دھمکی اور دعوتِ مصلحت ساتھ ساتھ: "ایران سے کل بھی بات ہوئی اور آج بھی،" صدر ٹرمپ کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری خفیہ مذاکرات کا دعوی

11:25 AM, 3 Jun, 2026

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری شدید فوجی تناؤ کے درمیان ایک نیا سیاسی کارڈ کھیل دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات رکنے کی تمام خبروں کو یکسر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے قائم ہیں اور تہران کے لیے اب امریکی شرائط پر کسی نہ کسی طرح معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
امریکی صدر نے پریس بریفنگ کے دوران حیران کن انکشاف کیا کہ "ایران سے مذاکرات ہرگز ختم نہیں ہوئے، ہماری کل بھی بات چیت ہوئی ہے اور آج بھی رابطہ ہوا ہے۔ انہوں نے سفارتی پیچیدگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "یہ بات چیت آخر کار کس سمت جائے گی، یہ اس وقت کوئی بھی نہیں جانتا۔ ٹرمپ نے تہران کو سخت ترین لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "پچھلے 47 سال سے ایران جو کچھ کرتا آ رہا ہے، امریکہ مزید ایسا ہرگز نہیں کرنے دے گا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ خلیجِ فارس میں جاری جنگی ماحول کے باوجود پسِ پردہ شدید ترین سفارتکاری جاری ہے۔ امریکہ ایک طرف ایران کی بحری ناکہ بندی کر کے اس پر دباؤ بڑھا رہا ہے، اور دوسری طرف صدر ٹرمپ خود ایران کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے بحران کا واحد حل امریکی شرائط پر نئی ڈیل کی قبولیت میں ہی ہے۔

مزیدخبریں