جب محصولات خاموش ہو جائیں

09:16 AM, 3 Nov, 2025

ریاست کے خالی خزانوںسے زیادہ خطرناک وہ خاموشی ہوتی ہے جو بازاروں میں اتر آتی ہے ۔جو تاجر کی نگاہ میں پثر مردگی بن کر چھلکتی ہے ۔ ، جو فیکٹری کی بند مشینوں سے سسکیاں بھرتی ہے اور جو روزگار کے کے منتظر نوجوانوں کی آنکھوں میں اداسی کی دھند بن کر پھیلتی ہے ۔ اکتوبر2025گزر گیا اور اس کے ساتھ ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ نے ایک بار پھر ہمیںیہ آئینہ دکھایاکہ معیشت کی نبض کس قدر نا تواں ہو چکی ہے ۔ ایف بی آر نے اکتوبر میں 950ارب روپے جمع کیے جبکہ مقررہ ہدف 1026ارب روپے تھا ۔ یہ کمی محض 76ارب روپے کی نہیں بلکہ پورے مالیاتی ڈھانچے کی کمزوری کا اعتراف ہے ۔مگر یہاں سوال یہ ہے کہ جب بازاروں کی رونق ماند پڑ جائے ، صنعت کا پہیہ زنگ آلود ہو جائے ،سرمایہ بے یقینی میں پناہ لے لے اور منڈیاں خوف میں ساکت ہو جائیں تو محصول کہاں سے آئے ؟خزانے کی گھنٹیاں تبھی بجتی ہیں جب کارخانے گنگنانے لگیں ، جب خریدو فروخت کا شور اٹھے ، جب دولت گردش میں رہے۔ مگر آج دولت خوف میں ہے ، سرمایہ عدم اعتماد میں اور ریاست محض ہدف کے پیچھے بھاگتی تھکی سانسوں کا منظر پیش کر رہی ہے ۔یہ محض مالی خسارہ نہیں بلکہ اعتماد کی دراڑ ہے ۔ عوام کے دلوں سے اترتا ہوا یقین، تاجر کے ذہن میں پنپتا ہوا شک ، صنعتکار کے منصوبے میں ٹھہر گیا سرمایہ سب مل کر معیشت کو ایسے جال میں قید کر چکے ہیں جس کی ہر گرہ بے سمتی سے بنی ہے۔ ریاست کی طاقت صرف اس کے ذخائر سے نہیں بلکہ اس کے اصولوں اور استحکام سے ناپی جاتی ہے۔ قومیں ٹیکس سے نہیں اعتماد سے اٹھتی ہیں مگر ہمارے ہاں اعتماد ریزہ ریزہ بکھر رہا ہے۔ حکومتیں اہداف بڑھاتی رہتی ہیں مگر عمل کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے۔ ایک طرف بڑھتے ہوئے اخراجات دوسری طرف جمود زدہ معیشت کا یہ تضاد کسی بھی ریاست کے ستونوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ایف بی آر کے اعداد محض شماریات نہیں بلکہ وہ عکاس آئینہ ہیں جس میں ہم اپنی معاشی حقیقت دیکھ سکتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے شہریوں سے مانگتی تو بہت کچھ ہے مگر سہارا نہیں دیتی۔ پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں تسلسل کی جگہ تجرباتی قافلے چلتے ہیں۔ ہر حکومت اپنے نسخے کے ساتھ آتی ہے مگر معیشت کے زخم ویسے کے ویسے ہی رہ جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے سائے میں بننے والے بجٹ عوام کی رگوں سے خون نچوڑ لیتے ہیں مگر پھر بھی خزانے میں صرف خاموشی ہی جمع ہوتی ہے۔ ہماری معیشت اس مریض کی مانند ہے جس کے زخم پر مرہم کے بجائے روز پٹی تبدیل کی جاتی ہے۔ پالیسی کا مقصد گزر بسر نہیں بلکہ احیائے معیشت ہونا چاہیے۔ اس کے لیے استقامت، سمت اور اصولوں کی صداقت درکار ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے پہلے انسان کو سہارا دیا پھر کہیں اپنے خزانے کو بھرا۔ انہوں نے تعلیم دی، روزگار پیدا کیا، توانائی کو سستا کیا، صنعت کو سہولت دی لیکن ہم نے الٹا راستہ اپنایا۔
سرمایہ کار اب منافع نہیں بلکہ خطرے کی پیمائش کرتا ہے۔ کاروباری خواب اب یہاں حساب کتاب کی فائلوں میں دفن ہیں۔ ریاست اور تاجو کے درمیان اعتماد کی لکیر اب مٹ چکی ہے اور جب اعتماد ہی ٹوٹ جائے تو کوئی معاہدہ پائیدار نہیں رہتا۔ عوام کے لیے مہنگائی اب مسئلہ نہیں رہی بلکہ مجبوری کا طرزِ زیست بن چکی ہے۔ ہر نیا دن کسی اور نرخ اور ہر مہینہ کسی نئے بوجھ کے ساتھ آتا ہے۔ ایف بی آر کا ہدف پورا نہ ہونا دراصل معیشت کے جمود کی سرکاری تصدیق ہے۔ یہ کسی ادارے یا وزارت کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کی نفس زدگی ہے۔ سب ہی اپنے دائرے میں محصور ہیں۔ حکومت کہتی ہے عوام ٹیکس نہیں دیتے، عوام کہتے ہیں حکومت دیانت دار نہیں، تاجر کہتے ہیں قانون غیر یقینی ہے اور یوں ایک بے اعتمادی کا دائرہ ہمیں مسلسل نگل رہا ہے۔ یہ محض ریونیو کا نہیں بلکہ رویوں کا بحران ہے۔ ہم بحیثیت قوم اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ریاست اور شہری کو جوڑنے والی اعتماد کی ریشمی ڈور اب الجھ چکی ہے۔ اس کا حل کسی نعرے میں نہیں بلکہ چھوٹے مگر ثابت قدم اقدامات میں ہے۔ صنعت کو سانس لینے دیا جائے، تجارت کو اطمینان دیا جائے، پالیسیوں کو استقامت دی جائے۔ برآمدات پر غیر ضروری بوجھ کم کیا جائے چھوٹے تاجروں کے لیے سہولت کا دائرہ وسیع کیا جائے اور حکومت اپنے اخراجات کی تلوار عوام پر نہیں چلائے۔ پاکستان کو اب محض مالی اصلاحات نہیں بلکہ ایک نیا اخلاقی و سماجی معاہدہ درکار ہے۔ ایک ایسا معاہدہ جس میں حکومت شفافیت کی ضامن ہو، عوام ذمہ داری کے علمبردار ہوں اور سرمایہ کار پورے اعتماد کے ساتھ میدان میں قدم رکھ سکے۔ ریاست کا خزانہ دراصل شہریوں کے دلوں سے جڑا ہوتا ہے جب دل ہی خالی ہوں تو خزانے بھرنے سے کچھ نہیں بدلتا۔ اب سوال یہ نہیں ہے کہ ایف بی آر ہدف کیوں نہ پا سکا بلکہ سوال یہ ہے کہ ریاست نے وہ فضا کیوں نہ بنائی جس میں ہدف ممکن ہوتا۔ ریاست کی معیشت خزانے کے خالی ہونے سے کمزور نہیں ہوتی بلکہ تب ہوتی ہے جب قوم کے عزم کا سرمایہ کم پڑ جائے۔ خوشحالی صرف اعداد کی کہانی نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت اور امید کی گونج سے لکھی جانے والی تحریر ہے۔ اگر اقتدار کے ایوانوں میں فیصلوں کی آواز عوام کے دلوں تک نہ پہنچے تو محصولات نہیں بلکہ بد اعتمادی بڑھتی ہے۔ قوموں کے مالی زوال کا آغاز ہمیشہ قانونی کمزوری سے نہیں بلکہ اخلاقی تھکن سے ہوتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ کی کتابوں سے پہلے ضمیر کے گوشوں میں اصلاح کا باب کھولا جائے کیونکہ جب نیتیں درست ہو جائیں تو خزانے خود بخود راستہ پا لیتے ہیں۔ قوموں کے دلوں میں جو امید کا چراغ جل جائے وہ سرد ترین خزانے کو بھی روشنی سے بھر سکتا ہے اور جب ہر شہری اپنے حصے کی ذمہ داری لے تو ملک کی تقدیر قدرتی رفتار سے سنبھلنے لگتی ہے۔ 

مزیدخبریں