فلوریڈا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بار پھر سخت اور نرم لہجے کا امتزاج اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملوں کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے، تاہم وہ ایران کی جانب سے موصول ہونے والی نئی تجاویز کا جلد جائزہ لیں گے۔
ایرانی معیشت اور بندرگاہوں پر لگی پابندیوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے ایک نیا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری ایران کی ناکہ بندی دراصل ایک دوستانہ ناکہ بندی ہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد ایران کو جنگ کی طرف دھکیلنا نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ان کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا میری مذاکرات کرنے کی صلاحیت لامحدود ہے۔
"ڈیموکریٹس میرے ہاتھ باندھنا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ ایک کمزور ڈیل کرے، لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ اگرچہ صدر نے نئی تجاویز کی وصولی کی تصدیق کی، لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ امریکی فوج کسی بھی وقت دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے مثبت جواب نہ دیا تو دوبارہ حملوں کے امکانات واضح طور پر موجود ہیں۔
ایران کی ناکہ بندی "دوستانہ" ہے، ہماری مذاکراتی صلاحیت کا کوئی مقابلہ نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
09:21 AM, 3 May, 2026