چوپال سجی ہوئی تھی، سب ایک دوسرے سے محو گفتگوتھے۔ اتنے میں چپ سائیں آئے، سب احتراماًکھڑے ہوگئے۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ سب بیٹھ گئے۔۔ تھوڑی دیر بعد چاچارفیق بولے۔۔ سائیں جی میرے ایک مسئلے کا حل بتائیں۔۔ چپ سائیں نے کہا بولو بھائی رفیق۔۔۔ چاچا رفیق نے کہاکہ میں ایک دفتر گیا وہاں پر کچھ لوگ آپس میں یہ فظ مک مکا بول رہے تھے،سائیں جی ’’مک مکا‘‘ کا مطلب کیا ہوتاہے۔ چپ سائیں میرے سوال کے جواب میں سوچ میں پڑ گئے۔
اس پر چپ سائیں نے کہاکہ دوستو بعض الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے مفہوم و معانی ڈھونڈنے میں زندگی گزار جاتی ہے مگر ان الفاظ کے معنی سمجھ سے بالاتر رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لفظ مک مکا بھی ہے۔۔ کچھ دیر توقف کے بعد بولے بھئی رفیق یہ جو اندر کھاتے سرکاری معاملات طے ہوتے ہیں اس کو ’’ مک مکا‘‘ کہتے ہیں۔ میرا ان سے اگلا سوال یہ تھا کہ مک مکا سرکاری مشینری ہی کیوں کرتی ہے۔ وہ زیر لب مسکرائے اور کہا کہ سرکاری ہاتھ مک مکا کر کے بھی صاف ہی ہوتے ہیں وہ تو بس تھوڑی بہت مٹھائی ۔۔۔ بانٹتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ سائیں جی مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا۔
مجھے آج اپنے محلے دار بلے باگڑ کی بات یاد آرہی ہے کہ’’ باؤ جی جتھے پھسو مینوں دسو‘‘۔ میں نے کہا کہ بھائی تم کیا مجسٹریٹ ہو تو اس نے جیب سے کچھ نوٹ نکال کر کہا کہ میرے پاس یہ کرنسی ہر مسئلے کا ہے۔دوستو وطن عزیز کے باسیوں کی خواہش ہوتی ہے۔ کہ سرکاری نوکری حاصل کی جائے ۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ ڈیپارٹمنٹ ایسے ہوتے ہیں جہاں اچھے لوگ مشکل سے ہی ملتے ہیں۔بھائیو! یہ ایک قلعی امر ہے کہ جب حکومتیں عوام کے مسائل اور ضروریات کو سامنے رکھنے کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کے تحت قومی دولت کا استعمال کرتی ہیں تو اس کے نتیجہ میں معاشرہ انتشار اور بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔
نتھو اور پھتو بول پڑے سائیں جی گستاخی معاف۔۔ جتھے پھسو مینوں دسو۔۔۔ پر بھی روشنی ڈالیں۔۔۔ سائیں جی بولے۔۔میرے بچو بدقسمتی ہے کہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں پر بدعنوانی زیادہ ہے اوراسی وجہ سے لوگوں کی پوری نہیں پڑرہی۔۔۔ وہ ایسے بیرونی وسائل کی طرف نظر لگاتے ہیںکہ ان کی پوری پڑ جائے۔۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہر کام اس کاغذ کے نوٹ سے ہو جاتا ہے۔۔اسی وجہ سے تو یہ کہا جاتا ہے کہ جتھے پھسو مینو دسو۔۔۔سب چپ سائیں کی بات پر ہنس پڑے۔
چپ سائیں تھوڑی دیر کے بعد بولے۔۔بچو بدقسمتی سے جنوبی ایشیا میں پاکستانی عوام حکمرانوں کی انہی نااہلیوں کے سبب معاشی و ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے ہمارے حکمران اندرونی اور بیرونی مسائل سے لڑ رہے ہیں ۔ اس ملک میں رائج سیاسی نظام ہو یا معاشی نظام، اخلاقی نظام ہو یا آئین وقانون کی پاسداری ہر ایک پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں بھوک کی فصل اگ رہی ہے۔ صاف پانی میسر نہیں، روزانہ معصوم بچے علاج اور خوراک نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں، اس کا ایک سبب ہماری اجتماعی بد اعمالیاں تو ہیں ہی مگر اس تمام کے پیچھے ہمارے حکمرانوں کی نامی کا بھی عمل دخل ہے اور اہم ترین لفظ’’ مک مکا ‘‘نے ہمیں مار دیا ہے۔ گزرے وقتوںمیں حکمرانوں کیلئے تعلیم صحت اور انصاف اہم نہیںتھا بلکہ اربوں کھربوں کے وہ منصوبے اہم تھے جن سے نہیں کمیشن ملنے کا یقین ہو یا کرپشن کے لئے کھلے دروازے دستیاب ہوں۔ حکمران باہر سے کھربوں روپے کے قرض لیں یا قرضوں کے ان کو اپنی پسند کے منصوبوں پر خرچ کریں انہیں کہیں سے منظوری لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے نمائندے ایک دوسرے پر مک مکا کی الزام تراشیاں کرتے ہیں اور جب دو خود کرسی پر براجمان ہوں گے تو عوام کے مفاد کا تحفظ کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔دوستو ! اس وقت بلدیاتی الیکشن کی دھوم مچی ہوئی ہے اور تیاریاںکی جا رہی ہیں۔پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں اپنے صوبے کو بہتر سے بہترین کی کوشش جاری ہے۔ وفاق ان اکائیوںکو متحد رکھنے کیلئے کوشاںہے لیکن یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ ملک کی سرحد پر اس وقت دہشتگردی کا جن بے قابو ہے جس کو ہماری پاک فوج کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بوتل میں بند کرنے کیلئے کوشاںہے۔
صاحبو !یہ بتاتا چلوں کہ پاکستانی سیاست میں ’’مک مکا‘‘ کی اصطلاح خاص طور پر اس وقت عام ہوئی جب مختلف سیاسی جماعتوں پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ وہ بظاہر ایک دوسرے کی مخالفت کرتی ہیں مگر پسِ پردہ اپنے ذاتی یا جماعتی مفادات کے لیے سمجھوتے کر لیتی ہیں۔ یہی رویہ عوام کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور شفاف سیاست کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔ معاشرتی سطح پر بھی ‘‘مک مکا ’’ کا استعمال ان صورتوں میں ہوتا ہے جہاں انصاف یا اصول کی بجائے ذاتی تعلقات، سفارش یا مالی فائدہ بنیاد بن جائے۔اگرچہ کبھی کبھار مک مکا کو ’’عملی دانش‘‘ یا ’’تنازع سے بچاؤ‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ شفافیت اور اصول پسندی کے برعکس رویہ ہے۔ دوستو! معاملہ فہمی ہی بہتر ہے تاکہ مک مکا کی نوبت ہی نہ آئے۔ باقی رہے نام اللہ کا۔۔
ـ’’مک مکا‘‘
09:17 AM, 3 Nov, 2025