انسان کا انسان سے اور قوموں کا قوموں سے سابقہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔انسانی معاشرے کی بقا و سلامتی اور امن عامہ کے قیام کے لئے مناسب سفارتکاری لائحہ عمل ہمیشہ سے بہترین قوموں کا شعار رہا ہے۔ انسانیت کے آغاز سے آ ج تک جہاں تلواروں کی جھنکار اور توپوں کی گھن گرج نے صفحات کو سرخ کیا، وہیں کہیں کہیں عقل، تدبر اور مذاکرات کے نازک ہاتھوں نے ان لہو رنگ اوراق پر صلح کے چراغ بھی جلائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بندوق کے دھوئیں میں وقتی فتح ممکن ہوتی ہے، مگر دیرپا امن ہمیشہ مکالمے کی میز سے جنم لیتا ہے۔ گزشتہ ہفتے استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی اسی سنہری روایت کا تسلسل ہیں ۔ ایک ایسی کوشش جو شاید آنے والے برسوں میں خطے کے سیاسی نقشے کو نئے رنگ دے۔چھ روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں جذبات کی تلخی بھی تھی، سفارتی نزاکت بھی اور وہ صبر و تدبر بھی جو کسی سنجیدہ مکالمے کی روح ہوا کرتا ہے۔ ابتدا میں فضا میں سرد مہری تھی، الفاظ میں سختی تھی، مگر جب نیت میں اخلاص ہو اور منزل امن ہو، تو راستے خود بخود کھلتے جاتے ہیں۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ اگر اعتماد کے پل باندھے جائیں تو سب سے نازک دھاگہ بھی رشتے کا روپ دھار لیتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ مذاکرات محض سفارتی سرگرمی نہیں تھے، بلکہ ایک قومی تقاضا تھے۔ کئی برس سے سرحد پار دہشت گردی نے پاکستان کے امن و استحکام کو زخمی کیا ہے۔ فتنہ الخوارج (TTP) اور فتنہ الہندوستان (BLA) جیسے گروہوں نے نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کیا بلکہ پورے خطے کے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ پاکستان کا موقف واضح اور غیر مبہم ہے اور وہ یہ کہ افغان سرزمین کو کسی صورت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہی مطالبہ استنبول مذاکرات کا بنیادی محوربھی رہا۔ابتدائی ایام میں جب ماحول میں بے اعتمادی کی فضا غالب تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ بات آگے نہیں بڑھے گی، تب افغان وفد کی درخواست پر مذاکرات کا تسلسل قائم رکھنا پاکستان کی بالغ نظری اور امن پسندی کا مظہر تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مکالمے نے ضد پر غلبہ پایا، اور تدبر نے تلخی کو پسِ پشت ڈال دیا۔چھ روزہ مذاکرات کے بعد جو عبوری رضامندی سامنے آئی، اس میں کئی امید افزا پہلو موجود ہیں۔ سب سے نمایاں نکتہ وہ مشروط سیزفائر ہے جو افغان سرزمین سے دہشت گردی نہ ہونے کی شرط سے جڑا ہوا ہے۔ گویا اب افغان طالبان اپنے وعدوں کے مطابق ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف عملی کارروائی کے پابند ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ مانیٹرنگ اور تصدیقی نظام کا قیام اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ آئندہ کے معاہدے محض کاغذی وعدے نہیں رہیں گے، بلکہ ان پر عملدرآمد بھی ممکن بنایا جا سکے گا۔
تاہم حال ہی میں افغان طالبان کے ترجمان کے گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی بیانات سن کر نہایت افسوس بھی ہوا اور حیرانی بھی ۔ان بیانات کا پاکستانی وزیر دفاع نے واضح اور دوٹوک انداز میں جواب دیا ہے ۔ پاکستانی قوم، سیاسی اور عسکری قیادت اس معاملے میں مکمل ہم آہنگ ہے اور افغانستان سے متعلق پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں اور جامع حکمتِ عملی پر قومی اتفاقِ رائے موجود ہے۔ ہم خاص طور پر خیبر پختونخوا کے عوام کی جانب سے افغان طالبان کی سرپرستی میں سرگرم بھارتی پراکسیوں کی دہشت گردی سے بخوبی آگاہ ہیں، اور اب کسی قسم کا ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان کی غیر نمائندہ حکومت اندرونی دھڑوں اور گورننس کی ناکامی کا شکار ہے، اور اس نے خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق ، اظہارِ رائے، تعلیم اور نمائندگی ،مسلسل سلب کیے ہیں۔ چار برس گزر جانے کے باوجود اس نے عالمی برادری سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور اپنی داخلی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے محض بیانیہ سازی اور بیرونی ایجنڈوں کی پکار پر عمل کر رہا ہے، جبکہ بیرونی عناصر کے مفادات کے لیے پراکسی کا کردار ادا کرنا اس کی واضح ناکامی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کی افغان حکمتِ عملی ملکی مفاد، علاقائی امن اور استحکام کے حصول کے لیے ہے؛ ہم اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور سرحد پار دہشت گردی کا مقابلہ جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں، کیونکہ جھوٹے بیانات حقائق نہیں بدل سکتے اور اعتماد کی بنیاد صرف عملی اقدامات پر ہی قائم ہوتی ہے۔یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستانی وفد نے مذاکراتی عمل میں جس متانت، مدلل انداز اور قومی وقار کے ساتھ اپنے موقف کا دفاع کیا، وہ سفارتکاری کے ایک نئے باب کی علامت ہے۔ پاکستان کا مؤقف نہ کمزوری کی علامت تھا، نہ وقتی دباؤ کا نتیجہ، بلکہ ہر بات دلیل سے مزین اور ہر مؤقف بین الاقوامی اصولوں کے مطابق نظر آیا۔ دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں، بلکہ طاقت اور اعتماد کی دلیل ہے۔
اس تمام عمل میں ایک اور پہلو بھی نہایت حوصلہ افزا ہے اور وہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی باہمی یکجہتی ،کیونکہ داخلی اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی کے معاملے پر اتفاقِ رائے کا یہ مظاہرہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور خودمختاری پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ دشمنوں کے لیے یہ اعلان ہے کہ پاکستان اب ردِعمل نہیں، حکمتِ عملی سے چلنے والا ملک بن چکا ہے۔ بلاشبہ یہ عبوری رضامندی ابھی ایک پہلا قدم ہے، منزل نہیں ہے مگر اصل امتحان اس پر عملدرآمد کا ہے۔ پاکستان نے اپنی جانب سے امن کی بنیاد رکھ دی ہے، اب وقت ہے کہ افغان قیادت بھی اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے اور منافرتی بیان بازی کو کنٹرول کرے ۔تاریخ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو امن کے لیے بہادری سے قدم بڑھاتی ہیں اور پاکستان نے یہ قدم عزت و وقار کے ساتھ اٹھایا ہے۔اگر استنبول سے اُبھرتی یہ امید برقرار رہی تو آنے والی نسلیں اس دن کو یاد کریں گی کہ پاکستان نے اپنی سرحدوں کی حرمت برقرار رکھتے ہوئے، امن کو ایک اور موقع دیا۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں قوموں کی پہچان بنتی ہے اور جب وہ جنگ کے شور میں بھی صلح کی صدا بلند کرتی ہیں۔
مکالمے کی راہ اور مخالف بیانیے
09:18 AM, 3 Nov, 2025