افواہوں کا بازار

09:12 AM, 3 Jun, 2026

کبھی کبھی افواہوں کی گرم بازاری بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ سرگوشیوں اور چہ میگوئیوں سے سازش پھوٹنے لگے تو خرابی کا آغاز ہوتا ہے۔آج کے دو رمیں سوشل میڈیا افواہوں کو ایسے پھیلاتا ہے جیسے جنگل میں آگ۔
 پختون خوا میں وزیر اعلیٰ کے تقرر کے بعدسازشیں عروج پر ہیں ،پی ٹی آئی کے مہربان اسے مرکز اور اسٹبلشمنٹ کی کارستانی قرار دے رہے ہیں، قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے کہ کچھ دنوں کے بعد‘اس منصب پہ کوئی دوسرا براجمان ہو گا۔
عوام کا مسئلہ کسی وزیر اعلیٰ کی تبدیلی نہیں بلکہ مہنگائی ہے ، مہنگائی کی موجودہ لہر کو صرف اندرونی معاشی کمزوریوں کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اصل دباﺅ اندرونی پالیسی مسائل کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی بحران اور خاص طور پر امریکہ ایران کشیدگی سے پیدا ہونے والی جغرافیائی غیر یقینی صورتحال سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں، جو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کو غیر مستحکم رکھتے ہیں اور بالآخر درآمدی معیشتوں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے گزشتہ عرصے میں عالمی توانائی منڈی کو بار بار جھٹکے دیے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور 25 فیصد ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، کسی بھی عسکری تناﺅ میں فوری طور پر حساس بن جاتی ہے۔ صرف خطرے کے بڑھنے سے ہی مارکیٹ میں ردعمل آتا ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ تناﺅ کے دوران برینٹ کروڈ آئل 75 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچا، یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ۔ یہی اضافہ ترقی پذیر ممالک کے لیے مہنگائی کا پہلا محرک بنتا ہے۔
پاکستان کا توانائی ڈھانچہ اس عالمی تبدیلی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ملک میں تقریباً 35 سے 40 فیصد بجلی تھرمل ذرائع سے پیدا ہوتی ہے، جو درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے۔ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے ،تو پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت میں اوسطاً 3 سے 5 روپے فی یونٹ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر فوری بوجھ منتقل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات گھریلو بل 20000 سے 40000 روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔
گیس کے شعبے میں بھی صورتحال کم سنگین نہیں۔ پاکستان کو سالانہ تقریباً 1200 سے 1500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی کمی کا سامنا ہے، جسے مہنگی ایل این جی درآمد کر کے پورا کیا جاتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت 2021,2022 کے بحران میں 8 سے 12 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک جا پہنچی تھی، اسی سطح کے اتار چڑھاﺅ کے اثرات اب بھی برقرار ہیں۔ اس کا اثر صنعتی پیداوار پر پڑتا ہے، جہاں توانائی لاگت مجموعی لاگت کا 25 سے 35 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ٹرانسپورٹ اور ایندھن کا شعبہ مہنگائی کا مرکزی محرک ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح کو تقریباً 0اعشاریہ3 سے 0اعشاریہ5 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ گزشتہ عرصے میں بعض اوقات پٹرولیم لیوی 60 سے 80 روپے فی لیٹر تک پہنچی، جو مجموعی ریٹیل قیمت کا 30 سے 40 فیصد حصہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر پٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر ہو تو اس میں 70 روپے تک صرف لیوی اور دیگر ٹیکس شامل ہو سکتے ہیں۔اسی طرح بجلی کے بلوں میں بھی اصل قیمت اور ادا کی جانے والی رقم میں بڑا فرق ہے۔ اوسطاً ایک صارف کے بل کا 35 سے 40 فیصد حصہ مختلف ٹیکسز، سرچارجز اور ایڈجسٹمنٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر کسی گھر کا بل 25000 روپے آئے تو اس میں 8000 سے 10000 روپے صرف ٹیکس اور اضافی چارجز ہوتے ہیں۔اندرونی سطح پر مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ ریونیو سسٹم کی کمزوری بھی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہر سال تقریباً 9 سے 10 ٹریلین روپے کا ہدف دیا جاتا ہے، مگر اکثر 300 سے 500 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آتا ہے۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے، جو بالآخر عام صارف پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ مجموعی ٹیکس ریونیو کا 60 فیصد سے زیادہ ہے۔جب ان تمام عوامل کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو تصویر واضح ہوتی ہے۔ ایک طرف امریکہ ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے عالمی تیل کی قیمتوں کو غیر مستحکم رکھتے ہیں، دوسری طرف پاکستان جیسے ممالک کا درآمدی انحصار اس جھٹکے کو براہِ راست اندرونی مہنگائی میں منتقل کر دیتا ہے۔ اس پر مستزاد ٹیکس اہداف کی ناکامی اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔
 صرف مہنگائی ہی واحد وجہ نہیں بلکہ کئی اور چیزیں بھی بحران کا سبب بنی ہوئی ہیں ، عالمی جغرافیائی سیاست، توانائی منڈی اور اندرونی مالیاتی کمزوریاں مل کر ایک مستقل دباﺅ پیدا کرتی ہیں۔ جب تک توانائی کے متبادل ذرائع، ٹیکس بیس کی توسیع اور درآمدی انحصار میں کمی نہیں لائی جاتی، اس دباﺅ میں فوری کمی ممکن نظر نہیں آتی۔جان لیوا مہنگائی میں افواہیں نہ پھوٹیں تو کیا پھوٹے گا؟ اس میں کنفیوڑن نہ بڑھے تو اور کیا ہوگا؟کسی نہ کسی کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ جن کی ذمہ داری ہے، وہ نہ کریں گے تو کوئی اور کرے گا۔

مزیدخبریں