ہمارے حکمرانوں کواس بات کا تو بخوبی اندازہ ہے کہ کہ مکان، روزگار اور علاج ایسے مسائل ہیں کہ جن کی بنیاد پر عوام کو کسی بھی وقت چکر دیا جا سکتا ہے۔ حکومت چاہے پیپلز پارٹی کی ہو، نواز لیگ کی یا پھر تحریک انصاف کی سب انہیں نکات کی بنیاد پرعوام کی سپورٹ اور ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں ہیں ،لیکن افسوس کہ اس سلسہ میں کوئی مستقل یا طویل مددتی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر حکومت اپنا ایک منصوبہ لے کر آتی ہے جو چند ہی ماہ میں اپنی موت آپ ہی مر جاتا ہے۔
اگرچہ ان منصوبوں سے عوام کوکسی نہ کسی حد تک فائدہ تو پہنچتا ہے لیکن اکثریت محروم ہی رہتی ہے کیونکہ ان منصوبوں کی مدت اتنی قلیل ہوتی ہے کہ جب تک ایک عام آدمی شرائط و ضوابط کو سمجھے اور لوازمات کو پورا کرے یہ منصوبے اپنی آخری سانس لے چکے ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے ایک اعلان تو فرما دیا ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک عام آدمی اس منصوبے سے کس حد تک اور کتنی دیر تک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بلا شبہ اگر اس اعلان کو ایک سیاسی بیان کے بجائے معاشی پالیسی کے طور پر لیا جائے تو اس کے اثرات کافی دور رس ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں ہر سال لاکھوں نئے گھرانوں کو رہائش کی ضرورت پڑتی ہے، مگر اس کے مقابلے میں گھروں کی تعمیر کی رفتار بہت سست ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عام آدمی کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں ہوتے کہ وہ یکمشت گھر بنا سکے اوردوسری طرف بینکوں سے قرض لینا بھی آسان نہیں۔شرائط پیچیدہ، شرح سود بلند اور طریقہ کار طویل ہے۔شائد یہی وہ خلا ہے جسے حکومت پرکرنے کی بات کی ہے۔ اگر ہم اس اعلان کو عملی سطح پر دیکھیں تو سب سے پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آسان قرضہ آخر کس کو اور کن شرط پر ملے گا؟ ہمارے ہاں اکثر سکیمیں کاغذ پر تو بہت خوبصورت ہوتی ہیں، مگر عام آدمی ان تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ اس لیے سب سے پہلے تو اس پروگرام کا ہدف واضح کیا جانا جائے۔ کیا یہ صرف سرکاری ملازمین کے لیے ہوگایا نجی شعبے کے کارکن بھی اس میں شامل ہوں گے اس کے علاوہ کیا غیر رسمی معیشت سے وابستہ افراد، جو کہ پاکستان کی بڑی تعداد ہیں، اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟۔
ایک قابلِ عمل ماڈل یہ ہو سکتا ہے کہ قرضوں کو تین درجوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے انتہائی کم شرح سود یا سبسڈی کے ساتھ قرضے دیے جائیں، متوسط طبقے کے لیے مناسب شرح سود رکھی جائے، جبکہ نسبتاً بہتر آمدنی والوں کے لیے مارکیٹ کے قریب شرائط رکھی جا سکتی ہیں۔ اس طرح وسائل کا زیادہ م¶ثر استعمال ممکن ہوگا اور واقعی ضرورت مند طبقہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے گا۔ دوسرا اہم پہلو طریقہ کار کا ہے۔ اگر کسی شخص کو قرض لینے کے لیے درجنوں چکر لگانے پڑیں، پیچیدہ فارم بھرنے پڑیں اور مختلف دفاتر کے درمیان گھومنا پڑے تو وہ شروع میں ہی ہمت ہار جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ پورے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا جائے۔ ایک سادہ آن لائن پورٹل ہو جہاں درخواست جمع ہو، دستاویزات اپ لوڈ ہوں اور درخواست کی پیش رفت بھی وہیں دیکھی جا سکے۔ اس سے نہ صرف وقت بچے گا بلکہ شفافیت بھی بڑھے گی۔ تیسری اور نہایت اہم تجویز یہ ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کا نظام حقیقت پسندانہ ہو۔ ہمارے ہاں اکثر قسطیں اس طرح مقرر کی جاتی ہیں کہ وہ کاغذ پر تو ممکن لگتی ہیں مگر عملی زندگی میں بوجھ بن جاتی ہیں۔ بہتر یہ ہوگا کہ قسطوں کو آمدنی کے تناسب سے جوڑا جائے۔ مثال کے طور پر کسی فرد کی ماہانہ آمدنی کا ایک مخصوص حصہ ہی قسط کے طور پر لیا جائے، تاکہ اس کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔
وزیر اعظم کے اس اعلان کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ تعمیرات کا شعبہ دوبارہ متحرک ہو جائے گا ۔ اس وقت پاکستان میں صنعت کا پہیہ سست روی کا شکار ہے۔ کئی شعبے یا تو جمود کا شکار ہو چکے ہیں یا اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر رہے۔ ہا¶سنگ سیکٹر ایک ایسا شعبہ ہے جو درجنوں صنعتوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ جب گھر بنیں گے تو سیمنٹ، سریا، اینٹ، ٹائلز، لکڑی، الیکٹریکل سامان،سب کی مانگ بڑھے گی اور کاریگروں کے لیے روزگار کے مواقعے کھلیں گے۔ یوں ایک شعبے کی بہتری کئی دوسرے شعبوں کو بھی سہارا دے سکتی ہے۔
بینکنگ سیکٹر کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے۔ اس وقت بینک زیادہ تر سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ نسبتاً محفوظ ہوتی ہیں۔ اگر حکومت مناسب گارنٹی فراہم کرے اور ہا¶سنگ فنانس کو محفوظ بنایا جائے تو بینک بھی اس طرف آئیں گے۔ اس سے نہ صرف ان کا کاروبار بڑھے گا بلکہ معیشت میں حقیقی سرگرمی بھی پیدا ہوگی۔ تاہم یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ اگر قرضے بہت زیادہ آسان کر دیے جائیں اور ان کی نگرانی م¶ثر نہ ہو تو نادہندگی (ڈیفالٹ) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے ایک متوازن نظام ضروری ہے جہاں سہولت بھی ہو اور ذمہ داری بھی۔
مکان بنانے کے لیے پلاٹ کا حصول اور اس کی قیمت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مکان بنانے کے لیے قرضہ کی کوئی صورت بن ہی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود پلاٹ کی خریداری ایک مسلہ ہی رہتی ہے۔ اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کم لاگت ہا¶سنگ سکیمیں متعارف کروائے جہاں زمین مناسب قیمت پر فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات ،پانی، بجلی، سڑک،بھی یقینی بنائی جائیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ’اپنا گھر پروگرام‘ صرف قرضہ دینے کا منصوبہ نہ ہو بلکہ فنانسنگ، زمین، تعمیراتی لاگت، اور نگرانی سب اسی پروگرام میں شامل ہونے چاہیں۔ حکومت کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ وہ ایک ایسی پالیسی متعارف کرا سکتی ہے جو براہ راست عوام کی زندگی پر اثر انداز ہو۔ اور امتحان اس لیے کہ اگر اس پر صحیح عملدرآمد نہ ہوسکا تو یہ بھی ماضی کی کئی سکیموں کی طرح ایک ادھورا وعدہ بن کر رہ جائے گی۔
عام آدمی کی نظر میں حکومت کی کامیابی کا پیمانہ بہت سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی روزمرہ زندگی میں کیا بہتری آئی ہے۔ اگر اسے واقعی یہ محسوس ہو کہ اب وہ اپنے گھر کے خواب کے قریب تر آ گیا ہے تو اس سے بڑا اعتماد کا اظہار شاید ہی کوئی اور ہو۔ اگر آسان قرضوں کا یہ منصوبہ سادہ، شفاف اور قابلِ عمل انداز میں نافذ ہو گیا تو اس سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ معیشت میں بھی ایک نئی حرکت پیدا ہوگی اور حکومت کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو گا۔
حکومت کے لیے موقع بھی اور امتحان بھی!
09:18 AM, 3 May, 2026