اڑان پاکستان

09:19 AM, 3 Oct, 2025

پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اس کے مادی وسائل، افرادی قوت اور نظریاتی پوٹینشل کو صرف وسیع تجربے اور بصیرت کے ساتھ نہ صرف ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکتا بلکہ اسی سے روشن مستقبل کے امکانات کو تراشا جا سکتا ہے۔ اگر قدرتی وسائل و مظاہر کسی اناڑی، ناتجربہ اور غیر سنجیدہ ہجوم کے ہاتھوں میں سونپ دیئے جائیں تو نتائج بار بار وہی نکلیں گے جو ہماری تاریخ میں بھرے پڑے ہیں۔ افرادی قوت تماشا آرائی میں صرف ہو گی، قدرتی وسائل عدم توجہی کا شکار ہوں گے اور نظریات جذباتی تڑکے لگانے کے کام آئیں گے۔ ہم ملک کے دیوالیہ ہونے کی خبریں سن رہے ہوں گے اور دنیا ہمیں ماضی تصور کرنے لگے گی۔ پاکستان نے بڑی تیزی سے دنیا کو حیران کر دینے والی رفتار سے نہ صرف خود کو معاشی مسائل سے نکالا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوانے میں بھی کامیاب ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ چند برس میں کیا پاکستان خود کو دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل کر پائے گا یا نہیں۔ 
موجودہ حکومت نے وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کے وژن کے مطابق ‘‘اْڑان پاکستان’’ کے نام سے ایک پانچ سالہ قومی اقتصادی پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد معیشت کا ڈھانچہ تبدیل کرنا، برآمدات کو بڑھانا، اور معاشرتی و ماحولیاتی استحکام قائم کرنا ہے۔ وزیرِ ترقی و منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کے مطابق یہ منصوبہ ‘‘5Es’’ فریم ورک پر مبنی ہے۔ ان میں Export (برآمدات)، E-Pakistan (ڈیجیٹل/ٹیکنالوجی)، Environment (ماحولیات)، Energy (توانائی/بنیادی ڈھانچہ)، اور Equity & Empowerment (مساوات و بااختیاری) شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، حکومت نے 2024 سے 2029 تک کا روڈ میپ تیار کیا ہے، جس کے تحت برآمدات کو سالانہ 60 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، ملک کو 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر (ٹریلین ڈالر) معیشت بنانے کا وژن پیش کیا گیا ہے، اور 2047 تک یہ ہدف 3 ٹریلین ڈالر معیشت کا ہے۔ ‘‘اْڑان پاکستان’’ پروگرام کے تحت اب تک وفاقی سطح پر 286 منصوبے (projects) شروع کردیئے گئے ہیں، جن میں انفراسٹرکچر، انسانی صلاحیتوں کی ترقی، زراعت اور نئی ٹیکنالوجی شامل ہے۔ 
ماحولیاتی اہداف بھی اسی پلان کا اہم حصہ ہیں گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں تقریباً 50 فیصد کمی، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے، قابلِ کاشت اراضی میں وسعت، جنگلات کی افزائش اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ تعلیم و خواندگی اور غربت میں کمی کے ضمن میں بھی اہداف طے کیے گئے ہیں: شرح خواندگی میں تقریباً 10 فیصد اضافہ، نوجوانوں میں بے روزگاری کو 6 فیصد تک کم کرنا، اور خواتین کی لیبر فورس میں حصہ داری بڑھانا شامل ہیں۔ ہم اپنی نوجوان نسل کو یہ بات بڑے اعتماد سے بتا سکتے ہیں کہ پاکستان میں کامیاب مستقبل کے امکانات روشن ہیں اگر حکومت کو سیاسی استحکام ملے تو یہ اہداف یقیناً حاصل ہو جائیں گے۔ ‘‘اْڑان پاکستان’’ کے تحت پرائیویٹ شعبے کی شراکت داری، صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، نوجوانوں کی صلاحیت سازی اور ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار منصوبے کلیدی ہوں گے۔ 
وزارت منصوبہ بندی نے " اڑان پاکستان انوویشن ہب " کا آغاز کیا ہے۔ جس کے لیے دس ارب روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ پہلے سیزن میں 147 ملین کی گرانٹس سے 39 منصوبے منتخب کیے گئے تھے۔ 
حکومت نے 286 ترقیاتی منصوبے اْڑان پاکستان کے تحت شروع کیے ہیں، جن کا مجموعی تخمینہ 17 ٹریلین ہے، جس میں وفاقی حصہ 7 ٹریلین اور صوبوں کا حصہ 10 ٹریلین ہے۔ 
ترقیاتی سال 2025-26 کے لیے مجموعی ترقیاتی بجٹ 4.2 ٹریلین مقرر کیا گیا ہے، جس میں 1 ٹریلین وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت ہے۔ 
منصوبہ بندی کے تحت نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن یونٹ قائم کیا گیا ہے تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر منصوبوں کو مربوط انداز سے عملی جامہ پہنایا جائے۔ 
حکومتی ورکشاپس اور مشاورتی سیشنز مختلف صوبوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں، تاکہ مقامی ضروریات کو منصوبوں کی ترجیح میں شامل کیا جائے۔ 
نئے اقدامات میں Diaspora Engagement Program اور Summer Youth Internship Program شامل کیے گئے ہیں، جن کا مقصد بیرونِ ملک پاکستانی اور نوجوانوں کو پالیسی ساز عمل میں شامل کرنا ہے۔
چائنا کی ڈویلپمنٹ ریسرچ سنٹر کے ساتھ ایک معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں، تاکہ اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے اور چین کی ترقیاتی حکمتِ عملی سے استفادہ کیا جائے۔ 
توانائی اور انفراسٹرکچر شعبوں میں توجہ مرکوز کی گئی ہے، اور 4RF (Resilient Recovery, Rehabilitation and Reconstruction Framework) تشکیل دیا گیا ہے تاکہ منصوبے ماحولیاتی مطابقت اور موسمیاتی خطرات کے تحت مضبوط ہوں۔ 
قومی سطح پر " پاک ون " نامی ایک پلیٹ فارم متعارف کرایا گیا ہے، جو منصوبے کی معلومات، شفافیت، عوامی رابطے اور ڈیجیٹل انٹرفیس کا حصہ ہے۔ 
اْڑان پاکستان کے تحت ہدف ہے کہ پاکستان کی معیشت کو 2035 تک $1 ٹریلین معیشت میں تبدیل کیا جائے۔ 
پلاننگ دستاویز کے مطابق اِس منصوبے کے تحت شرحِ نمو 6فیصد سالانہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور برآمدات کو  60ارب ڈالر تک پہنچانا مقصد ہے۔ 
معیشت کو زیادہ متنوع بنانے کے لیے اہم شعبوں زرعی، توانائی، ٹیکنالوجی، صنعت (Manufacturing)، معدنیات اور ڈیجیٹل شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ توانائی کے شعبے میں تنوع، توانائی کی بچت اور خطے میں تعاون کو فروغ دینے کا عزم ہے۔ معیشتی اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری، اخراجات اور قرضوں کے انتظام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مالی استحکام ممکن ہو سکے۔ 
تاہم اس ضمن میں حکومت کو بہت سے چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ منصوبوں کی بروقت مالیاتی معاونت، احتساب و شفافیت، انفراسٹرکچر کی کارکردگی، توانائی کے بحران کا حل اور صوبوں میں مقامی سطح پر عملدرآمد میں رکاوٹیں اہم ہیں۔ اگر یہ امور ٹھیک سے ترتیب پائیں، تو ’’اْڑان پاکستان‘‘ نہ صرف معاشی نمو میں تیزی لائے گا بلکہ پاکستان کو عالمی منڈیوں میں مؤثر مقام دے سکے گا اور آمدنی و روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرے گا۔

مزیدخبریں