اپنا گھر 

09:18 AM, 3 May, 2026

اپنا گھر اپنی چھت انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اب یہ ہمارا آئینی حق بھی ہے اور اسی نسبت سے یہ ریاست کا فرض بھی ہے ۔اسی فرض کو نبھانے کے لیے حکومتیں اپنے منشور میں ایسے منصوبے شامل کرتی آئی ہیں لیکن ان میں سے بہت کم پورے ہوتے آئے ہیں ۔بھٹو صاحب نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگایا اور پیپلزپارٹی اس نعرے کو لے کر آگے بڑھتی آئی ہے ۔حالیہ تاریخ میں لوگوں کو اپنی چھت فراہم کرنے کاسب سے زیادہ کام میاں شہبازشریف نے کیا ہے جب وہ وزیراعلی پنجاب تھے تو انہوں نے پنجاب میں آشیانہ ہاو¿سنگ اسکیم کی بنیاد رکھی اور آج ہزاروں خاندان ان گھروں میں آباد ہیں۔ آشیانہ کا ماڈل بہترین ماڈل تھا لیکن اس کا صلہ عمران خان صاحب نے ان کو جیل میں ڈال کر دیا۔
پی ٹی آئی دوہزاراٹھارہ میں اقتدار میں لائی گئی تو عمران خان صاحب نے اپنے منشورمیں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا نعرہ لکھ دیا۔عوام نے اس نعرے کا ہیجان اور پی ٹی آئی نے اس کی خجالت خوب بھگتی ۔عمران خان نے اس خوشنما نعرے کو زمین پر لانے کے لیے ایک نیاپاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی بنادی ۔پورے ملک میں اس کام کے لیے زمینوں کی تلاش کی گئی ۔عوام سے کئی بار درخواستیں طلب کی گئیں ان درخواستوں کے ساتھ دوسو روپے فیس بھی ہڑپ کرلی گئی لیکن پچاس لاکھ گھروں کا نعرہ پی ٹی آئی کی ذلالت پر منتج ہوا۔آج بھی ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر پی ٹی آئی کی چھیڑ سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔عمران خان صاحب کے پاس پونے چار سال تھے وہ پچاس لاکھ کی بجائے اگر پچاس ہزار گھر بھی بناکر لوگوں کو دے جاتے تو اس نعرے کی حقیقت پر لوگوں کو یقین آجاتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔عمران خان کو مشورہ دیا گیا کہ شہبازشریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آشیانہ ماڈل پر گھر بنائے جاسکتے لیکن جناب عمران خان نے آشیانہ کے ساتھ شہبازشریف کا نام جڑ اہونے پر ایسی تمام تجاویز مسترد کردیں ۔
بے گھروں کو گھر دینے کا ایک پراجیکٹ سیلاب میں بہہ جانے والے گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کا سندھ میں پیپلزپارٹی نے بھی شروع کیا اور کافی تعداد میں گھروں کی تعمیر مکمل کرکے لوگوں کو دیے جاچکے ہیں ۔پنجاب میں مریم نوازشریف نے اپنا گھر اپنی چھت کے نام پر ایک پراجیکٹ شروع کررکھا ہے اس میں غریبوں کے لیے اپنا گھر تعمیر کرنے کے لیے حکومت پنجاب بینک کے ذریعے پندرہ لاکھ روپے تک کا بلاسود قرضہ فراہم کرتی ہے ۔مکان تعمیر کرنے والے کے پاس اپنا پلاٹ ہونا لازمی ہے ۔اس پراجیکٹ کے تحت بھی بہت سے لوگ اپنا گھر تعمیر کررہے ہیں ۔
اب شہباز شریف وزیراعظم ہیں تو انہوں نے ایک بار پھر بے گھروں کو اپنی چھت میں معاونت فراہم کرنے کے لیے ایک بہت بڑا پراجیکٹ شروع کیا ہے۔اس پراجیکٹ میں تین سو بیس ارب کے قرضوں کو ہدف رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ''وزیراعظم اپنا گھر سکیم'' کا آغاز کر کے غریب اور متوسط طبقے کے لئے اپنی چھت کے خواب کو عملی شکل دینے کی ترجیح کا اظہار کیا، اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ اپنی چھت کی فراہمی بھی ریاست اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔
وزیراعظم اپنا گھر سکیم، وزیراعظم شہباز شریف کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب متعارف کرائے گئے کامیاب ہا¶سنگ پروگرامز جیسے ''آشیانہ'' اور ''گھر ہو تو اپنا'' کا تسلسل ہے۔ جس کے لیے وزیراعظم نے مختلف مقامات پر خود اس سکیم کا سنگ بنیاد رکھا اور چابیاں لوگوں کے حوالے کی تھیں اور آج بھی پنجاب کے مختلف شہروں میں لوگ ان گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ اب وزیراعظم شہبازشریف نے جس تاریخی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے، اس سکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک قرض انتہائی آسان شرائط پر فراہم کیا جائے گا، 20 سالہ مدتِ واپسی کے ساتھ پہلے 10 سال صرف 5 فیصد مارک اپ رکھ کر عام آدمی کو بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔اس اسکیم میں پہلے سال 50 ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف اور آئندہ چار برسوں میں 5 لاکھ گھروں کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کے لئے 3.2 کھرب روپے کی فنانسنگ مختص کی گئی ہے۔
اس سکیم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہے تووفاقی حکومت کی طرف سے لیکن یہ تمام صوبوں سمیت پورے ملک میں نافذ ہوگی، جس میں اسلام آباد، چاروں صوبے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں، اس میں 10 مرلے تک گھروں کی تعمیر کی اجازت دے کر متوسط طبقے کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔اس سکیم میں پلاٹ پر گھر بنانے ۔پہلے سے بنے ہوئے گھر میں توسیع کرنے یا بنابنایا گھر خریدنے کی سہولت دی گئی ہے ۔قرض کے حصول کا طریقہ کار آسان بنایا گیا ہے اور وزیراعظم کی جانب سے ہر ماہ خود نگرانی کا اعلان شفافیت، رفتار اور م¶ثر عملدرآمد کی ضمانت دیتا ہے۔ بینکوں کو زیادہ قرض فراہم کرنے پر قومی ایوارڈ دینے اور کمزور کارکردگی پر سختی کا عندیہ دے کر حکومتی سنجیدگی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ جو بینک اس اسکیم میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قرضے دیں گے تو ان کو حکومت کی طرف سے صدارتی ایوارڈز دیے جائیں گے اور جو بینک اس اسکیم میں سستی دکھائیں گے ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی ۔اس اقدام سے بینکوں کو ایک طرح کا پابند بھی کیا گیا ہے کہ وہ لازمی عوام کو قرضے کی سہالت دیں کیونکہ اس قرضے کا مارک اپ ریٹ مارکیٹ کے آدھا ہے۔
اس سکیم کا ایک مقصد تعمیراتی شعبے کو فروغ دے کر ملکی معیشت کی رفتار تیز کرنا بھی ہے ۔ تعمیراتی شعبے کو فروغ دے کر نہ صرف لوگوں کو گھر فراہم کیے جائیں گے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو بھی تقویت ملے گی کیونکہ تعمیراتی شعبہ اپنے ساتھ تیس سے چالیس اور صنعتوں کو بھی چلاتا ہے ۔سیمنٹ سے اسٹیل اور پھر لکڑی اور روزگار کے مواقع بھی پید اہوتے ہیں اس لیے بھی یہ سکیم ملکی معیشت کے لیے بھی اہم سنگ میل ہوسکتی ہے ۔پراپرٹی کا شعبہ بھی ترقی کرے گا اور خالی پڑے پلاٹوں پر گھر بننے کا کام تیز ہوگا ۔
 وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے کیا ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے نجی شعبے، سٹیٹ بینک اور حکومتی ٹیم کے تعاون سے اس بڑے منصوبے کا آغاز کیا گیا، جبکہ آئندہ بجٹ میں مزید عوامی فلاحی سکیموں کے شامل ہونے کا اعلان حکومت کے وسیع اور عوامی ریلیف کی مسلسل فراہمی کا تسلسل ہے۔مئی آگیا ہے اگلے ماہ وفاقی بجٹ بھی آنا ہے اس بجٹ میں بھی عوام کے لیے کچھ اہم سکیموں کا اعلان ہونا ہے اس کا اشارہ بھی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دیا ہے۔یہ سب اقدام اپنی جگہ لیکن ہماری معیشت کی بھلائی ایران امریکا مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہُرمز کو جلد از جلد کھولے جانے میں ہے ۔پاکستان یہ کام بھی ان شااللہ جلد کروالے گا۔

مزیدخبریں