امریکی ریاست ورجینیا کے ایک وسیع و عریض اور جدید ترین فوجی اڈے پر اچانک سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، جن کے بارے میں کسی کو کچھ خبر نہ تھی کہ یہاں کیا ہونے والا ہے پھر وائٹ ہائوس کی طرف سے جاری کردہ ایک اہم اور خفیہ خط میں بعض متعلقہ اداروں کو اطلاع دی گئی کہ فلاں تاریخ کو صدر امریکہ اس فوجی اڈے کا دورہ کریں گے اور اہم فوجی کمانڈروں سے خطاب کریں گے۔ یہ کمانڈر دنیا بھر میں قائم مختلف فوجی اڈوں پر تعینات تھے، ان کی مجموعی تعداد تو ہزاروں میں ہے لیکن صدر امریکہ کے خطاب سے فیض یاب ہونے کیلئے امریکی منصوبہ بندی کے مطابق اسی کمانڈرز کو یہاں طلب کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے سیکرٹری ڈیفنس پیٹ ہیگسیتھ بھی آئے یوں دونوں نے فوجی کمانڈروں سے خطاب کیا۔ اس خطاب کے بعض نکات خفیہ ہیں جو شاید بتیس برس بعد دنیا کے سامنے آئیں لیکن بعض مضحکہ خیز پہلوئوں کے حوالے سے تفصیلات جاری کی گئی ہیں جن کے بعد بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دنیا میں موجود اہم فوجی کمانڈروں کو کم از کم اس گفتگو کیلئے نہیں بلایا گیا تھا۔ امریکی سیکرٹری ڈیفنس نے استقبالیہ کلمات ادا کئے اور اس خطاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ امریکی سیکرٹری ڈیفنس خود بھی سابق فوجی ہیں جو میجر کے عہدے تک پہنچے اورریٹائر ہو گئے۔ وہ باقاعدہ امریکی فوج کا حصہ نہیں رہے لیکن امریکن نیشنل گارڈز میں خدمات انجام دیتے رہے۔ اس عرصہ میں انہوں نے کیا سیکھا ہو گا اور اب وہ اس حوالے سے امریکہ امریکی قوم اور امریکی فوج کو کیا دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ سی آئی اے اور پینٹاگون کی خوش گمانی کا شکار نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر آج کل ہر شخص اور ہر ادارے پر تنقید کا دورہ پڑا ہے۔ وہ کسی کیلئے بھی مثبت جذبات کا اظہار کرتے نظر نہیں آتے۔ سیکرٹری دفاع نے بھی اپنے فوجی کمانڈروں کے سامنے آتے ہی امریکی فوج کے لتے لینا شروع کئے اور کہا امریکی فوج گزشتہ نصف صدی سے دنیا کے کسی بھی محاذ پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ اس کی بڑی وجہ امریکی فوج کا گرتا ہوا معیار ہے۔ ان کی ناقص ٹریننگ ہے اور سب سے بڑھ کر امریکی فوج میں سلیکشن کا معیار ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج میں خواتین کی شمولیت سے خرابی پیدا ہوئی ہے جبکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ نظم و نسق اور پرفارمنس میں بہتری آئے گی۔ اسی طرح امریکی فوج میں خواجہ سرائوں اور ہم جنس پرستوں کے شامل کئے جانے کے بعد معاملات خرابی کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ ڈونلڈٹرمپ کی باتوں کو بھی یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، ان کی باتوں میں وزن نہیں ہے۔ طویل عرصہ بعد بھی انہوں نے شاید کوئی ڈھنگ کی بات نہیں کی ہے لیکن دنیا کے مختلف ممالک میں فوجی ریکرومنٹ کرنے والے اداروں کے لئے سوچ کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ امریکی فوج میں جس قسم کے افراد کو شامل کیا گیا اس کے جو نتائج سامنے آئے وہ قابل فخر نہیں۔ امریکی تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے نئے تجربات سے گریز کرتے ہوئے مختلف ممالک اپنی فوجی ریکرومنٹ پالیسی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یاد رہے امریکی فوجیوں میں خودکشی کا رجحان سب سے زیادہ ہے، اس کی بڑی وجہ فوج کے لئے بنائی گئی پالیسیاں ہیں جو زیادہ تر بے مقصد ہوتی ہے۔ فوجی سپاہی ان پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے لیکن اس کے دل و دماغ ان پالیسیوں پر عمل کیلئے آمادہ نہیں ہوتے۔ ٹرمپ فوج کی امریکی شہروں میں تعیناتی کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ امریکی صدر کسی نہ کسی طرح فلسطین میں جنگ بندی کرا کے اپنے نوبل پرائز برائے امن کے کیس کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں لیکن انہیں دوطرفہ ناکامی کا سامنا ہے۔ ان کا اکیس نکاتی فارمولا ان کے حواریوں نے تو تسلیم کر لیا ہے جن میں اب بیشتر مسلمان ملک بھی شامل ہیں لیکن فلسطین کی جنگ آزادی لڑنے والی تنظیموں نے اسے من و عن قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ اسرائیل اپنے عزائم کے تحت اسے مسترد کر چکا ہے۔ امریکی امن منصوبے کے فقط چند نکات سامنے آئے ہیں، بیشتر راز ہیں۔اس امن منصوبے کے مطابق آئندہ سیٹ اپ میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ حماس فوجی دستوں کو غیر مسلح کیا جائے گا۔ انہیں غیر مسلح کرنے کے لئے مسلمان ممالک پر مشتمل امن فوج فلسطین میں آکر انتظام سنبھالے گی اور اسرائیل فوج کو وہاں سے بہ حفاظت نکلنے میں مدد دے گی۔ غزہ اور جنگ زدہ و تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر کیلئے فنڈز متمول اسلامی ممالک دیں گے جبکہ ان تمام امور کی اعلیٰ ترین نگرانی کے لئے ٹرمپ، نیتن یاہو اور سابق برطانوی وزیراعظم امن بورڈ کے اہم ممبر ہوں گے۔ جنگ بندی کے بعد بین الاقوامی ٹیکنوکریٹ بیورکریٹ علاقے کے انتظامات سنبھالیں گے۔ حماس کے ہتھیاروں کو تباہ کیا جائے گا جو غزہ سے جانا چاہے گا یا وہاں واپس آنا چاہے گا، اسے اجازت ہو گی۔ ضروریات زندگی، امداد پانی، بجلی،گیس، ہسپتال بحال کئے جائیں گے۔ اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کرے گا اور مزید علاقوں پر قبضہ نہیں کرے گا اور قیدی بھی رہا کئے جائیں گے۔
بظاہر یہ تمام نکات بہت اچھے ہیں لیکن کیا اس منصوبے پر من و عن عمل ہو سکے گا، اس کا گارنٹر کون ہو گا، اس کا کوئی ذکر نہیں۔ حماس سے ہتھیار ڈلوانے کی بات کی گئی ہے لیکن اسرائیل فوج کے ہتھیار اس کے پاس ہی رہیں گے کیوں؟ جنگ بندی کے لئے نئے علاقوں کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ اسرائیل گزشتہ ساٹھ برس میں بیشتر علاقے پر قبضہ کر چکا ہے۔ جنگ بندی کے لئے 1967ء کی پوزیشن پر جانے کی بات نہیں کی گئی۔ یوں فلسطین اور غزہ کا بیشتر علاقہ اسرائیل کو د ے دیا جائے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور یورپ کی بھرپور سیاسی اقتصادی اور فوجی امداد کے باوجود حماس کو شکست نہیں دے سکا۔ ان سے ہتھیار نہیں ڈلوا سکا۔ اب امریکہ یہ کام مسلمان ملکوں کی مشترکہ امن فوج سے لینا چاہتا ہے جو فلسطینیوں کی کمر میں خنجر گھونپنے کے برابر ہو گا۔ امن منصوبے کی آڑ میں امریکہ ایک اور تصادم کی سازش کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ فلسطینیوں اور حماس کی مرضی کے خلاف جب مسلمان ملکوں کی فوج کے امن دستے اسرائیل فوج کے محفوظ انخلاء کیلئے حماس کے علاقوں میں گھس کر ان سے ہتھیار رکھوانے کی کوششیں کریں گے تو تصادم یقینی ہو جائے گا۔ امریکہ اسرائیل اور یورپ اس معاملے کو نیا رنگ دیں گے کہ جو کیا وہ مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف کیا، مسلمان ممالک اور خصوصاً وہ ملک جن کے فوجی دستے وہاں جائیں گے وہ رسوا ہوں گے اور اس کا آئندہ چل کر بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ پاکستان یہ تجربہ افغانستان میں کر چکا ہے اور آج ربع صدی سے سے بھگت رہا ہے۔ امریکی اسرائیل امن منصوبے پر رضا ممالک کی طرف سے ایک نئی بات سامنے آئی ہے کہ جن نکات پر اتفاق رائے ہوا تھا ان میں بعض تبدیل کر دیئے گئے ہیں، جس امن منصوبے پر ابتدا میں ہی تحفظات ہوں اس پر عمل کیونکر ہو سکے گا۔ یہ وقت کا اہم سوال ہے۔ اسرائیل نے اس امن منصوبے سے اتفاق نہیں کیا۔ وہ مزید وقت حاصل کر کے حماس کو کچلنا چاہتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق حماس نے اس منصوبے کو آئندہ تین روز میں قبول نہ کیا تو پھر اسرائیل کو کھلی چھٹی ہو گی، وہ فلسطینیوں کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے۔ اس بیان میں وہ سازش جھلک رہی ہے جس کا کسی کو ادراک نہیں۔
امن منصوبے میں پنہاں سازش
09:19 AM, 3 Oct, 2025