لاہو ر : پاکستان کی معروف فوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے آج 12 برس ہو گئے ہیں، مگر ان کی دلکش آواز اور گائے ہوئے گیتوں کا سحر ابھی تک لوگوں کے دلوں میں برقرار ہے۔ ’’بلبلِ صحرا‘‘ کے لقب سے مشہور ریشماں کی آواز نے موسیقی کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی تھی، اور ان کے گائے ہوئے گیت ’’گلِ صحرائی‘‘ اور ’’لمبی جدائی‘‘ آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔
ریشماں 1947 میں راجستھان (بھارت) میں پیدا ہوئیں اور تقسیم کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔ خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی ریشماں نے کم عمری میں ہی صوفیانہ کلام گانا شروع کر دیا تھا۔ انہیں کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل نہیں تھی، مگر قدرتی صلاحیت اور دل سے نکلی آواز نے انہیں شہرت کی بلندیاں دے دیں۔
ایک دن جب ریشماں لعل شہباز قلندر کے مزار پر گاتی ہوئی سلیم گیلانی کے سامنے آئیں، تو انہیں ریڈیو پاکستان پر گانے کا موقع ملا۔ 12 سال کی عمر میں انہوں نے ریڈیو پر اپنی آواز کا جادو جگایا، اور پھر 1960 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن پر بھی گانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے فلموں کے لئے بھی گیت گائے اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کے مشہور گانوں میں ’’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک‘‘، ’’وے میں چوری چوری‘‘ اور ’’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘‘ جیسے گانے شامل ہیں۔
ریشماں کی آواز نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی پسند کی گئی، اور وہ دونوں طرف کے شائقین میں مقبول ہوئیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور ’’لیجنڈز آف پاکستان‘‘ جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ تاہم، 3 نومبر 2013 کو وہ گلے کے کینسر کی وجہ سے لاہور میں انتقال کر گئیں۔ریشماں کی آواز آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے گانے نسلوں تک پہنچتے رہیں گے۔