مشرقِ وسطیٰ میں حالات انتہائی سنگین، 700 سے زائد پاکستانی ایران سے وطن واپس پہنچ گئے: اسحاق ڈار

03:41 PM, 3 Mar, 2026

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور خلیجی ممالک کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں حالات بہت خراب ہیں، جس کے باعث حکومتِ پاکستان اپنے شہریوں کے محفوظ انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے ایران میں موجود پاکستانیوں اور اب تک کی واپسی کے عمل سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کیے  ۔ایران میں اس وقت مجموعی طور پر 35 ہزار پاکستانی مقیم ہیں، جن کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے ، اب تک 792 پاکستانی بحفاظت وطن پہنچ چکے ہیں جبکہ دیگر کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ 64 پاکستانیوں کو ایران سے آذربائیجان کے راستے نکالا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے اس مشکل گھڑی میں معاونت پر آذربائیجان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ 300 سے زائد ایرانی شہری بھی سرحد عبور کر کے تفتان کے راستے پاکستان پہنچے ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام سفارتی ذرائع استعمال کر کے اس بحران میں اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ 

تجزیہ: اسحاق ڈار کی اس بریفنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہو گئی ہے، اور پاکستان اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فرنٹ لائن پر موجود ہے۔

مزیدخبریں