خواب و خیال ہو گئیں آس امیدیں ؟

09:17 AM, 3 May, 2026

تیل کی قیمت دھیرے دھیرے بڑھتی چلی جا رہی ہے ہو سکتا ہے پانچ سو روپے تک پہنچ جائے ظاہر ہے پھر اشیائے ضروریہ و غیر ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا جنہیں خریدنا عام آدمی کے بس میں نہیں ہو گا۔ ملازمین سرکاری ہوں یا غیر سرکاری ان کی تنخواہیں جتنی ہیں اتنی رہیں گی اگر بڑھیں گی بھی تو معمولی۔ اس وقت بھی تیل کی وجہ سے جو قیمتیں بڑھی ہیں وہ بھی عام آدمی کے لئے ناقابل برداشت ہیں ہاں مگر دکانداروں ریڑھی بانوں خوانچے والوں اور ہر نوع کے چھوٹے بڑے تاجروں کی صحت پر کوئی ب±را اثر نہیں پڑا۔ پٹرول پمپوں کے مالکان تو گویا لاکھوں کروڑوں میں کھیلنے لگے ہیں ایک وہ کم مقدار میں پٹرول دیتے ہیں دوسرے ان میں سے بعض ملاوٹ بھی کرتے ہیں کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے واقعی اندھیر مچا رکھا ہے جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پیرا فورس سبزی و پھل فروشوں ناجائز تجاوزات والوں کو تو پوچھتی ہے مگر تیل مافیا پر ہاتھ نہیں ڈال رہی یا پھر اس کے اختیار میں نہیں ؟جن کے اختیار میں ہے وہ کہاں ہیں۔ جن پٹرول پمپوں پر ناقص اور کم مقدار میں پٹرول فروخت کیا جا رہا ہے انہیں قانون کی گرفت میں کیوں نہیں لایا جا رہا کہ ان کے ہاتھوں دن دیہاڑے عوام ل±ٹ رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت بعض عوامی فلاحی اقدامات بھی کر رہی ہے مگر مہنگائی مافیا انہیں پیچھے دھکیل دیتا ہے یعنی حکومت کی کارکردگی پر پانی پھیر دیتا ہے لہٰذا حکومت اس کی بدنامی بننے والے عناصر پر نظر رکھے اور انہیں من مانی کرنے سے روکے۔ 
بہرحال یہ جو تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ضروری نہیں اس میں قصور وار حکومت ہو۔ جب تک تیل کی قیمت بھی بڑھتی رہے گی اور کھانے پینے کی چیزیں بھی پہنچ سے دور ہوتی جائیں گی اور وہ چیختے چلاتے زندگی کی ساعتیں پوری کرتے رہیں گے “ ک±لی طور سے بھی ایسا نہیں کہیں کہیں شور اٹھ بھی رہا ہے مختلف محکموں کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں انہیں کئی روز ہو گئے ہیں احتجاج کرتے ہوئے کہ ان کی پنشن گریجویٹی کا اصول و قانون بحال کیا جائے کٹوتیاں بند کی جائیں۔ فی الحال ان کی فریاد ارباب اختیار کے دل پر اثر نہیں کر رہی مگر وہ بھی خاموش رہنے والے نہیں۔ ہو سکتا ہے حکومت یہ چاہ رہی ہو کہ وہ اسی طرح شور مچاتے رہیں یہاں تک کہ اس کی مدت اقتدار پوری ہو جائے اور اگلی حکومت جانے اور ملازمین جانیں ؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ موجودہ حکومت آئندہ بھی اقتدار میں آجائے پھر کیا ہو گا لہٰذا اسے احتجاجیوں سے مذاکرات کر نے چاہئیں اور ان کے جائز مطالبات کو مان لینا چاہیے ہاں اگر اسے یہ یقین ہے کہ وہ اگلے دور میں نہیں ہوگی یا یہ مدت بھی پوری نہیں کرے گی تو الگ بات ہے ؟۔
بات کا رخ ذرا دوسری طرف مڑ گیا ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ تیل کی شدہد قلت ہے جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور عام آدمی کے سماجی و معاشی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے صرف ہم ہی نہیں قریباً تمام ممالک متاثر ہو رہے ہیں لہذا ان سب کو ایران امریکا اور اسرائیل کشیدگی کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کر نا ہو گا۔پاکستان اس حوالے سے تو کافی متحرک ہے اس کی خواہش اور کوشش ہے کہ یہ جنگی ماحول جلد از جلد ختم ہو کیونکہ ہماری معیشت انتہائی کمزور ہے جس کا یہیہ چلانے کے لئے آئی ایم ایف سے بھاری قرضے لینا پڑ رہے ہیں اب تو وہ بھی نخرے دکھا رہا ہے اس نے شرائط بہت سخت کر دی ہیں جو ملکی ترقی کی راہ میں حائل ہوتی ہیں ویسے بھی اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ پاکستان بنیادی ترقی نہ کر سکے وہ قرضے لیتا رہے اور غیر پیداواری منصوبوں پر لگاتا رہے اور سود ادا کرتا رہے۔اس وقت جب تیل کا بحران ہے تو سوچا جا سکتا ہے کہ کتنی مشکل سے یہ نظام مملکت چل رہا ہے۔ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوتی ہے جس کا امکان بھی ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر امریکا ایران کی دو تین شرائط سے متفق نہیں اور ایران بھی ان شرائط سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں لہذا امریکا حملہ کر سکتا ہے اور پوری طاقت سے کرے گا۔ ایران نے بھی کمر کس لی ہے کہ آو¿ ہم تمھارا استقبال کریں گےاوراگر یہ جنگ طول پکڑ گئی تو ساری دنیا میں کہرام مچ جائے گا۔اس وقت بھی یورپ میں صورت حال خراب نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک امریکا کے کیمپ میں نہیں۔اس طرح خلیجی ملکوں میں بھی تقسیم ہوچکی ہے کیونکہ انہیں یقین ہو گیا ہے کہ امریکا اب سپر پاور نہیں رہا اس کی جگہ چین نے لے لی ہے ساتھ اس کے روس کھڑا ہے شمالی کوریا بھی پیچھے موجود ہے لہذا طاقت ایک پلڑے سے دوسرے میں منتقل ہونے لگی ہے۔ اس صورت میں امریکا کا دوبارہ حملہ کرنا بیوقوفی ہو گا مگر ٹرمپ بضد ہے کہ اس کے آگے ایران جھک جائے آبنائے ہرمز کھول دے اور افزودہ یورینیم اس کے حوالے کر دے جو ممکن نہیں۔ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیوں اپنے جوہری ہتھیاروں کو ختم نہیں کرتا جن کے بل بوتے پر جس کمزور ملک پر چاہتا ہے چڑھ دوڑتا ہے۔
حرف آخر یہ کہ اس کشیدگی کو ختم کرنے کےلئے روس چین اور یورپی ملکوں کو ہنگامی بنیادوں پر ایران اور امریکا سے رابطہ کرنا چاہیے کیونکہ آگے ب±رے دن صاف دیکھے جا سکتے ہیں؟۔

مزیدخبریں