پنجاب اب خاموش نہیں رہے گا؟

09:21 AM, 3 Oct, 2025

پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ جب اپنی کارکردگی دکھانے کو کچھ نہ ہو تو آسان ہدف تلاش کر لیا جاتا ہے، اور وہ نشانہ مشق ہمیشہ پنجاب ہی ٹھہرتا ہے۔ کبھی وسائل پر الزام، کبھی انتظامی فیصلوں پر تبصرہ اور کبھی یہ شور کہ پنجاب دوسرے صوبوں کا حق کھا رہا ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ یہ سب محض سیاسی چورن ہے، جسے کچھ صوبائی حکومتیں، صوبائی یا لسانی بنیادوں پہ قائم کچھ پارٹیاں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بیچتی ہیں۔
یہ رویہ نیا نہیں۔ برسوں سے ایک مخصوص بیانیہ گھڑا جا رہا ہے کہ وفاق صرف پنجاب کے اشاروں پر چلتا ہے۔ حالانکہ وہی پنجاب ہے جو زراعت سے لے کر دفاع تک، معیشت سے لے کر صنعت تک، ملک کی بنیادوں کو سہارا دیتا ہے۔ وہی پنجاب ہے جو این ایف سی میں اپنے حصے سے کچھ نا کچھ بخوشی دوسرے صوبوں کو دیتا آیا ہے، وہی پنجاب ہے جو اپنا پانی دوسرے صوبوں کو دیتا آیا ہے۔ وہی پنجاب جو ہر مشکل گھڑی میں دوسرے صوبوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ المیہ یہ ہے پنجاب کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے 78 سال گزر جانے کے بعد بھی اسے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان بے معنی و بے بنیاد الزامات کا جواب دینا شروع کیا، دوسرے صوبوں میں ہلچل مچ گئی۔ برسوں سے پنجاب پر چڑھ دوڑنے والے اچانک یہ کہنے لگے کہ پنجاب کو دوسروں پر بات نہیں کرنی چاہیے۔ پنجاب کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب ہمیشہ خاموش تماشائی بنا رہے اور باقی سب اپنی سیاست چمکانے کے لیے اس پر الزامات دھرتے رہیں؟ یہ دہرا معیار کب تک چلے گا؟ بلکہ یہ اب بالکل نہیں چلے گا۔ بہت ہو چکا۔ اب بے جا تنقید پہ جواب آئیگا۔ 
پاکستانی اشرافیہ کو یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ صوبائیت زہر ہے۔ وہی زہر جو کبھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنا تھا۔ آج بھی اگر ہم نے اس آگ کو ہوا دی تو نقصان پورے وفاق کو ہوگا۔ پاکستان ایک وفاق ہے اور وفاق اسی وقت مضبوط ہوگا جب سب صوبے ایک دوسرے کا احترام کریں، نہ کہ اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے صوبائیت کو ہوا دینا شروع کر دیں یا دیگر وفاقی اکائیوں پہ بلا مقصد تنقید شروع کر دیں۔ 
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ پنجاب کا ہے۔ کھیتوں کی پیداوار، صنعتوں کی پیداوار اور ملک کی افواج میں سب سے زیادہ شمولیت پنجاب کے حصے میں آتی ہیں۔ اگر ان سب خدمات کے باوجود پنجاب کو نشانہ بنایا جائے تو یہ دراصل وفاق پاکستان کے وجود پر وار ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ الزام تراشی کی سیاست ختم ہو اور قومی دھارے کو فروغ دیا جائے۔ صوبے اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے پنجاب کے خلاف بیانیہ بنانے کے بجائے اپنے عوام کے مسائل پر توجہ دیں۔ کیونکہ توانائی اگر پنجاب پر الزامات لگانے میں برباد کرنے کے بجائے خدمتِ عوام پر صرف کی جائے تو ملک خود بخود ترقی کرے گا۔
آخر میں یہی کہنا ضروری ہے کہ پنجاب کے خلاف بلاجواز تنقید دراصل پاکستان کے خلاف تنقید ہے۔ پنجاب نے اب اپنی زبان کھول لی ہے اور اپنے عوام کا مقدمہ خود لڑ رہا ہے۔ دوسروں کو چاہیے کہ  وہ اپنے گھر کے حالات بہتر بنائیں، پنجاب کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں اور قومی یکجہتی کو نقصان نہ پہنچائیں۔
یاد رکھیے: صوبائیت ایک زہر ہے۔ اسے پنپنے نہ دیجئے۔ وفاق کو ترجیح دیجئے۔ یہی پاکستان کے استحکام کا واحد راستہ ہے۔

مزیدخبریں