پہلگام حملہ یا انتخابی چال؟ مودی کی سیاست پر سوالات اٹھنے لگے

11:47 AM, 3 May, 2025

نئی دہلی :بھارت میں سیاست اور سکیورٹی ایک بار پھر آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ پہلگام میں ہونے والے حملے کو محض دہشتگردی کا واقعہ قرار دینا اب مشکل ہو چکا ہے، کیونکہ بھارتی میڈیا اور سیاسی مبصرین اس سانحے کو ایک "فالس فلیگ آپریشن" قرار دے رہے ہیں — ایک ایسا حملہ جس کا مقصد سیاسی ہمدردی سمیٹنا اور انتخابات میں برتری حاصل کرنا ہو۔

پہلگام واقعے کے فوراً بعد نریندر مودی کی بہار میں اچانک انتخابی سرگرمیاں شروع ہو گئیں، جو عوامی اور اپوزیشن ردعمل کا باعث بنیں۔ آر جے ڈی اور کانگریس نے اس عمل کو غیر اخلاقی اور قابلِ مذمت قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایک جانب ملک سوگ میں ڈوبا ہوا ہو، اور دوسری جانب وزیراعظم ووٹ مانگ رہے ہوں، تو یہ حکومت کی ترجیحات پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

صحافتی حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ حملے کے وقت کی نوعیت، ردعمل کی تیزی، اور مودی کی مہم میں اچانک تیزی کیا واقعی ایک اتفاق ہے؟ یا یہ سب پہلے سے ترتیب دی گئی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے؟ راہول گاندھی کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کا اعلان اور مودی کی انتخابی مصروفیات اس تضاد کو مزید نمایاں کر رہی ہیں۔

مودی سرکار کے سیاسی مخالفین اب کھل کر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ "پہلگام ڈرامہ" بہار انتخابات جیتنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا — ایک ایسا بیانیہ جو وقت کے ساتھ زور پکڑ رہا ہے۔

مزیدخبریں