مصنوعی ذہانت کے باعث جی میل صارفین کیلئے خطرے کی گھنٹی، گوگل کا سکیورٹی اپ گریڈ کا مشورہ

07:40 PM, 3 May, 2025

کیلیفورنیا :ٹیکنالوجی کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے کئی شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر گوگل کی جی میل سروس استعمال کرنے والے صارفین کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

گوگل کی جانب سے جاری کردہ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ جی میل اکاؤنٹس کو ہدف بنانے والے فشنگ حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور ان حملوں کی نوعیت اے آئی کی مدد سے مزید پیچیدہ اور ناقابل شناخت ہو چکی ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ صارفین کو اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں جدید حفاظتی فیچرز کا استعمال شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں گوگل فشنگ حملوں کا سب سے بڑا ہدف بن چکا ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر مائیکروسافٹ ہے۔

ان حملوں کے ذریعے ہیکرز جی میل صارفین سے ان کی لاگ ان معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اے آئی کی ترقی کے ساتھ یہ حملے 2025 میں مزید مہلک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

گوگل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ کبھی بھی صارفین سے ان کے پاس ورڈ یا اکاؤنٹ کی تفصیلات فون یا ای میل کے ذریعے طلب نہیں کرتا، لہٰذا ایسے کسی رابطے کو دھوکہ دہی سمجھا جائے۔

ماہرین نے جی میل اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے ’پاس کیز‘ کے استعمال کی سفارش کی ہے۔ یہ نظام صارف کو بایومیٹرک (فنگر پرنٹ، چہرے کی شناخت) یا ڈیوائس لاک کے ذریعے سائن ان کرنے کی سہولت دیتا ہے، جو عام پاس ورڈز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر سیکیورٹی فراہم کرتا ہے۔

گوگل اب بھی پاس ورڈز کو بیک اپ کے طور پر برقرار رکھتا ہے، لیکن جیسے جیسے اے آئی کے ذریعے خطرات بڑھ رہے ہیں، سیکیورٹی کے روایتی طریقے ناکافی ہوتے جا رہے ہیں — جس پر نہ صرف ماہرین بلکہ ایف بی آئی کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

مزیدخبریں