استنبول مذاکرات ،امن کی نوید اور دشمن بیانیے

09:20 AM, 3 Nov, 2025

 اقوام عالم کی تاریخ میں جہاں علاقائی جنگوں ، ممالک کے مابین عدم استحکام کے نشان نظر آتے ہیں وہاں مذاکرات کی میز پر افہام و تفہیم اور غیر جذباتیت اور سمجھوتوں نے قتل و غارت کے بازار گرم ہونے سے بھی بچائے ہیں۔گزشتہ ہفتے استنبول میں ہونے والے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کو خطے کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ چھ روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں وہ سب کچھ شامل تھا جو کسی سنجیدہ سفارتی مکالمے کی روح بنتا ہے ۔کشیدگی، تعطل، دلائل، ثالثی، اور آخرکار ایک عبوری رضامندی، اگرچہ یہ پیش رفت حتمی معاہدے سے ابھی کچھ فاصلے پر ہے، لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان نے صبر، بصیرت اور اصولی مؤقف کے ساتھ امن کی ایک نئی بنیاد رکھ دی ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کو جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی ہے۔ فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) جیسے گروہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں بلکہ خطے میں استحکام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔ پاکستان کا بنیادی مطالبہ سادہ مگر غیر متزلزل ہے۔افغان سرزمین کو کسی بھی حالت میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہی مطالبہ استنبول مذاکرات کا مرکزی محور تھا۔مذاکرات کے ابتدائی دن کسی خوشگوار نتیجے کی نوید نہیں دیتے تھے۔ ماحول میں سرد مہری، بیانیوں میں سختی، اور اعتماد کی فضا میں دراڑیں نمایاں تھیں۔ لیکن ترکیہ اور قطر کی ثالثی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو مشکل ترین معاملات میں بھی مکالمہ ممکن ہے۔ خاص طور پر جب پاکستانی وفد واپسی کی تیاری کر چکا تھا، تب افغان وفد کی درخواست پر مذاکرات کو جاری رکھنے کا فیصلہ دراصل پاکستان کی امن پسندی اور سیاسی بلوغت کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم مذاکراتی عمل اور خوش آئند امیدوں کو افغان طالبان کے ترجمان کے نفرت انگیز بیانات نے دوبارہ متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے ترجمان کے گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی بیانات کا دوٹوک اور بھرپور جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستانی قوم، سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں اور پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں و افغان حکمتِ عملی پر مکمل قومی اتفاق رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ افغان سرزمین پر بھارتی پراکسیوں کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ کون بنتا رہا ہے۔ خواجہ آصف نے افغان طالبان کی غیر نمائندہ حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ شدید اندرونی خلفشار، بدامنی اور گورننس کی ناکامیوں سے دوچار ہیں، جہاں خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار سال گزرنے کے باوجود طالبان عالمی برادری سے کیے گئے وعدے پورے نہ کر سکے اور اب اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے محض بیانیے کی بازی گری اور بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ وزیر دفاع نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور خوارج کی گمراہ سوچ کو کچلنے کے لیے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جھوٹے بیانات سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔اعتماد صرف عملی اقدامات سے پیدا ہوتا ہے، اور پاکستان خطے کے امن و استحکام کے لیے اپنی قربانیوں اور ذمہ دارانہ کردار سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چھ روزہ مذاکرات کے بعد طے پانے والی عبوری رضامندی کے چند نکات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ سب سے نمایاں نکتہ وہ مشروط سیزفائر ہے جو اس بات سے وابستہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کوئی دہشت گردی نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغان طالبان اب اپنے وعدے کے مطابق ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف عملی، قابلِ تصدیق کارروائی کرنے کے پابند ہوں گے۔اسی طرح ایک مشترکہ مانیٹرنگ اور ویریفیکیشن میکانزم کی تشکیل اس بات کی ضمانت ہے کہ آئندہ امن معاہدے محض کاغذی نہ ہوں بلکہ ان پرعملدرآمد بھی ممکن بنایا جا سکے۔ یہ میکانزم نہ صرف خلاف ورزی کرنے والے فریق کی نشاندہی کرے گا بلکہ سزا دینے کا اختیار بھی رکھے گا۔ان مذاکرات میں پاکستانی وفد نے جس فہم و فراست کے ساتھ قومی مفاد کی نمائندگی کی، وہ سفارتکاری کے ایک اعلیٰ معیار کی مثال ہے۔ پاکستان کا مؤقف نہ جذبات پر مبنی تھا، نہ وقتی دباؤ کا شکار۔ بلکہ اصولی ، ٹھوس اور مدلل تھا۔ہر دلیل شواہد سے مزین، اور ہر مطالبہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تھا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں، بلکہ طاقت اور اعتماد کی علامت ہے۔
مزید برآں پاکستان اس مرتبہ پھر خطے میں امن و امان کی کوششوں میں سبقت لے گیا ہے ۔ پاکستان نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو امن کے ساتھ وقار کے اصول پر استوار کیا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک ذمہ دار ریاست کے کردار کو نمایاں کرتا ہے ،جو امن کی کوشش بھی کرتی ہے، مگر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔جبکہ ترکیہ اور قطر نے اس عمل میں ایک بار پھر اپنے تاریخی کردار کی تجدید کی ہے۔ دونوں ممالک نے نہ صرف میزبانی کی بلکہ فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ امتِ مسلمہ کے درمیان سفارتی تعاون اور بھائی چارے کی روایت آج بھی زندہ ہے۔
یہ بات قابلِ تحسین ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس پورے معاملے پر ایک صفحے پر ہے۔ داخلی سطح پر سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی کے معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان نہ دباؤ میں آئے گا اور نہ ہی اپنی سرحدوں پر کسی قسم کی مداخلت برداشت کرے گا۔ پاکستان نے امن کی جانب پہلا قدم اٹھا دیا ہے ، اب وقت ہے کہ افغان قیادت بھی اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے اور منفی بیان بازوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔یہ لمحہ اس عزم کے اعادے کا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے، خطے میں امن کے فروغ اور اپنی قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہے گا۔ دشمنوں کی سازشیں اور الزامات وقتی ہو سکتے ہیں، لیکن دلیل، تدبر اور اصولی مؤقف ہمیشہ دیرپا رہتا ہے۔استنبول سے اٹھنے والی یہ امید کی کرن اگر برقرار رہی تو یہ دن تاریخ میں اس طور یاد رکھا جائے گا کہ پاکستان نے اپنی عزت، غیرت اور قومی وقار کو کسی قیمت پر قربان کیے بغیرپھر ایک بار امن کو موقع دیا ہے۔

مزیدخبریں