وطن عزیز میں مہنگائی اب محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی بلکہ اب یہ ہر گھر کی دہلیز پر رکھی وہ خاموش اذیت ہے جو روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے اور اس کے بوجھ تلے کئی زندگیوں کے چراغ گل ہو رہے ہیں۔ ایک ماہ پہلے وزارت خزانہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ میں اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم اپریل کے حتمی اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 10.89 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 21 ماہ کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے جبکہ صرف ایک ماہ (اپریل)کے دوران 2.48 فیصد کا نمایاں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتوں میں دباو¿ نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شہری علاقوں میں مہنگائی 2.75 فیصد اور دیہی علاقوں میں 2.09 فیصد بڑھی، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ لاگتِ زندگی کا بوجھ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یوں حکومتی تخمینے اور زمینی حقائق کے درمیان فرق مزید نمایاں ہو کر سامنے آ گیا ہے۔حکومتی رپورٹ ایک نسبتاً متوازن تصویر پیش کرتی ہے جس میں ایک طرف سپلائی چین میں خلل، عالمی جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی جیسے عوامل کو مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے، تو دوسری جانب معیشت کے کئی شعبوں میں جزوی بحالی کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں ابتدائی بہتری کے آثار دیکھے جا رہے ہیں، آٹو سیکٹر میں محدود سطح پر بحالی سامنے آئی ہے، سیمنٹ کی پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور مقامی طلب میں کسی حد تک بہتری کے اشارے ملتے ہیں۔ مزید برآں ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات کو بیرونی کھاتے کے استحکام کا سہارا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تمام نکات بظاہر ایک مثبت معاشی منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقت سے ہم آہنگ بھی ہے یا نہیں؟۔
اگر ہم روزمرہ زندگی کی طرف نظر ڈالیں تو تصویر کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے بتدریج دور ہوتی جا رہی ہیں، یوٹیلٹی بلز میں اضافہ مستقل دباو¿ بن چکا ہے
اور تنخواہیں مہنگائی کے ساتھ توازن قائم نہیں کر پا رہیں۔ متوسط اور نچلے طبقے کے لیے بجٹ بنانا ایک مشکل مرحلہ بنتا جا رہا ہے جہاں ہر ماہ کچھ نہ کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں "مستحکم معیشت" کا تصور ایک سوالیہ نشان بن کر ابھرتا ہے کیونکہ اگر استحکام کا فائدہ عوام تک منتقل نہ ہو تو وہ محض اعداد و شمار کی حد تک محدود رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری معیشت متاثر ہوتی ہے کیونکہ پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجتاً قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔ اس تمام عمل کا سب سے اہم اور فوری اثر قوتِ خرید پر پڑتا ہے، جو یا تو رک جاتی ہے یا شدید حد تک محدود ہو جاتی ہے۔ جب عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے تو مارکیٹ میں طلب کمزور پڑ جاتی ہے، کاروبار سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور یوں ایک منفی معاشی چکر جنم لیتا ہے جو استحکام کے تمام دعووں کو کمزور کر دیتا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار بھی اسی حقیقت کی تائید کرتے ہیں جیسے کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پیٹرولیم مصنوعات 18 فیصد اور ایل پی جی کی قیمتیں 38 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔ ہاو¿سنگ، پانی، بجلی اور گیس کے اخراجات میں 16.84 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خوراک کی مجموعی قیمتیں بھی 7.63 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ سبزیوں کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ یعنی بنیادی اشیا میں 57 فیصد سے زائد اضافہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مہنگائی کس شدت کے ساتھ عام آدمی کی دسترس سے بنیادی ضروریات کو دور کر رہی ہے۔ حکومت مجموعی مہنگائی کے دباو¿ کو کم کرنے کے لیے ناکام دکھائی دیتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جن شعبوں میں قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، ان کا تعلق براہ راست روزمرہ زندگی کے بنیادی اخراجات سے ہے، جو ہر گھرانے کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک طرف معیشت کے بنیادی اشاریے مضبوط ہونے کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف مہنگائی میں مسلسل اضافے کی حقیقت۔ اگر سپلائی چین میں خلل واقعی بنیادی مسئلہ ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ مقامی سطح پر اس کے تدارک کے لیے کیا اقدامات کیے گئے یا کئے جا رہے ہیں؟ کیا ہم ہر بار عالمی حالات کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی پالیسی کی کمزوریوں سے صرفِ نظر کر سکتے ہیں؟ ۔
رپورٹ میں ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے جو یقیناً حوصلہ افزا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہیں اور آئی ٹی سیکٹر پاکستان کے مستقبل کی امید بھی سمجھا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ذرائع مہنگائی جیسے فوری اور براہ راست مسئلے کا حل فراہم کر سکتے ہیں؟ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہ شعبے معیشت کو سہارا دیتے ہیں مگر ان کے اثرات براہ راست عام صارف کی روزمرہ زندگی پر اسی رفتار سے منتقل نہیں ہوتے جس رفتار سے مہنگائی بڑھتی ہے۔حکومت کی جانب سے یہ مو¿قف بھی سامنے آتا ہے کہ پالیسی اقدامات کے ذریعے مہنگائی کے منفی اثرات کو محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم محض پالیسی کا اعلان کافی نہیں بلکہ اس کے نتائج عوام تک پہنچنا ضروری ہوتے ہیں۔ قیمتوں کی مو¿ثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی، مقامی پیداوار میں اضافہ اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ہدفی ریلیف جیسے اقدامات وہ عملی راستے ہیں جن کے ذریعے مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
شاید ہماری معاشی گفتگو اکثر دو مختلف سطحوں پر چلتی ہے۔ ایک سطح وہ ہے جہاں اعداد و شمار، شرح نمو اور بیرونی کھاتے کی بات ہوتی ہے اور دوسری سطح وہ ہے جہاں ایک عام شہری اپنے روزمرہ اخراجات کا حساب لگاتا ہے۔ جب تک یہ دونوں سطحیں ایک دوسرے کے قریب نہیں آتیں، تب تک معاشی استحکام کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔ عوام کے لیے معیشت وہی ہے جو ان کے کچن، بجلی کے بل اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات میں نظر آتی ہے، نہ کہ وہ جو رپورٹوں کے صفحات میں درج ہوتی ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں مثبت اشاریے بھی موجود ہیں اور چیلنجز بھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسی سازی میں اس توازن کو مدنظر رکھا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو نہ صرف معیشت کو مستحکم کریں بلکہ کیونکہ معیشت کی اصل مضبوطی تب ہی ممکن ہے جب اس کے اثرات ہر فرد کی زندگی میں بہتری کی صورت میں ظاہر ہوں، نہ کہ صرف رپورٹوں کے الفاظ میں۔
مستحکم معیشت کی باز گشت اور مہنگائی کا عفریت
09:16 AM, 3 May, 2026