افغان طالبان رجیم کو اندرونی بغاوت کا سامنا، امیر ملا ہیبت اللہ کا باغی کمانڈروں کو کچلنے کا ہنگامی حکم

01:48 PM, 3 Jun, 2026

کابل :افغانستان کی طالبان حکومت کے اندر طاقت کی شدید جنگ چھڑ گئی ہے۔ صوبہ بدخشاں کے بااثر مقامی کمانڈروں کی جانب سے کابل کی مرکزی قیادت کے خلاف کھلی سرکشی کے بعد، امیرِ طالبان ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اپنی حکومت کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ایک ہنگامی اور سخت ترین حکم نامہ جاری کیا ہے۔ حکم نامے میں سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ بغاوت کی پشت پناہی کرنے والے تمام مقامی کمانڈروں کو فی الفور گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے۔
        اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدخشاں کی سونے اور لاجورد کی قیمتی کانوں سے ہونے والی آمدنی پر کنٹرول اس تنازع کی اصل وجہ ہے۔ مقامی کمانڈر ان وسائل کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں جبکہ کابل کی قیادت تمام آمدنی مرکزی خزانے میں منتقل کرنے پر بضد ہے۔
        بدخشاں میں طالبان کی سخت پالیسیوں کے خلاف ہونے والے حالیہ عوامی مظاہروں نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب مقامی طالبان کمانڈروں نے مظاہرین کا ساتھ دیتے ہوئے کابل کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا۔
مرکزی قیادت نے بدخشاں کے اس نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو امارتِ اسلامیہ کے لیے بڑا سیکیورٹی رسک قرار دیا ہے۔ ملا ہیبت اللہ کے فیصلے کے مطابق، بدخشاں میں کسی بھی متوازی طاقت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور بغاوت کرنے والے کمانڈروں کے خلاف آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔
سٹریٹجک ماہرین کے مطابق، بدخشاں کی یہ بغاوت طالبان حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا داخلی چیلنج ہے۔ اگر کابل نے فوجی طاقت کے ذریعے مقامی کمانڈروں کو دبانے کی کوشش کی، تو تاجک اکثریتی صوبے بدخشاں میں طالبان کے خلاف ایک مستقل مزاحمتی تحریک دوبارہ جنم لے سکتی ہے جو پوری رجیم کے لیے خطرناک ہوگی۔

مزیدخبریں