقی نہیں بچی۔اب تک 2 لاکھ 31 ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہوچکے ہیںجن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔غزہ میں دنیا کی اپاہج اور معذورافراد کی ایک نسل وجود میں آ چکی ہے۔عورتیں اور بچے سب ظلم کا شکار ہیں‘وہ کھانے پینے کو ترس رہے ہیں۔ 24 لاکھ سے زائد فلسطینی شدید ترین محاصرے اور قحط کا سامنا کر رہے ہیں‘قحط کے باعث 432 فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں 146 معصوم بچے شامل ہیں۔ لاکھوں بے گھر ہو کر پناہ کی تلاش میں ہیں۔پناہ گزیں کیمپوں میں بھی ان کی زندگی محفوظ نہیں۔ اسرائیلی فوج نے رفح‘خان یونس اور غزہ کے دیگر جنوبی اور مشرقی علاقوں پر مسلسل بمباری اور غزہ شہر کے مغرب میں واقع الرمل کے جنوبی علاقے میں مکہ ٹاور کو جارحیت سے نشانہ بنایا اور چند لمحوں کے نوٹس کے بعد میزائلوں کی بارش کر کے اسے زمین بوس کر دیا۔مکہ ٹاور درجنوں منزلوں پر مشتمل ایک رہائشی عمارت تھی جس میں سینکڑوں بے گھر فلسطینی خاندان پناہ لئے ہوئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق عمارت کے گرد بھی سینکڑوں خیمے لگے ہوئے تھے جن میں ہزاروں بے گھر فلسطینی مقیم تھے۔قابض فوج نے حملے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل رہائشیوں کو عمارت خالی کرنے کا حکم دیا اور انہیں جنوبی غزہ کے علاقے المواصی کی طرف جانے کو کہا۔یہ وہی علاقہ ہے جسے قابض اسرائیل نے جھوٹا دعوی کر کے محفوظ قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جگہ بھی بار بار حملوں کی زد میں رہتی ہے جہاں سینکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ المواصی میں زندگی کی بنیادی ضروریات تک موجود نہیں ۔لوگ بھوک‘ پیاس اور بیماریوں سے دوچار ہیں۔وہ سو نہیں سکتے‘بمباری ہر وقت جاری ہے۔یہ کہاں جائیں‘ کہاں پناہ لیں؟غزہ کے مسلمان مسلسل بمباری کی زد میں ہیں۔پناہ گاہیں بھی ان کے لئے محفوظ نہیں۔
غزہ کے عوام نے دو سال تک ثابت قدمی کے ساتھ اسرائیلی بمباری کا سامنا کیا لیکن اپنی سر زمین پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ جنگ انہوں نے تنہا لڑی ہے اور کسی مسلمان ملک نے عسکری تو کیا‘ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی ان کا ساتھ نہیں دیا ۔اسلامی کانفرنس تنظیم(OIC) کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے حال ہی میں ملاقات ہوئی۔ غزہ کے لئے او آئی سی کا کوئی واضح کردار نظر نہ آنے کے بارے میںان سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان ممالک متحد نہیں وہ اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ لین دین کے معاہدے کر رہے ہیں۔ اس صورت میں غزہ کا مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے۔حقیقت بھی یہی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ او آئی سی کے اجلاسوں میںغزہ کی موجودہ صورتحال پر غور کر کے افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے۔بات صرف افسوس کرنے تک ہی محدود ہے اسلامی ممالک میں اتحاد نہ ہونے کے باعث ان کی آواز بھی ایک نہیں۔سب اپنے اپنے مفادات کے لئے اسرائیل اور امریکہ کے سامنے سر نگوں ہیں۔عالم اسلام کی بے حسی کے بارے میں شاعر مشرق اور مصور پاکستان علامہ اقبال ؒ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا ۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
غزہ کا محاصرہ اب صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ انسانی ضمیر کی عالمی جنگ ہے جس میں پوری دنیا کو کردار ادا کرنا ہوگا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مسئلہ فلسطین کے پر امن تصفیے اور دو ریاستی حل پر عمل درآمدکے بارے میںنیو یارک اعلامیے کی توثیق کے حق میں کثرت رائے سے قرار داد کی منظوری دے دی ہے لیکن دو ریاستی حل کے تحت ایک لولی لنگڑی اور بے دست و پامیونسپلٹی مسئلہ فلسطین کا حل نہیں۔فلسطینی ایک آزاد ریاست چاہتے ہیں۔ یہی ہزاروں شہدا کی قربانیوں کا ثمر ہے۔
مسئلہ فلسطین عالمی ضمیر کے لئے مستقل تازیانہ
09:24 AM, 3 Oct, 2025