کرکٹ ٹیم کی کارکردگی

09:20 AM, 3 Nov, 2025

2017 کی چیمپیئن ٹرافی جیتنے کے فوراً بعد ٹیم کے ایک مستند ریگولر اوپنر اظہر علی کو ون ڈے سکواڈ سے نکال دیاگیا کہ یہ صرف ٹیسٹ کیلئے موزوں ہے اور مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں تیز رنز نہیں کر سکتا جبکہ اس وقت اظہر علی ایک بہترین اوپنر تھا۔ اسکے بعد سابق کپتان انضمام الحق کے رشتہ دار امام الحق کو ون ڈے ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ کئی بار ناکام رہنے کے باوجود امام الحق ٹیم میں آج بھی موجود ہے۔ اسی طرح ایک اور بہترین بلے باز اسد شفیق کو ٹیسٹ تک محدود رکھا گیا اور صرف ایک سیریز میں ناکامی کے بعد ٹیم سے مستقل بنیادوں پر نکال کر اسکا کیریئر ہی ختم کر دیا گیا۔ ٹیم سے نکالنے کا یہ قانون سب کے لئے یکساں کیوں نہیں؟ حارث رف، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، شاداب خان، حسن علی، محمد نواز، امام الحق اور فہیم اشرف پچھلے 8 سال سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں اور ان کھلاڑیوں نے ابھی تک اپنی پرفارمنس سے ایک بھی ٹورنامنٹ نہیں جتوایا بلکہ انکی بری پرفارمنس سے کئی بار جیتے ہوئے میچ ہارے ضرور ہیں انہیں کیوں نہیں نکالتے؟ کیا انکے متبادل تیار نہیں کیے گئے؟ کیا انکے پاس تگڑی سفارش اور پرچیاں ہیں کہ انہیں ہر حال میں ٹیم پر مسلط رکھنا ہے۔ سب سے زیادہ شاداب خان کی سلیکشن پر اعتراض کیا گیا کہ آؤٹ آف فارم ہونے اور بغیر پرفارمنس کے مسلسل تین سال کھلایا گیا یہی وجہ ہے کہ وائٹ بال کرکٹ میں ابھی تک سپن اٹیک نہیں بن سکا اور اسکے متبادل سپنرز کو جان بوجھ کر گروم نہیں کیا گیا تاکہ اسکی جگہ ٹیم میں برقرار رہے۔ اب شاداب خان اپنی سرجری کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہے لیکن اسکی جگہ برقرار ہے کیونکہ ابرار کے ساتھ دوسرا ریگولر سپنر ایڈجسٹ نہیں کیا گیا۔ شاداب کو 2026 کا ورلڈکپ بھی کھلایا جائے گا اور شائد T-20 کا کپتان بھی بنا دیا جائے۔ ایشیا کپ کے فائنل میں حارث رؤف کی بری پرفارمنس کی وجہ سے جیتا ہوا فائنل میچ ہاتھ سے نکل گیا یہ کارنامہ حارث رؤف، حسن علی اور شاہین آفریدی پہلے بھی کئی بار انجام دے چکے ہیں لیکن افسوس انہیں کچھ دیر ریسٹ کے بعد ٹیم میں دوبارہ ان کر دیا جاتا ہے۔ پچھلے آٹھ سال سے انہی تھکے ماندے کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کو چلانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ان پرچیوں کی وجہ سے 2017 کی چیمپیئن ٹرافی کے بعد ٹیم پاکستان کوئی ٹورنامنٹ نہیں جیت سکی۔ اسوقت ہماری ٹیم کا کمبی نیشن ہی ٹھیک نہیں۔ ٹیسٹ اور ون ڈے کا کھلاڑی سلیمان علی آغا T-20 کا کپتان ہے۔ صاحبزادہ فرحان بنیادی طور پر ٹیسٹ پلیئر ہے اسے صرف T-20 میں موقع دیا جا رہا ہے ۔ محمد رضوان تینوں فارمیٹ کا میچ ونر کھلاڑی ہے لیکن اسے T-20 میں موقع نہیں مل رہا جس میں اسکی پرفارمنس سب سے بہتر ہے۔ باصلاحیت آل رانڈؤر عباس آفریدی، وسیم جونیئر اور لیگ سپنر صفیان مقیم کو کب کھلائیں گے؟ لیگ سپنر عثمان قادر، اسامہ میر اور زاہد محمود ہر لحاظ سے شاداب خان سے بہتر بالر تھے لیکن افسوس اس سسٹم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ بہت سے باصلاحیت کھلاڑی ڈومیسٹک میں پرفارم کر رہے ہیں لیکن انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں ابراراحمد کے علاہ ایک بھی کوالٹی سپنر ٹیم میں موجود نہیں جبکہ ڈومیسٹک میں کوالٹی سپنرز کی ایک لائن لگی ہوئی ہے جنہیں چانس ہی نہیں دیا جا رہا۔ مہران ممتاز، مبصر خان، فیصل اکرم، مسعود اور عثمان طارق جیسے کوالٹی سپنر ڈومیسٹک کھیل کھیل کر بوڑھے ہو جائیں گے۔ اسی طرح فاسٹ بالرز کی ایک لمبی لائن موجود ہے لیکن ہمارے سلیکٹرز کو حارث رؤف، شاہین آفریدی اور حسن علی کے سوا کوئی پیسر نظر ہی نہیں آتا۔ بار بار ان چلے کارتوسوں کو لے آتے ہیں۔ عاکف جاوید اور علی رضا بہترین فاسٹ بالر ہیں۔ یہ دونوں 146 کی سپیڈ سے تیز ترین بالنگ کرتے ہیں لیکن ان باصلاحیت کرکٹرز کو کون گروم کرے گا اور کون کھلائے گا؟ کیونکہ پرچی پلیئرز کو ٹیم میں کھلانا ضروری ہے۔ ہمیں پرفیکٹ قسم کے بیٹرز اور آل راؤنڈرز چاہئے جو ٹیم کو میچ جتوائیں۔ نئے اور ڈومیسٹک کے پرفارمرز کو مناسب مواقع دیں ایک دو سال میں ٹیم کھڑی ہو جائے گی بار بار وہی گھسے پٹے پلیئرز کو ٹیم میں لے آتے ہیں۔ 8 سال کے بعد یہ بات سمجھ جانی چاہئے کہ یہ گھوڑے ریس نہیں جیت سکتے انکے متبادل نئے کھلاڑیوں پر ورک کریں۔ سفارش کلچر ختم کریں اور پرفیکٹ قسم کے باصلاحیت کرکٹرز کا صرف میرٹ پر انتخاب کریں۔ اسوقت ہر فارمیٹ کی کرکٹ میں ٹیم پاکستان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ آسٹریلیا، انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ ہمارے خلاف اپنی B ٹیمیں کھلاتے ہیں کیونکہ انہیں ہماری ٹیم کی کارکردگی اور صلاحیتوں کا بخوبی علم ہے۔ اسوقت ہماری ٹیم کا موازنہ ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش جیسی کمزور ٹیموں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ 80 اور 90 کی دہائی میں ہماری ٹیم کی ریٹنگ دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں کے ساتھ کی جاتی تھی۔ اب ہماری ٹیم بھارت سے مقابلہ نہیں کر سکتی اور ہر میچ باآسانی ہار جاتی ہے۔ اب بھی وقت ہے ٹیم کے سابقہ لیجنڈز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی اور بہترین کرکٹرز پر مشتمل کوچنگ سٹاف رکھیں ورنہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور سفارشی عناصر اس ٹیم کا مزید برا حال کر دیں گے۔ کرکٹ کے صاحب اختیار اور اقتدار کو پاکستان کے اس مقبول کھیل کو بچانے اور بہتر کرنے کیلئے سابقہ کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کی بہتری کے لیے باہمی مشاورت کرنی چاہئے ۔ ان کی رائے اور میرٹ پر سلیکشن سے ٹیم کی کارکردگی بہتر کی جا سکتی ہے۔ اس وقت ICC کی تازہ ترین رینکنگ کے مطابق ٹیسٹ اور T-20 میں ٹیم پاکستان ساتویں نمبر پر جبکہ ون ڈے میں پانچویں پوزیشن پر موجود ہے۔ کرکٹ کے کسی بھی فارمیٹ میں شاہین الیون پہلی تین ٹیموں میں شامل نہیں۔ ہمیں اپنی رینکنگ بہتر کرنا ہو گی اور باصلاحیت کرکٹرز کو آگے لانا ہو گا ورنہ کرکٹ کا حال بھی ہاکی اور سکوائش جیسا ہی ہو گا۔
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے

مزیدخبریں